Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

رمضان کی ساعتیں اور غزہ کا کربناک بحران

رمضان المبارک کی ساعتیں ہر سال انسان کے اندر جھانکنے، دل کو نرم کرنے، ضمیر کو جگانے اور انسانیت کی اصل پہچان یاد دلانے کے لیے آتی ہیں۔ مگر رمضان 1447 ہجری کا چاند جب افق پر نمودار ہوا تو اس کی روشنی غزہ کی ویران گلیوں میں بجھتی ہوئی امیدوں، ٹوٹے ہوئے گھروں اور لہو میں بھیگی ہوئی زمین پر پڑی۔ اس سال غزہ کی فضا میں اذان کی آوازیں بھی دھماکوں کے شور میں دب رہی ہیں۔ وہاں سحری کے دسترخوان نہیں، راشن کی قطاریں ہیں۔ افطار کی رونقیں نہیں، ملبے تلے دبی لاشیں ہیں۔ یہ منظر صرف ایک خطے کا المیہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک کھلا سوال ہے کہ کیا ہم واقعی انسان ہیں یا صرف مفادات کے اسیر تماشائی؟
7 اکتوبر 2023 کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے غزہ کے پورے معاشرے کو تہس نہس کر دیا۔ ہزاروں شہادتیں، لاکھوں زخمی، بے گھر خاندان، اور تباہ شدہ اسکول، ہسپتال، عبادت گاہیں، یہ سب کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل اور منظم تباہی کی علامت ہیں۔ جنگ بندی کے اعلانات بارہا ہوئے، قراردادیں منظور ہوئیں، عالمی رہنماؤں نے بیانات دیے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ بمباری، چھاپے اور فائرنگ کا سلسلہ آج بھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ اگر جنگ بندی کے وعدے جانیں نہ بچا سکیں تو وہ محض سیاسی ڈھونگ رہ جاتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ذیلی اداروں نے واضح الفاظ میں کہا کہ غزہ انسانی بحران کے بدترین مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ خوراک، پانی، ادویات اور پناہ سمیت چاروں بنیادی ضرورتیں شدید قلت کا شکار ہیں۔ بچوں میں غذائی قلت، نفسیاتی صدمات اور مستقل خوف نے ایک پوری نسل کے مستقبل کو تاریک کر دیا ہے۔ خیمہ بستیوں میں کسمپرسی کی حالت میں رہتے ہوئے خاندانوں کے لیے زندگی ایک مسلسل آزمائش بن چکی ہے۔ وہاں بھوک عبادت نہیں، مجبوری ہے؛ پیاس روحانی تربیت نہیں، محاصرہ ہے۔Médecins Sans Frontières (ڈاکٹرز ود آؤٹ
بارڈرز) اور دیگر امدادی تنظیموں نے بارہا کہا کہ محدود رسائی، ناکہ بندی اور سیکیورٹی خطرات کے باعث طبی خدمات جاری رکھنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ جب ایمبولینس زخمی تک نہ پہنچ سکے، جب ڈاکٹر کی نقل و حرکت بھی اجازت نامے کی محتاج ہو، تو یہ صرف جنگ نہیں رہتی بلکہ انسانی اصولوں کی کھلی شکست بن جاتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ Francesca Albanese نے اپنی رپورٹ میں غزہ کی صورتِ حال کو نسل کشی کے خطرے کے طور پر بیان کیا اور عالمی برادری کی ذمہ داری پر زور دیا۔ جنوری 2024 میں International Court of Justice نے عبوری احکامات جاری کرتے ہوئے اسرائیل کو انسانی تحفظ یقینی بنانے، امدادی رسائی کھولنے اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے سے روکنے کی ہدایت کی۔ مگر سوال یہ ہے کہ عدالتی احکامات کب تک کاغذوں میں قید رہیں گے؟ عالمی عدالت کے فیصلے اگر طاقت ور ریاستوں کے سامنے بے بس ہو جائیں تو انصاف کا تصور خود کمزور پڑ جاتا ہے۔ غزہ کا بحران عالمی سیاست کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔ بعض تنازعات پر فوری قراردادیں، سخت پابندیاں اور بھرپور سفارتی دباؤ دیکھنے میں آتا ہے، مگر فلسطین کے معاملے میں الفاظ بھی ناپ تول کر ادا کیے جاتے ہیں۔ انسانی حقوق اگر جغرافیہ، نسل یا مفادات کے تابع ہو جائیں تو وہ اصول نہیں رہتے، محض نعرے بن جاتے ہیں۔ United Nations Security Council کی بے بسی اور بڑی طاقتوں کی ویٹو سیاست نے یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ عالمی نظام انصاف کے بجائے طاقت کے توازن پر کھڑا ہے۔
رمضان المبارک ہمیں بھوک کا احساس دلاتا ہے تاکہ ہم محروموں کا درد سمجھ سکیں۔ مگر غزہ میں بھوک اختیار نہیں، مسلط کردہ ہے۔ ہم افطار کی نعمتوں پر شکر ادا کرتے ہیں، جبکہ وہاں ہزاروں خاندان ایک وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔ یہ فرق ہمارے لبے بے چینی کا باعث ہے کیوں کہ اگر روزہ ہمیں دوسروں کے دکھ کا احساس نہ دلا سکے تو وہ محض رسم رہ جاتا ہے۔اس پس منظر میں ہماری ذمہ داریاں تین سطحوں پر سامنے آتی ہیں: (1) سچ کو پہچاننا، اس کا اظہار کرنا، اور ظلم کو ظلم کہنا۔ خاموشی کبھی بھی حکمت نہیں ہوتی جب انسانیت لہو میں نہا رہی ہو۔ (2) عملی اقدام
اور معتبر اداروں کے ذریعے وہاں امداد پہنچانا- پالیسی سازوں اور نمائندوں تک آواز پہنچانا- پرامن احتجاجی سرگرمیوں میں شرکت کر کے انسانی حقوق کے بیانیے کو مضبوط کرنا (3) اپنے گھروں، مساجد اور تعلیمی اداروں میں نئی نسل کو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور امتِ مسلمہ کے اجتماعی شعور سے آگاہ کرنا۔ جذباتی نعرے وقتی تسکین دیتے ہیں، مگر منظم، قانونی اور پائیدار جدوجہد ہی تاریخ بدلتی ہے۔
غزہ کا المیہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت عارضی ہے اور انصاف کی پکار دیرپا۔ ظلم خواہ کتنا ہی منظم کیوں نہ ہو، اس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس تاریخ کے کس رخ پر کھڑے ہونا چاہتے ہیں—تماشائیوں کی صف میں یا انسانیت کے ساتھ؟ رمضان ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے ضمیر کو زندہ کریں، اپنی ترجیحات درست کریں، اور دعا کے ساتھ ساتھ عمل کو بھی عبادت کا حصہ بنائیں۔ دعا روح ہے، مگر عمل اس کا جسم ہے۔
یہ بحران مسلم دنیا کی قیادت، عالمی اداروں کی ساکھ اور جدید تہذیب کے اخلاقی دعووں کو کٹہرے میں لا کھڑا کرتا ہے۔ اگر طاقت ور ریاستیں بین الاقوامی قانون کی تشریح اپنے مفادات کے مطابق کرتی رہیں، اگر سلامتی کونسل کی قراردادیں ویٹو سیاست کی نذر ہوتی رہیں اور اگر انسانی حقوق کا بیانیہ دھوکہ دہی کا شکار رہے، تو عالمی نظم محض طاقت کے کھیل میں بدل جائے گا۔ اس لیے غزہ کا مسئلہ صرف ہمدردی نہیں بلکہ ایک منظم، قانونی اور اخلاقی جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ ایسی جدوجہد جو اصول کو مفاد پر مقدم رکھے اور انسان کو سیاست سے بالا تر سمجھے۔

یہ بھی پڑھیں