جنگ ’’بنیان مرصوص‘‘کے بعد سے انڈیا کے بدمعاش وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے پاکستان کو دھمکیاں دی جا رہی تھیں ،مئی میں پاک فوج کے ہاتھوں شکست فاش کھانے کے بعد مودی پاکستان سے بدلہ لینے کا اعلان کر رہا تھا، اس نے انڈیا کے کئی مقامات پر عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو کھلی دھمکیاں دیں ،کوئی بتائے یا نہ بتائے مگر میرا وجدان کہتا ہے کہ ہمارا بلوچستان آج ایک مرتبہ پھر جوآگ و خون، بارود اور خوف کی زد میں ہے۔ کوئٹہ سمیت صوبے کے 12 سے زائد شہروں میں بیک وقت ہونے والی منظم دہشت گرد کارروائیوں کی سرپرستی انڈین ایجنسی ’’را‘‘ کر رہی ہے، دہشت گردی کی ان کارروائیوں نے صرف ریاستی رِٹ کو ہی چیلنج نہیں کیا، بلکہ اس تلخ حقیقت کو بھی بے نقاب کر دیا کہ محض عسکری کامیابیاں اس مسئلے کا مکمل حل نہیں بن سکتیں۔ حالیہ واقعات میں سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور بھرپور جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ایک بڑے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا، تاہم انسانی جانوں کا ضیاع، شہری آبادی کو نشانہ بنانا اور مسلسل ابھرتی شورش یہ سوال چھوڑ جاتی ہے کہ آخر یہ آگ بجھ کیوں نہیں رہی؟ دہشت گردی کی کمر بار بار ٹوٹنے کے باوجود دوبارہ جڑ کیسے جاتی ہے؟ سرکاری اور سیکورٹی ذرائع کی مجموعی معلومات کو سامنے رکھا جائے تو گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں دہشت گردوں کی کم از کم بارہ مربوط یلغاریں کی گئیں۔ ان حملوں کا دائرہ کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی، گوادر، مستونگ، مچھ، خاران اور دیگر علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔
ریاستی ردعمل غیر معمولی رہا اور مختلف کلیئرنس و تعاقبی آپریشنز میں مجموعی طور پر 145سے زائددہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق سامنے آئی۔ اس دوران پولیس اور سیکورٹی فورسز کے 10جوان جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ شہری سطح پر سب سے دلخراش پہلو عام شہریوں، خواتین اور بچوں کی شہادتیں ہیں، جن میں گوادر میں ایک مزدور خاندان کے افراد اور خاران میں ایک سیاسی رہنما کے اہلِ خانہ کو نشانہ بنایا جانا شامل ہے۔ حملوں کی نوعیت سے واضح ہوتا ہے کہ یہ محض وقتی یا جذباتی کارروائیاں نہیں تھیں، بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت ریاستی تنصیبات، سیکورٹی مراکز، جیل، انتظامی افسران کی رہائش گاہوں، بینکوں اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس میں شک نہیں کہ خطے کی جغرافیائی سیاست، غیر مستحکم صورتِ حال اور علاقائی طاقتوں کے مفادات بلوچستان کو ایک حساس میدان بناتے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اگر بیرونی ہاتھ نہ بھی ہو تو کیا اندرونی عوامل اتنے کمزور ہیں کہ دہشت گردی خود بخود دم توڑ دے؟ بدقسمتی سے اس کا جواب نفی میں ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے اسباب محض بندوق یا سرحد پار روابط تک محدود نہیں۔ یہ مسئلہ دہائیوں پر محیط سیاسی محرومی، معاشی پسماندگی، احساسِ بے گانگی، وسائل پر اختیار کے تنازع، کمزور حکمرانی اور مسلسل نظرانداز کئے جانے والے سماجی مسائل سے جڑا ہوا ہے۔ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود بنیادی سہولیات، معیاری تعلیم، صحت، روزگار اور انفرا اسٹرکچر کے شدید بحران کا شکار ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگاری، ناامیدی اور عدم تحفظ کے احساس میں پل رہی ہے، جسے شدت پسند تنظیمیں اپنے بیانیے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ ریاست کی جانب سے زیادہ تر توجہ سیکورٹی آپریشنز اور عسکری کامیابیوں پر مرکوز رہی ہے۔
بلاشبہ یہ آپریشن ناگزیر ہیں اور حالیہ کارروائیوں نے یہ ثابت بھی کیا کہ سیکورٹی فورسز میں دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہر کامیاب آپریشن کے بعد اگر وہی سماجی، سیاسی اور معاشی حالات برقرار رہیں تو نئے چہرے، نئے ناموں سے دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف ہلاکتوں کے اعداد و شمار بڑھ رہے ہیں اور دوسری طرف حملوں کا تسلسل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ بلوچستان میں مقامی سیاسی عمل کی کمزوری، حقیقی نمائندگی کا فقدان اور فیصلوں میں عوامی شمولیت نہ ہونا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اکثر ترقیاتی منصوبے یا تو کاغذوں میں رہ جاتے ہیں یا ان کا فائدہ مقامی آبادی تک نہیں پہنچتا۔ گوادر جیسے میگا پراجیکٹس کے باوجود مقامی آبادی خود کو دیوار سے لگا ہوا محسوس کرتی ہے۔ جب ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہو جائے تو شدت پسند نظریات کے لئے جگہ بننا آسان ہو جاتا ہے۔ اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے محض بیانات، وقتی پیکیجز یا وقتی عسکری دبائو کافی نہیں۔ ایک جامع، طویل المدتی اور ہمہ جہت لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے بلوچستان کے عوام کو یہ عملی احساس دلانا ہوگا کہ وہ اس ریاست کے برابر کے شہری ہیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبے میں ہنگامی بنیادوں پر سرمایہ کاری، دور دراز علاقوں میں سکولوں اور ہسپتالوں کی فعالی، مقامی نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع اور وسائل پر مقامی آبادی کے حقِ ملکیت کو یقینی بنانا ہوگا۔ سیاسی سطح پر حقیقی مفاہمت، ناراض طبقات سے بامعنی مکالمہ اور طاقت کے بجائے اعتماد سازی کی پالیسی اپنانا ہوگی۔ ایسے افراد جو ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئے، ان کے لئے واپسی کے باعزت راستے، بحالی کے پروگرام اور سماجی انضمام کی حکمتِ عملی ترتیب دینا ضروری ہے۔ ساتھ ہی ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مقامی آبادی کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے، شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ سیکورٹی آپریشنز نفرت کے بجائے تحفظ کا احساس پیدا کریں۔
