پاکستان کی تاریخ میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جو محض ایک ملاقات نہیں بلکہ ایک علامت بن جاتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا جامعہ دارالعلوم کراچی کا دورہ بھی ایسا ہی ایک اہم لمحہ ہے، جو ریاست اور دینی طبقات کے درمیان فاصلے کم کرنے اور باہمی اعتماد کو مضبوط بنانے کی ایک قابلِ قدر کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،اس لئے پاک فوج کے ترجمان کے ’’دورہ دارالعلوم‘‘کے مثبت نتائج کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔ گو کہ بعض ’’مالیخولیا‘‘ کے مریضوں کا ’’مرض‘‘پاک فوج کے ترجمان کے اس دورے سے مزید بڑھ گیا ہے اور وہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس دورے کو بھی ’’امریکن برانڈ آنکھ‘‘سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ،مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس دورے نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان میں مذہبی طبقہ اور ریاستی ادارے ایک دوسرے کے مدِ مقابل نہیں، بلکہ ملکی سلامتی، استحکام اور فکری وحدت کے لئے ایک ہی پیج پر ہیں ۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی آمد پر مفتی تقی عثمانی اور علماء کرام کی جانب سے پرتپاک استقبال اس بات کا اظہار تھا کہ دینی مدارس اور فوج کے درمیان احترام اور مکالمے کی روایت زندہ ہے۔ مفتی تقی عثمانی کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں کی تحسین اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ پاکستان کے دینی حلقے ملک دشمن قوتوں کے خلاف ہمیشہ ریاست کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ یہ امر نہایت اہم ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ دورہ محض ایک رسمی ملاقات تک محدود نہ رہے بلکہ اسے ایک مستقل پالیسی اور سوچ کا حصہ بنایا جائے۔ پاکستان میں ہزاروں دینی مدارس موجود ہیں، جہاں لاکھوں طلبہ زیرتعلیم ہیں۔ اگر ریاستی ادارے، بالخصوص فوج، ان مدارس کے اکابرین سے براہِ راست رابطہ بڑھائے، ان کے مسائل سنے، ان کی خدمات کو تسلیم کرئے اور انہیں قومی دھارے میں مزید فعال کردار ادا کرنے کا موقع دے تو اس سے نہ صرف غلط فہمیاں ختم ہوں گی بلکہ دشمن قوتوں کے پروپیگنڈے کو بھی ناکام بنایا جا سکے گا۔دینی مدارس اور فوج کے درمیان تعلق کوئی نیا نہیں۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک مذہبی طبقہ اور افواجِ پاکستان کا رشتہ ایک فکری اور نظریاتی بنیاد پر قائم رہا ہے۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے، جس کی اساس کلمہ طیبہ پر رکھی گئی۔ اس نظرئیے کی حفاظت میں جہاں فوج نے قربانیاں دی ہیں، وہیں دینی مدارس اور علماء نے بھی فکری محاذ پر کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشکل حالات میں مذہبی طبقہ ہمیشہ ریاست کے ساتھ کھڑا نظر آیا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں بعض ادوار میں دینی مدارس اور مذہبی طبقے کو مختلف نوعیت کے مظالم اور غلط فہمیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض حلقوں نے دانستہ یا نادانستہ طور پر دینی مدارس کو انتہا پسندی سے جوڑنے کی کوشش کی، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پاکستان کے دینی مدارس نے کبھی بھی ریاست کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھایا، نہ ہی ملک کی سلامتی کے خلاف کوئی منظم جدوجہد کی۔ اس کے برعکس، مذہبی طبقہ نے ہمیشہ افواجِ پاکستان کو احترام کی نگاہ سے دیکھا اور قومی یکجہتی کو مقدم رکھا۔یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر دینی مدارس اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلے کیوں پیدا ہوئے؟ اس کی ایک بڑی وجہ مکالمے کی کمی اور غلط فہمیوں کا فروغ ہے۔ جب ریاستی ادارے مذہبی طبقے سے براہِ راست بات نہیں کرتے، اور مذہبی حلقے ریاستی پالیسیوں کو محض دور سے دیکھتے ہیں، تو بدگمانیاں جنم لیتی ہیں۔ ایسے میں دشمن قوتیں ان فاصلات کو بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا دورہ اسی خلا کو پر کرنے کی ایک مثبت مثال ہے۔مفتی تقی عثمانی کا کردار اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ وہ نہ صرف یہ کہ نامور عالم دین ہیں، بلکہ اعتدال، حکمت اور فہم و فراست کی علامت بھی ہیں۔ ان کی جانب سے افواجِ پاکستان کے لئے دعا اور تعاون کی یقین دہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہبی قیادت ملک کی سلامتی کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ نمازِ جمعہ کے بعد پاکستان کی سالمیت اور افواجِ پاکستان کی کامیابی کے لئے دعا محض ایک مذہبی عمل نہیں بلکہ قومی شعور کی عکاسی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طرح کے روابط کو مزید مضبوط کیا جائے۔ فوج اور دینی مدارس کے درمیان مشترکہ مکالمے، سیمینارز، تربیتی نشستیں اور فکری تبادلے کا اہتمام ہونا چاہیے۔ اس سے نہ صرف ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملے گا بلکہ نوجوان نسل کو بھی یہ پیغام ملے گا کہ مذہب اور ریاست ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ معاون ہیں۔پاکستان کو اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر چیلنجز کا سامنا ہے۔ دہشت گردی، فکری انتشار، معاشی مسائل اور عالمی دبا ایسے عوامل ہیں جن کا مقابلہ صرف فوج یا صرف مذہبی طبقہ نہیں کر سکتا۔ اس کے لئے قومی وحدت، فکری ہم آہنگی اور باہمی اعتماد ضروری ہے۔ جب فوج اور دینی مدارس ایک دوسرے کے قریب آئیں گے تو یہ اتحاد ملک دشمن قوتوں کے لئے ایک مضبوط پیغام ہوگا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا جامعہ دارالعلوم کراچی کا دورہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان میں اصل طاقت اتحاد اور مکالمے میں ہے، نہ کہ فاصلے اور بدگمانی میں۔ اگر اس روایت کو آگے بڑھایا گیا، اگر دیگر مدارس تک بھی یہ رابطہ پہنچایا گیا، اور اگر مذہبی طبقے اور فوج کے درمیان موجود دوریوں کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی گئیں، تو یقینا پاکستان ایک زیادہ مضبوط، مستحکم اور متحد ریاست کے طور پر ابھرے گا۔یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مولانا فضل الرحمن اسی وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست اعلیٰ ہیں کہ جس کے سربراہ مفتی تقی عثمانی سے ڈی جی آئی ایس پی آر کی تفصیلی ملاقات ہوئی ،اس لئے ’’مولانا‘‘کو فوج مخالف ثابت کرنے والے مالیخولیا کے مریضوں کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے ،اس خاکسار کا یہ لکھنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ دورہ محض ایک خبر نہیں ،بلکہ ایک امید ہے۔ امید اس بات کی کہ پاکستان میں مذہبی طبقہ اور فوج ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کریں گے۔ ’’امید‘‘اس بات کی کہ غلط فہمیاں ختم ہوں گی اور اعتماد کی فضاء قائم ہوگی۔ اور ’’امید‘‘اس بات کی کہ پاکستان کا نظریاتی اور جغرافیائی تحفظ ایک مشترکہ جدوجہد کے ذریعے مزید مضبوط ہوگا۔
