عصرِ حاضرکی بین الاقوامی سیاست ایک ایسی کشتی پرسوارہے جوطوفانی سمندروں میں نہیں بلکہ انسانی ذہنوں،اقتصادی طاقتوں اور نظریاتی لابیوں کے جال میں بہتی ہے اورعصرِ حاضر کی بین الاقوامی سیاست، جس میں طاقت کے سکہ اور اصولوں کی کتابی حدود ہمیشہ ایک دوسرے سے ٹکرائے،آج ایک اورسنگ میل پرکھڑی ہے۔ دنیاکے نقشے پرجہاں اقتدار کے شعبدے اورقانون کے اصولوں کے درمیان خفیہ کشمکش جاری ہے، وہاں اصول صرف کاغذوں تک محدودرہ جاتے ہیں،طاقت کے سکے چلتے ہیں اوراخلاقیات کے چراغ مدھم پڑ جاتے ہیں۔بھارت میں حالیہ ایچ ون بی ویزا اورجعلی ڈگری اسکینڈل نے ایک ایساآئینہ پیش کیا ہے جوصرف مقامی سطح تک محدودنہیں، بلکہ عالمی افق پربھی اس کے گہرے اثرات محسوس کیے جاسکتے ہیں۔اسی روشنی اورسایے کی کشمکش میں بھارت کے ایچ ون بی ویزااورجعلی ڈگری اسکینڈل نے ایک ایساآئینہ پیش کیاہے جونہ صرف قوم کی خودی کاامتحان لیتاہے بلکہ عالمی سطح پراعتماد، شفافیت اورتعلیم کے معیارکوبھی جھنجھوڑکررکھ دیتا ہے۔ قوم کی بقا،جیسے گھرکی بنیاد،مضبوطی اورشفافیت پر منحصرہے، اوراگریہ بنیاد کھوکھلی ہوجائے توبلندو بالاعمارتیں بھی گرنے میں دیرنہیں لگاتیں۔
یہ واقعہ،جوکیرالہ کے ایک چھوٹے سے گروہ کی طرف سے منظم طریقے سے لاکھوں افرادکوجعلی اسناد فراہم کرنے کے انکشاف کے ساتھ سامنے آیا،محض ایک تعلیمی دھوکہ نہیں، بلکہ ایک ایساتاریخی وفکری سبق ہے،ایک ایساآئینہ ہے جس میں پوری قوم کی تعلیمی، اخلاقی اورسیاسی کمزوریوں کی عکاسی ہوتی ہے۔جریدے’’دی کمیون‘‘ کے انکشافات نے یہ واضح کیاکہ بھارت میں نہ صرف اعلی تعلیمی اداروں کی شفافیت پرسوالیہ نشان لگایاجارہاہے بلکہ عالمی ساکھ،ورک فورس کے معیار،اوربین الاقوامی اعتمادبھی شدیدمتاثرہوا ہے۔
یاد رہے کہ اس رپورٹ میں ہم انکشافات کے حقیقی اثرات،ذمہ داریوں کی تقسیم، اور بھارت کی بدنامی ونقصان کاتجزیہ کریں گے۔کس طرح یہ جعلسازی نہ صرف ملکی معیشت وتعلیم بلکہ بین الاقوامی تعلقات کوبھی جھنجھوڑرہی ہے،اورکس طرح یہ اسکینڈل ایک تاریخی اورسیاسی درس کے طورپر سامنے آیاہے۔
کیرالہ میں ایک منظم گروہ جس نے پورے بھارت میں10لاکھ سے زائد افراد کو جعلی ڈگریاں فراہم کیں،جونہ صرف مقامی ملازمتوں کیلئے بلکہ بیرونِ ملک، خصوصاامریکامیں ایچ ون بی ویزاکے حصول کیلئے استعمال ہورہی تھیں۔یہ ایک ایسانظامی دھوکہ ہے جو داخلی کمزوریوں اوراخلاقی غفلت کی انتہا کو ظاہر کرتاہے۔جریدے ’’دی کمیون‘‘کی رپورٹ کے مطابق ،اس نیٹ ورک نے 22یونیورسٹیوں کے ایک لاکھ سے زائد سرٹیفکیٹس کے جعلی ریکارڈ اور جعلی مہریں تیار کیں، اورمرکزی ملزم دھنیش عرف ڈینی گھر پر جعلی ڈگریوں کی پرنٹنگ میں مصروف تھا۔پولیس نے اس مکروہ دھندے میں ملوث کئی افراد کو گرفتار کیا، جبکہ 28یونیورسٹیوں کی جعلی مہریں اور مارک شیٹس بھی برآمدکی گئیں۔
یہ گروہ نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ بیرونِ ملک ملازمت کے خواہشمندافرادکوبھی دھوکہ دیتا تھا۔ میڈیکل،نرسنگ،انجینئرنگ سمیت100 سے زائد شعبوں کی جعلی ڈگریاں فراہم کی گئیں، خاص طور پرامریکامیں ایچ ون بی ویزاکے حصول کیلئے بھاری رشوت وصول کرتاتھا۔بھارتی شہری ایچ ون بی ویزا کیلئے بھاری رشوت دینے پر مجبور تھے۔ امریکی سینٹر فار امیگریشن اسٹڈیزکی ڈائریکٹر جیسیکاوان نے انکشاف کیاکہ بھارت میں ویزا کے عمل کوایک بڑافراڈقراردیاگیا،اوراس گروہ نے36ہزارسے زائدجعلی ڈگریاں فروخت کیں، جس کے نتیجے میں یومیہ200سے زائد ویزا جاری کیے گئے،جن میں80سے90فیصدمکمل طور پرجعلی تھے۔