Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

اسمیش، دفاعی خود انحصاری کا فکری اعلان

(گزشتہ سے پیوستہ)
اینٹی شپ ترتیب میں اسمیش میزائل کو سمندری اہداف کے خلاف استعمال کے لئے تیار کیا گیا ہے،تقریباعمودی زاویے سے حملہ کرنے کی صلاحیت اسے جدیدبحری دفاعی نظاموں کے لئے ایک سنجیدہ چیلنج بناتی ہے۔علاوہ ازیں زمینی اہداف کے لئے تیارکردہ ورژن میں بھی میزائل کی رینج 290کلومیٹررکھی گئی ہے،تاہم اس صورت میں وارہیڈ کاوزن بڑھاکر444 کلوگرام کردیاگیاہے جبکہ رینج وہی برقرار رکھی گئی ہے۔اس ترتیب میں نیویگیشن مکمل طورپر ایچ ڈی جی این ایس اسسٹڈ انرشیل نیویگیشن سسٹم پرانحصارکرتی ہے،جواسے بری اہداف کے خلاف زیادہ مؤثر بناتی ہے۔یہ اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ اسمیش صرف رفتارہی نہیں بلکہ ضرب کی قوت میں بھی اپنی مثال آپ ہے اوریہ میزائل محض ہدف کونشانہ نہیں بناتابلکہ فیصلہ کن کرداراداکرتاہے۔یہ اعدادوشماراس میزائل کومحدود مگر فیصلہ کن حملے کے لئے موزوں بناتے ہیں۔یہاں اسلامی تصورِجنگ جھلکتاہے،غیرضروری طوالت نہیں، غیر ضروری تباہی نہیں،بلکہ واضح، محدوداورمؤثراقدام۔
زمینی اہداف والے ورژن میں بھی وہی سنگل اسٹیج ڈوئل تھرسٹ سالڈراکٹ موٹراستعمال کی گئی ہے جومحض تکنیکی فیصلہ نہیں بلکہ فکری سادگی کااظہار ہے۔ زمینی اہداف کے خلاف استعمال کے لئے اسمیش کا علیحدہ کنفیگریشن تیارکیاگیاہے۔اس کی درستگی15 میٹر یااس سے کم بتائی گئی ہے،جبکہ رفتار یہاں بھی آوازسے دو گنازیادہ رہتی ہے۔یہ ہم آہنگی اس بات کی دلیل ہے کہ میزائل کی ساخت میں سادگی اورکارکردگی کویکجا کیا گیاہے،جوجدید دفاعی فلسفے کابنیادی اصول ہے۔
اسمیش میزائل کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا دوہرے کردارکاحامل ہوناہے۔ایک ہی پلیٹ فارم کابحری اورزمینی مشنزمیں استعمال لاجسٹک نظام کوسادہ بناتاہے،تربیت اوردیکھ بھال کے اخراجات کم کرتاہے، آپریشنل لچک میں اضافہ کرتاہے۔اسلامی تہذیب ہمیشہ پیچیدگی کے بجائے حکمت آمیزسادگی کی قائل رہی ہے چاہے وہ فقہ ہو،سیاست ہویاعسکری نظم۔ یہی سادگی لاجسٹکس کومؤثر،اخراجات کوکم اورنظام کو قابلِ اعتمادبناتی ہے۔یہ ترتیب اسے حساس تنصیبات، عسکری مراکزاور اسٹریٹجک اہداف کے لئے موزوں بناتی ہے۔اسلامی تصورِ نظم وکفایت کے تناظر میں یہ حکمتِ عملی اسراف کے بجائے دانش مندانہ وسائل کے استعمال کی مثال ہے۔
جی آئی ڈی ایس کے مطابق اسمیش میزائل کودوہرے کردارکے تحت تیارکیاگیاہے،تاکہ ایک ہی میزائل کوسمندری اورزمینی دونوں نوعیت کے مشنزمیں استعمال کیاجاسکے۔ کفایت ، خودانحصاری اورنظم جیسے دوہرے کردارکی حکمتِ عملی دراصل جدیداسلامی ریاست کے تین بنیادی اصولوں کی ترجمانی ہے یعنی اسراف سے اجتناب،کفائت شعاری،نظم وضبط اور خود انحصاری ایک ہی میزائل کادو میدانوں میں استعمال اس بات کاثبوت ہے کہ دفاعی طاقت کوعقل اورنظم کے ساتھ برتاجارہا ہے،نہ کہ محض نمائش کیلئے۔اس حکمتِ عملی سے نہ صرف لاجسٹک نظام سادہ ہوجاتاہے بلکہ اخراجات میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔یوں یہ میزائل عسکری کفایت شعاری اورعملی حکمتِ عملی کاحسین امتزاج بن کرسامنے آتاہے۔ اسلام میں طاقت کاتصورجارحیت نہیں بلکہ تحفظ اور توازن پرمبنی ہے۔ اسلامی ریاست میں قوت کا استعمال اخلاقی حدودکے اندررہ کرہی جائزہے۔اسمیش جیسے ہتھیارکی تیاری اسی صورت میں اسلامی فکر سے ہم آہنگ ہوسکتی ہے جب اس کامقصد دفاع ہواوراس کااستعمال واضح ضابطوں کے تحت ہو،غیر ضروری تباہی سے اجتناب کیا جائے۔یہ پہلواسمیش کو محض ایک عسکری اثاثہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داردفاعی علامت بناتا ہے۔ اسمیش میزائل میں استعمال ہونے والی سنگل اسٹیج،ڈوئل تھرسٹ سالڈراکٹ موٹراس کی رفتار،بلندی اور ٹرمینل کنٹرول کو بہتربناتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی میزائل کو ابتدائی رفتارکے بعددوبارہ توانائی فراہم کر کے دفاعی نظاموں سے بچ نکلنے میں مدد دیتی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطی اوردیگر حساس خطوں میں طویل فاصلے تک انتہائی درست حملہ کرنے والے ہتھیاروں کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔اسمیش میزائل کو بھی ایسے ہی متنازع اور خطرناک ماحول کے لئے ایک موثرہتھیارکے طورپرپیش کیا جا رہاہے۔یہ میزائل اس حقیقت کی علامت ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاعی تقاضوں کوسمجھتاہے بلکہ عالمی دفاعی منڈی کے مزاج سے بھی پوری طرح باخبرہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطی اوردیگر حساس خطوں میں طویل فاصلے تک درست حملہ کرنے والے ہتھیاروں کی مانگ بڑھ رہی ہے اور ہائپرسونک اوردرست حملہ کرنے والے ہتھیاروں کی عالمی طلب میں اضافہ ہورہاہے۔پاکستان کے لئے یہ موقع اقتصادی اور اسٹریٹجک دونوں حوالوں سے اہم ہے،مگریہاں اصل سوال صرف طلب کانہیں بلکہ ذمہ داری کاہے۔اسلامی ریاست کے طورپراس پر اخلاقی ذمہ داری بھی عائدہوتی ہے۔اسلامی فکرمیں طاقت امانت ہے،تجارت نہیں۔ اگرپاکستان اس میدان میں قدم رکھتاہے تواس کے ساتھ اخلاقی احتساب، ضابطہ اورشعوربھی لازم ہیاوریہی وہ پہلوہے جواسمیش کومحض ہتھیارنہیں بلکہ ایک فکری علامت بناتاہے۔تاہم اسلامی ریاست ہونے کے ناتے اس پر اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہتھیار تنازعات کو بھڑکانے کیلئینہ بیچے جائیں، دفاعی تعاون میں شفافیت رکھی جائے،انسانی جانوں کے تحفظ کومقدم رکھاجائے مگراپنے دفاع اوردشمن کامقابلہ کرنے کے لئے جدیدہتھیاروں سے مسلح رہنا اسلامی ریاست کی اہم ذمہ داری ہے جس کااللہ نے قرآن میں بھی حکم دے رکھاہے۔
اسمیش کادوہرے کردارکی حکمتِ عملی اور لاجسٹک فوائدکاتصورجدید عسکری منصوبہ بندی میں ایک نمایاں رجحان ہے۔اس کے فوائد درج ذیل ہیں:لاجسٹک سادگی، کم تربیتی اخراجات ،یکساں مینٹیننس نظام،زیادہ آپریشنل لچک،اسلامی فکرمیں کفایت شعاری اورنظم کوغیر معمولی اہمیت حاصل ہے،اوریہ تصور اسی اصول کاعملی اظہارہے۔اس مطالعے سے درج ذیل نتائج اخذہوتے ہیں۔
اسمیش میزائل پاکستان کی دفاعی خودانحصاری کی علامت ہے۔دوہرے کردارکی صلاحیت جدیدعسکری تقاضوں سے ہم آہنگ ہے، ہائپرسونک رفتاراوردرستگی خطے میں ڈیٹرنس کے کردارکومضبوط اوراسلامی تصورِدفاع کے تحت اس ٹیکنالوجی کااستعمال اخلاقی نظم کاتقاضا کرتاہے۔اسلامی تصورِدفاع کافکری واخلاقی تجزیہ کریں تویہ واضح ہوتاہے کہ اسلامی ریاست میں قوت کامقصدظلم کا انسداد،امن کاتحفظ،دشمن کوجارحیت سے بازرکھناضروری ہے۔اسمیش جیسے ہتھیاراسی وقت اسلامی فکرسے ہم آہنگ قراردیے جاسکتے ہیں جب ان کااستعمال دفاعی حکمتِ عملی کے دائرے میں رہے۔یہ میزائل ڈیٹرنش کومضبوط کرتاہے،غیر ضروری جنگ کو روکتاہے اورطاقت کے توازن کوبرقراررکھتاہے اور دوہرے کردارکی حکمتِ عملی وسائل کے موثراستعمال کی علامت ہے،اوراسلامی تصورِدفاع کے تحت یہ ٹیکنالوجی اخلاقی حدودمیں قابلِ جوازہے۔
اسمیش میزائل کی رونمائی محض ایک عسکری خبر نہیں، بلکہ یہ اس فکری سفرکی علامت ہے جس میں پاکستان نے خودانحصاری، سائنسی مہارت اوردفاعی وقارکو یکجا کر لیا ہے۔اسمیش میزائل دراصل ایک دھات کاڈھانچہ نہیں،بلکہ ایک فکری اعلان ہے کہ پاکستان دفاع کوخوف کے بجائے حکمت،جارحیت کے بجائے توازن اور طاقت کی بجائے ذمہ داری کے ساتھ دیکھتاہے۔یہ پیشکش ہمیں یاددلاتی ہے کہ طاقت کااصل سرچشمہ محض فولاداوربارودنہیں،بلکہ وہ فکرہے جوعلم،حکمت اورذمہ داری کے ساتھ بروئے کارآئے تودنیامیں امن کی ضمانت بن جاتاہے۔اسمیش ہائپرسونک میزائل پاکستان کی دفاعی تاریخ میں محض ایک ہتھیارکااضافہ نہیں بلکہ ایک فکری اور اسٹریٹجک اعلان ہے۔اسمیش،اپنے نام کی طرح، دفاعی دنیامیں ایک مضبوط دستک ہے ایسی دستک جوآنے والے برسوں میں پاکستان کے دفاعی تشخص کونئی سمت عطاکرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں