جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے بارے میں قرآن مجید نے بیسیوں نہیں سینکڑوں آیات میں ذکر کیا ہے، اور اس کا سب سے پہلا مرحلہ جو قرآن مجید نے ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نسلِ انسانی کو پیدا کرنے سے پہلے میں نے حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی ارواح کو اکٹھا کیا اور ان سے ایک عہد لیا تھا جسے ’’میثاق النبیین‘‘ کہتے ہیں۔ یہ عہد جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہے ’’واذ اخذ اللہ میثاق النبیین‘‘ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں سے میثاق لیا۔ وعدہ یکطرفہ ہوتا ہے اور میثاق دو طرفہ ہوتا ہے۔ ایک کام ایک فریق نے کرنا ہوتا ہے،اور ایک کام دوسرے فریق نے کرناہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سے میثاق لیا تھا یعنی ایک کام کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا تھا اور ایک کام کا وعدہ انبیاء کرامؑ نےکیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’لما اٰتیتیکم من کتاب و حکمۃ‘‘ کہ میں تمہیں کتاب،وحی،شریعت اورحکمت دوں گا اور نبی بنا کر بھیجوں گا، تم دنیا میں جاکر اپنا اپنا وقت گزارو گے اور لوگوں کو میری توحید کی دعوت دو گے۔ ’’ثم جاءکم رسول مصدق لما معکم‘‘ جب تم سارے پیغمبر اپنی مدت پوری کر چکے ہو گےپھر تم سب کے بعد ایک رسول آئے گا، اس آخر الزمان پیغمبر کا کام یہ ہوگا کہ وہ تم سب کی تعلیمات کی تصدیق کرے گا۔ وہ دنیاکو بتائے گا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے بھی ٹھیک کہا تھا،حضرت نوح علیہ السلام نے بھی درست کہا تھا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی صحیح کہا تھا۔ دو کام تمہارے ذمے ہیں ’’لتؤمنن بہ ولتنصرنہ‘‘ البتہ ضرور تم اس پر ایمان لاؤ گےاور اس کی مدد کرو گے۔ اس میں البتہ اور ضرور کی دو تاکیدیں شامل ہیں۔ یہ فرمانےکےبعد اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرامؑ سے پوچھا ’’ءاقررتم واخذتم علیٰ ذٰلکم اصری؟‘‘ کیا تم اقرار کرتے ہو اور اس پر مجھ سے عہد کرتے ہو؟ انبیاء کرام نے کہا ’’ اقررنا ‘‘ جی ہم اقرار اور عہدکرتے ہیں۔ ’’قال فاشہدوا وانا معکم من الشاہدین‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا گواہ ہو جاؤ، میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔
یہ میثاق اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ذکر کیا ہے۔ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کو جب ترتیب سے بیان کریں گے تو سب سے پہلے ’’میثاق النبیین‘‘ کا ذکر آئے گا ۔ اس عہد کے مطابق اللہ رب العزت نے تو اپنا کام یہ کیا کہ حضرات انبیاء کرامؑ کو وحی، کتاب اور حکمت عطا کی۔ اب ہم اس پر بات کرتے ہیں کہ حضرات انبیاء کرامؑ نے جو کام اپنے ذمے لیے تھے انہوں نے یہ کب، کہاں اور کیسے کیے تھے؟ وعدہ کرنے والے پیغمبر ہیں اور وعدہ اللہ رب العزت سے کیا ہے تو اس سے پکا وعدہ کونسا ہو سکتا ہے؟ صرف وعدہ نہیں کیا بلکہ گواہی اور شہادت بھی دی۔ لیکن حضرات انبیاء کرامؑ تو دنیا میں آ کر اپنا اپنا وقت گزار کر چلے گئے جبکہ حضور نبی کریمؐ سب سے آخر میں آئے تھے تو اس عہد کے مطابق انبیاء کرامؑ کب حضور نبی کریمؐ پر ایمان لائے اور انہوں نے آپؐ کی مدد کہاں کی ؟