مہوش صدیقی،بھارتی نژادامریکی سفارت کار، نے بھارتی ریاست چنئی کے قونصل خانے کو دنیا کا سب سے بڑاایچ ون بی ویزا فراڈ کا مرکز قرار دیا۔جعلی ڈگریوں کی بنیادپربھارت نے متعدد ممالک میں غیرمعیاری پیشہ وربھیجے،جس سے صحت، تعلیم،اور انجینئرنگ کے شعبوں میں منفی اثر اور معیارمتاثر ہوا۔میڈیکل اورنرسنگ کے شعبوں میں ناقص افرادکے داخلے نے انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا،اور جہاں انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ناقص کام نے معیشت اورانفراسٹرکچر کونقصان پہنچایا وہاں ان جعلی ڈگریوں کے حامل افرادنے اس شعبے میں کام کی غیر معیاریت اوربنیادی ڈھانچے کوشدید ترین نقصان پہنچایا۔ یہ صورتحال اس قول کی یاد دلاتی ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں اوردعوں سے نہیں،بلکہ علم، اخلاق اوراتحادسے قائم رہتی ہیں۔
اس اسکینڈل کی ذمہ داری محض مرکزی ملزم پرنہیں،بلکہ ایک پورے نظامی خلاکی عکاس ہے۔ ویزاکے حصول اوریونیورسٹیوں کی نگرانی میں حکومت اورانتظامیہ کی کوتاہی اوربدعنوانی کا عنصر شامل ہے۔تعلیمی ادارے اسناداورڈگریوں کی تصدیق میں ناکام ہوچکے ہیں۔مقامی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ حکومتی،اورسیاسی افرادکااخلاقی ذمہ داریوں سے آنکھیں بند رکھنااوررشوت کی سیاست کا عام چلن بھی ذمہ دارہے۔ویزاکے عمل میں ناکافی نگرانی اورشفافیت کی کمی میں بین الاقوامی ادارے بھی کسی حدتک شامل ہوچکے ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کرایک ایسابحران پیدا کرتے ہیں جس کے اثرات نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سطح تک محسوس کیے جاتے ہیں۔یہ تمام عناصر مل کراس بحران کوجنم دیتے ہیں، اور ظاہرکرتے ہیں کہ صرف مرکزی ملزم کو گرفتار کرناکافی نہیں،بلکہ نظام کی اصلاح ناگزیرہے۔
یہ اسکینڈل صرف بھارت کی داخلی بدنامی تک محدودنہیں۔ایچ ون بی ویزاکی فراڈ سرگرمیوں نے عالمی ورک فورس،بین الاقوامی اعتماد، اورامیگریشن سسٹم کی شفافیت کوبھی متاثر کیا ۔ امریکااوردیگر ممالک میں بھرتی ہونے والے افرادکے جعلی اسنادپرسوال اٹھتے ہیں،اور عالمی سطح پر اعتمادکی کمی پیداہوتی ہے۔ اس معاملے سے یہ سبق بھی ملتاہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں شفافیت اوراخلاقی معیارصرف رسمی اقدامات سے قائم نہیں رہتے،بلکہ داخلی نظم وضبط، احتساب اوراداروں کی مضبوطی سے ممکن ہیں۔
یہ واقعہ ایک تاریخی آئینہ ہے اوربھارتی قوم کی اخلاقی کمزوری اورتعلیمی نظام کی ناکامی بالکل ویسے ہی ہے جیسے ماضی میں کمزورحکومتیں اپنے داخلی عیبوں کی وجہ سے زوال پذیرہوئیں ۔ بھارت کایہ اسکینڈل واضح کرتاہے کہ جب یہ عناصر کمزور ہوں،تو بیرونی اورداخلی نقصان اور عالمی بدنامی ناگزیر ہے۔بھارت میں ایچ ون بی ویزا اورجعلی ڈگری اسکینڈل نے نہ صرف قومی تعلیمی اور اخلاقی معیارکوبدنام کیا،بلکہ عالمی سطح پرجہاں بھارت کی ساکھ،ورک فورس کے معیار،اوربین الاقوامی اعتمادکوشدیدنقصان پہنچایا وہاں اخلاقی معیارکوبھی بدنام کیاہے۔یہ واقعہ یاددلاتا ہے کہ ہرقوم کی ترقی اوربین الاقوامی اعتمادکاانحصار صرف سرکاری دعوئوں یارسمی اسنادپرنہیں،بلکہ اصلاح، خوداحتسابی، اور شفاف نگرانی پرہے۔
اس اسکینڈل نے یہ بھی واضح کیاکہ ذمہ داری کا دائرہ وسیع ہے:حکومت کی کوتاہی، یونیورسٹیوں کی ناقص نگرانی،نجی نیٹ ورکس کی جعلسازی ،اور افرادکی اخلاقی غفلت سب نے مل کر اس بحران کوجنم دیا۔
