Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

رمضان المبارک کی موسمی گردش

(گزشتہ سے پیوستہ)
تفسیر مظہری میں حضرت مولانا قاضی ثناءاللہ پانی پتی نے بعض روایات کے حوالے سے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل میں بھی رمضان المبارک ہی کا مہینہ روزوں کے لیے مقرر تھا اور وہ بھی اسی طرح سال کے سارے موسموں میں گھومتا تھا۔ ایک دور میں انہیں بھی گرمیوں کے سخت روزوں نے تنگ کیا تو علماء سے درخواست کی گئی کہ وہ لچک پیدا کریں اور روزوں کے لیے مناسب موسم متعین کر دیں۔ بنی اسرائیل کے علماء نے ایسا کر دیا اور موسم بہار کو روزوں کے لیے طے کر کے یہ اضافہ کیا کہ چونکہ ہم اپنی طرف سے شرعی معاملہ میں ردوبدل کر رہے ہیں اس لیے کفارے کے طور پر دس روزے زیادہ رکھا کریں گے، چنانچہ وہ اس طرح چالیس روزے رکھتے ہیں۔
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اور قرآن کریم کا مہینہ ہونے کی وجہ سے اس کی مناسبت آج بھی قرآن کریم کے ساتھ زیادہ ہے جس کا مظاہرہ عملی طور پر یوں ہوتا ہے کہ پورے سال کی بہ نسبت اس ماہ مبارک میں قرآن کریم کی تلاوت اور پڑھنے کا معمول ہر جگہ بڑھ جاتا ہے۔ تراویح اور قیامِ لیل میں قرآن کریم کی قراءت کے ساتھ ساتھ عام معمولات میں قرآن کریم پڑھنے اور سننے کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ گویا سال بھر غفلت میں بسر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اس ماہ میں قرآن کریم کے ساتھ مسلمانوں کا جوڑ پھر سے تازہ کر دیتے ہیں اور بیٹریاں چارج ہو جاتی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا تکوینی نظام ہے جو قرآن کریم کے ساتھ عام مسلمان کا تعلق تازہ کرنے کے علاوہ خود قرآن کریم کی مسلسل حفاظت کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے، اس لیے کہ اگر تراویح میں قرآن کریم سنانے کا معمول نہ ہو تو بہت سے حافظ حضرات قرآن کریم یاد نہ رکھ سکیں، تراویح میں قرآن کریم سنانے کی پابندی اس بات کا ذریعہ بن جاتی ہے کہ قرآن کریم کے حفاظ کی ایک بڑی تعداد قرآن کریم یاد رکھنے کا اہتمام کرتی ہے اور قرآن کریم انہیں مسلسل یاد رہتا ہے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رمضان المبارک میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات میں روزوں کے علاوہ دو باتوں کا مزید اضافہ ہو جاتا تھا:
(۱) ایک یہ کہ قرآن کریم کی تلاوت و قراءت عام دنوں میں بھی جناب نبی اکرمؐ کا روزمرہ کا معمول ہوتا تھا اور رات کی ایک تہائی وہ نوافل میں قرآن کریم پڑھتے تھے لیکن رمضان المبارک میں اس کی مقدار بڑھ جاتی تھی اور حضرت جبرائیل علیہ السلام روزانہ آکر آنحضرتؐ کے ساتھ اس وقت تک نازل شدہ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے۔
(۲) اس کے ساتھ رمضان المبارک میں جناب نبی کریمؐ کی سخاوت بھی بڑھ جایا کرتی تھی۔ عام دنوں میں بھی معمول مبارک یہ تھا کہ کوئی سوالی آپؐ کے در سے خالی نہیں جاتا تھا مگر رمضان المبارک میں تو آپؐ کی سخاوت کا یہ عالم ہوتا تھا کہ جیسے موسم گرما میں ٹھنڈی ہوا چلا دی جائے۔
روزے کو جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر و ضبط کا ذریعہ بتایا ہے۔ اور یہ امر واقعہ ہے کہ روزے کی حالت میں کھانے، پینے اور دیگر خواہشات پر کنٹرول رکھنے سے انسان میں یہ ذوق بیدار ہوتا ہے کہ وہ ان چیزوں سے بھی اپنے نفس کو باز رکھے جو پورا سال اور دن رات ہر وقت کے لیے حرام ہیں۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ روزے تم پر اس لیے فرض کیے گئے ہیں تاکہ تم متقی بن جاؤ اور تمہارے اندر پرہیزگاری پیدا ہو۔
امام غزالیؒ نے روزے کے تین درجات بیان کیے ہیں، فرماتے ہیں کہ:
(۱) ایک روزہ اس شخص کا ہے کہ اس نے روزے کی پابندی قبول کر کے کھانے پینے اور دیگر خواہشات پوری کرنے سے خود کو روکا ہوا ہے لیکن جسم کے باقی اعضا کا روزہ نہیں ہے۔ منہ، کان، آنکھیں، ہاتھ اور پاؤں وغیرہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تمیز کیے بغیر اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں، وہ ممنوعہ کاموں سے نہیں رک رہے اور ان پر روزے کا کوئی اثر نہیں ہے۔ یہ روزہ اصطلاحی (ٹیکنیکل) روزہ ہے جس سے فریضہ تو اس شخص کے ذمہ سے ساقط ہو جاتا ہے لیکن روزے کا مقصد پورا نہیں ہوتا کہ روزہ تقویٰ پیدا کرنے کے لیے فرض کیا گیا ہے۔
(۲) دوسرا روزہ اس شخص کا ہے کس جس کا صرف منہ، پیٹ اور شرمگاہ کا روزہ نہیں بلکہ اس کے سارے اعضا روزہ کی حالت میں ہیں۔ اس نے اس بات کا اہتمام کر رکھا ہے کہ زبان، کان، آنکھ، ہاتھ اور پاؤں وغیرہ سے بھی گناہ کا کوئی کام سرزد نہ ہونے پائے۔ یہی روزہ شریعت کا مقصود ہے اور اسی طرح کے روزے سے قرآن کریم کی منشا کی تکمیل ہوتی ہے۔
(۳) جبکہ تیسرا روزہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کا ہے کہ وہ دل و دماغ کا بھی روزہ رکھتے ہیں۔ یعنی اپنے دل و دماغ کو اللہ تعالیٰ کی یاد اور آخرت کی فکر میں اس قدر مصروف و مشغول رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خیال دماغ میں نہ آنے پائے اور اس کے سوا کوئی خواہش دل تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ یہ روزہ مقربین کا روزہ ہے جو بہت خاص لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔
رمضان المبارک گناہوں کی معافی کا مہینہ ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے رمضان المبارک کے دوران دن کے وقت ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ روزے رکھے اور راتوں کو ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ تراویح اور تہجد و نوافل کی صورت میں قیام کیا تو اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ جبکہ گناہوں کی معافی اور توبہ کی قبولیت کی ایک علامت بعض بزرگوں نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اگر توبہ سے زندگی میں عملی تبدیلی آئی ہے تو یہ قبولیت کی نشانی ہے۔ خدا کرے کہ یہ رمضان المبارک ہمارے لیے حقیقی رحمتوں اور برکتوں کا باعث ہو، توبہ و استغفار کا ذریعہ بنے، زیادہ سے زیادہ اعمال صالحہ کے مواقع ہمیں اس میں فراہم ہوں اور سب سے بڑھ کر یہ ہماری زندگیوں میں خوشگوار تبدیلی کا سبب بن جائے، آمین یا رب العالمین

یہ بھی پڑھیں