یعنی ’’لتومنن بہ‘‘ کہاں ہوا تھا اور ’’لتنصرنہ‘‘ کہاں ہوا تھا؟ مفسرین اس پر بحث کرتے ہیں اور سب سے جامع بحث خاتم المحدثین مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ نے کی ہے، انہوں نے بہت عقدے کھولے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ایمان لانے کے وعدے کی تکمیل معراج کی رات مسجد اقصیٰ میں ہوئی تھی۔ معراج کی حکمتوں میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اللہ رب العزت نے پیغمبروں سے وعدہ لے رکھا تھا کہ تم سب نے جناب نبی کریمؐ پر ایمان لانا ہے۔ انہوں نے اقرار کیا تھا تو اس وعدے کی تکمیل کے لیے معراج کی رات اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرامؑ کو اکٹھا کیا۔ حضورؐ ارشاد فرماتے ہیں کہ جب میں مسجد اقصیٰ پہنچا تو انبیاءؑ کی صفیں بنی ہوئی تھیں، جبریل علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور مصلیٰ پر کھڑا کر دیا کہ نماز آپ پڑھائیں گے ۔ جب تمام انبیاء کرامؑ نے ”پیچھے اس امام کے“ کہہ کر حضور ؐ کی اقتدا میں نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا وعدہ پورا ہوگیا۔ مسجد اقصیٰ کے ساتھ ہمارے اور تعلق بھی ہیں لیکن ہمارا سب سے بڑا تعلق یہ ہےکہ وہ جناب نبی کریمؐ کو امام الانبیاءؑ کا منصب ملنے کی جگہ ہے، اللہ رب العزت نے آپؐ کو عملاً امام الانبیاء مسجد اقصیٰ میں بنایا تھا۔
دوسرا وعدہ ’’لتنصرنہ‘‘ کہاں پورا ہوا کہ تم سب انبیاء کرام نبی آخر الزمانؐ کی مدد کرو گے۔ اس پر مفسرین کرامؒ فرماتے ہیں کہ فرض دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک فرضِ عین اور دوسرا فرضِ کفایہ۔ فرض عین وہ ہوتا ہے جو سب نے کرنا ہوتا ہے۔فرض کفایہ وہ ہوتا ہے جو چند لوگ کر لیں تو سب کی طرف سے ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر پانچ وقت کی نماز فرضِ عین ہے، جبکہ نمازِ جنازہ فرضِ کفایہ ہے۔ ویسے آج کل ہماری ترتیب الٹ ہے، ہم نماز جنازہ کو فرضِ عین سمجھتے ہیں اور پانچ وقت کی نماز کو فرضِ کفایہ سمجھتے ہیں۔ ہمارے ہاں آج کل یہی ہے کہ جنازہ پر تو لازماً جانا ہے، لیکن فرض نماز کوئی بھائی یا چچا پڑھ آئے گا تو سب کی طرف سے ہو جائے گی۔ لیکن اصل یہ ہے کہ پانچ وقت کی نماز تو سب نے پڑھنی ہے، البتہ جنازہ کچھ نے پڑھ لیا تو سب کی طرف سے ہو جائے گا، ہاں اگر کسی نے بھی جنازہ نہیں پڑھا تو سب گنہگار ہوں گے۔
یہ بات سامنے رکھ مفسرین کرامؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ’’لتؤمنن بہ‘‘ کا وعدہ معراج کی رات پورا کروایا جبکہ ’’لتنصرنہ‘‘ کے وعدے کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک جلیل القدر پیغمبر حضرت عیسٰی علیہ السلام کو زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا تھا جو سب انبیاء کی طرف سے فرض کفایہ ادا کریں گے۔ وہ انتظار میں ہیں کہ کب اللہ کا حکم ہو تو وہ زمین پر آئیں۔
یہودیوں نے دعوٰی کیا تھا کہ ہم نے حضرت عیسٰیؑ کو سولی پر چڑھا دیا ہے۔ عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہےکہ حضرت عیسیٰؑ سولی چڑھ گئے تھے، صلیب اسی کا نشان ہے۔ عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق وہ تین دن قبر میں رہے پھر زندہ کر کے آسمانوں پر اٹھائے گئے ۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ یہ بات غلط ہے ’’وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم‘‘ کہ نہ وہ انہیں قتل کر سکے اور نہ سولی چڑھا سکے بلکہ وہ شبہ میں پڑ گئے تھے۔ (جاری ہے)
