Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

بلوچستان! علماء کے ساتھ ایک مجلس اور حکومتی موقف

لنڈے کے لبرل، سیکولر شدت پسندوں اور ہمارے حکمرانوں نے بھارت کو ہمیشہ ’’ریلیف‘‘دینے کی کوشش کی، لیکن بھارتی فوج بھارتی میڈیا اور بھارت کے حکمرانوں نے پاکستانی قوم کو جواب میں ہمیشہ تکلیف دی، پاکستانی قوم کو ’’دانش فروشوں‘‘کا وہ گروہ اج تک یاد ہے کہ جس نے ’’امن کی آشا‘‘کے نام پر نوٹوں کا کاروبار چمکایا ہوا تھا، پاکستانی عوام ان اینکرز اور اینکرنیوں کے منحوس چہروں سے بھی واقف ہیں کہ جو ٹاک شوز کے ذریعے پاکستان کے عوام کے دلوں میں دہلی اور بمبئی کی محبت کو راسخ کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا رہے، مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ پاکستان میں ’’دانشوری‘‘ کے نام پر ’’دانش فروشی‘‘کو پروان چڑھانے والے معروف نام انڈین لابی سے ہی منسلک ہیں،اگر یہاں انصاف نام کی کوئی چیز ہوتی تو آج امن کی آشا اینڈ کمپنی کو کٹہرے میں کھڑا کر کے پوچھا جانا ضروری تھا کہ ’’دولت کے بندو!تم زمین کے کیسے بیٹے ہو کہ جو ماں دھرتی کی سودا بازی کر تے ہو ے بھی نہیں ڈرتے ، ہمارے دوست مولانا امتیاز عباسی انتہائی متحرک مذہبی سیاسی کارکن اور جمعیت علماء اسلام آزاد کشمیر کے سینئر نائب امیر بھی ہیں ان کی ہمراہی میں گزشتہ ہفتے بلوچستان میں دارالعلوم اسلامیہ جامعہ عشرہ مبشرہ ساکران میں جانا ہوا تو وہاں پر مولانا عبد الکریم سملانی نے پرخلوص ضیافت کا اہتمام کر رکھا تھا ،ضیافت میں مولانا اشرف سملانی ، مولانا یعقوب ساسولی کے علاہ جمعیت علماء اسلام کے دیگر بلوچ علماء بھی مو جود تھے،علماء بلوچستان کی اس مجلس میں کھل کر بلوچستان کے سلگتے مسائل ،اور وہاں کی خطرناک موجودہ صورت حال پر گفتگو ہوئی ،قائد کشمیر مولانا امتیاز عباسی نے بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل کے حوالے سے بلوچ علماء کرام سے متعدد سوالات کئے اور اس بات کا اظہار کیا کہ کشمیر،گلگت بلتستان ،کے پی کے،سندھ، پنجاب کے کروڑوں عوام کے دل بلوچستان کے عوام کے دلوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں،ہر پاکستانی کے حقوق کی ضمانت آئین میں موجود ہے ،جمعیت علماء اسلام عوام میں ’’جوڑ‘‘پیدا کرنے کی قائل ہے ،ہم ’’توڑ‘‘پیدا کرنے والی قوتوں کو مسترد کرتے ہیں۔
بلوچستان پاکستان کا دل ہے اسے علیحدہ کرنے کے خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت کے باسی ہیں،یہ خاکسار تو بلوچ علماء کی پاکستان کے حوالے سے محبت سے لبریز گفتگو سن کر سر شار ہو گیا،مولانا یعقوب ساسولی اور مولانا سملانی برادران جس طرح سے ’’عشق پاکستان‘‘میں مبتلا تھے وہ اپنی مثال آپ تھا،وہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کے مکمل داعی مگر اپنے قائد مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ان حقوق کے حصول کے لئے پرامن جدوجہد کے قائل تھے،مولانا امتیاز عباسی کا کہنا تھا کہ بھارت کے پراکسیز میڈیا میں گھسے ہوئے دانشوروں اور صحافیوں کے روپ میں ہوں یا این جی اوز اور بی ایل اے بھیس میں ،ملکی سلامتی کے لئے سب کے ساتھ یکساں سلوک کرنا پڑے گا،اب بڑھتے ہیں حکومتی موقف کی طرف ،وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہتے ہیں کہ دہشت گردوں سے ہزار سال لڑینگے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔مذاکرات سے متعلق ایک سوال کے جواب وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا یہ لوگ بلوچ عوام کو ہندوستان کی ایما پر ایندھن کیوں بنا رہے ہیں، بی ایل اے کوئی رجسٹرڈ جماعت ہے جس سے مذاکرات کرنے ہیں؟ یہ بندوق کے زور پر اپنا نظریہ ہم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا اس جنگ اور تشدد کو محرومی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، ہم ایک مارٹر مار کر انہیں ہلاک کر سکتے تھے مگر شہری بھی مارے جاتے، دہشت گردوں کو بلوں سے نکالیں گے اور ختم کریں گے۔
ادھر سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پورے ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کریں گے۔ مسنگ پرسن ٹوٹل فراڈ ہے،زیادہ تر لاپتہ افراد کالعدم بی ایل اے کے ممبران ہیں، جب دہشت گرد مارے جاتے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ ان کا نام لاپتہ افراد میں شامل ہے، ان کے لواحقین لاپتہ افراد کا الائونس بھی لیتے ہیں اور یہ لوگ چھوٹے بچوں اور خواتین کو استعمال بھی کر رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہحالیہ حملوں میں 2 جگہ خواتین کو استعمال کیا گیا، یہ ہمیں دوبارہ معاشی اندھیروں میں دھکیلنا چاہتے ہیں، جو لوگ گرفتار کئے گئے ہیں ان کے انکشافات سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں بھارت ملوث ہے، بی ایل اے ایک فارن فنڈڈ دہشت گرد تنظیم ہے، یہ دیگرمما لک میں بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا مکمل طور پر خاتمہ کریں گے۔ کوئٹہ سریاب روڈ پر واقعہ ہوا، دالبندین ایف سی ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملہ ہوا، نوشکی میں بھی حملہ کیا گیا۔ 12مقامات کو ٹارگٹ کیا گیا، دہشت گرد بے شمار لاشیں چھوڑ کر فرار ہوگئے، ہماری افواج اس وقت بھی آپریشن میں لگی ہوئی ہیں۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے انسانی حقوق کا لبادہ بھی اوڑھ رکھا ہے، یہ مسنگ پرسن ٹوٹل فراڈ ہے، صرف ایک بیانیہ بنایا گیا ہے، ان کے زیادہ تر لوگ دبئی اور مسقط میں رہتے ہیں، اب یہ خواتین اور بچوں کو بھی استعمال کر رہے ہیں۔
کراچی میں جو خود کش بمبار بچی پکڑی گئی اس نے اعتراف کیا کہ اس کی ذہن سازی کی گئی، اب انہوں نے غریب لوگوں کو ٹارگٹ کرنا شروع کیا ہے، حالیہ ٹارگٹ میں سارے کے سارے نیوٹلائز ہو چکے ہیں، جیسے جیسے سہولت کاروں کا پتہ چلتا ہے انہیں ختم کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حملہ کیا گیا، 12 مقامات کو ٹارگٹ کیا گیا، دہشت گرد بے شمار لاشیں چھوڑ کر فرار ہوگئے، ہماری افواج اس وقت بھی آپریشن میں لگی ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی اسرائیل کی خوشنودی، امریکا کی قربت کے لئے مجرے کراتا ہے اور خود بھی ڈانس کرتا ہے، یہ میں نہیں کہہ رہا، ہندوستان کی کانگریس پارٹی کہہ رہی ہے، ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان نے ہندوستان کے 7جہاز گرائے۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑنے کہا ہے کہ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی جانب سے بزدلانہ حملہ کیا گیا،سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو شکست دی، سلامتی کے ادارے پراکسیز کا خاتمہ کر کے دم لیں گے۔ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی جانب سے بزدلانہ حملہ کیا گیا،بلوچستان میں سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو شکست دی، سلامتی کے ادارے پراکسیز کا خاتمہ کر کے دم لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں