Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

ایک قوم،ایک احتساب،ایک فیصلہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ حال صرف انہی کانہیں جنہیں حالات کی سمجھ عطاہوئی ہے،مگرانہی کے سینے میں یہ دردآبلہ بن چکاہے۔انہی کی نیندیں اڑچکی ہیں یہی حال آج ان لوگوں کاہے جن کے سینے میں پاکستان کا دردناسوربن چکاہے۔جن کے دل چین سے محروم ہیں۔نیم شب جب وہ اپنے رب کے حضورسجدہ ریزہوتے ہیں تو ہچکیاں بندھ جاتی ہیں۔وہ پاکستان کی سلامتی کی دعا مانگتے ہوئے اس دھرتی کے لاکھوں شہداکا واسطہ دیتے ہیں،وہ شہداجنہوں نے اس وطن کی خاطر اپناسب کچھ قربان کردیااور پھر ایک لرزہ خیزسوال دل کو چیر دیتا ہے : اورسوچتے ہیں ، روزِ قیامت ہم ان پاکیزہ قربانیوں کاکیاجواب دیں گے؟
اے صاحبانِ اختیار،اےاہلِ وطن، ذرا تصور کرو،روزِقیامت اس دھرتی کے شہداتمہارے سامنے کھڑےہوں گے۔وہ پوچھیں گے،ہم نےجانیں دیں،تم نےکیادیا؟اللہ تعالی فرماتاہے: یہ نہ سمجھو کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل ہے۔(ابراہیم:42)
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خونچکاں
ہرچند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
یہ کیفیت صرف اہلِ دردکی نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ جولوگ آنے والے طوفان کوپہلے دیکھ لیتے ہیں،وہ خاموش نہیں بیٹھتے۔طوفان کو پہلےدیکھ لینے والوں پرخاموش رہناحرام ہوجاتا ہے۔وہ منادی کرتے ہیں،وہ خبردارکرتے ہیں،وہ رات دن، دامے، درمے، سخنے یہی سوچتے ہیں کہ کسی طرح تباہی کوٹالاجاسکے۔ میرامقصدنہ مایوسی پھیلاناہے اورنہ خوف۔ مگر ذراسوچیے،اگرآپ کاکوئی عزیز جان لیوا مرض میں مبتلا ہو جائے توکیاآپ چین سے بیٹھ سکتے ہیں؟کیاآپ دنیاکے بہترین ڈاکٹر،سب سےماہرسرجن کی تلاش میں دن رات ایک نہ کردیں گے؟کیا اپنی استطاعت سےبڑھ کرخرچ نہیں کریں گے؟اورسب کچھ کرنےکے بعدسجدے میں گڑگڑاکریہ نہیں کہیں گے کہ یا رب شفاتیرے ہی ہاتھ میں ہے؟
پھریہ وطن،یہ توہمارااجتماعی وجودہے،ہماری شناخت،ہماری پہچان ہے،ہماراکل ہے،ہمارے بچوں کامستقبل ہے۔سیاسی سراب اور بڑھتا اندھیرا ، ہر حکومت کےخاتمے پرعوام سکھ کا سانس لیتی ہے کہ شایداب حالات بدلیں گے،شایداب اندھیراچھٹے گا ، مگر افسوس، اندھیرا کم ہونےکی بجائےبڑھتااورگہرا ہوتاجارہا ہے۔ مہنگائی نے پہلے ہی جینادوبھرکر رکھا ہے اوراس پرمستزادبجلی اورگیس کے بلوں نےکمرتوڑدی ہے۔وہ جوکل ترقی کے نعرے لگاتے تھے،آج شرمندگی سے نظریں چرا رہے ہیں۔اللہ تعالی فرماتاہے:جب ہم کسی بستی کوہلاک کرناچاہتے ہیں تواس کے خوشحال طبقے کوڈھیل دیتے ہیں، وہ نافرمانی کرتے ہیں،پھرعذاب آجاتاہے۔(بنی اسرائیل:16)کیاتم نےکبھی سوچاکہ کہیں یہ ڈھیل آزمائش تونہیں؟ اقتدارامانت ہے،غنیمت نہیں۔
رسولِ اکرم ﷺنے فرمایا’’تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے،اورہرایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا(بخاری ومسلم) جب قومیں عدل سے محروم ہوجائیں،ظلم پر آواز بلنداوراحتجاج کرنا چھوڑ دیں،ایک دوسرے کے دکھ سے بیگانہ ہو جائیں ،اورصرف اپنی ذات کی سلامتی کی دعامانگنےلگیں توپھراصلاح کےلئےاٹھنےوالے ہاتھ بھی بے اثرہوجاتے ہیں توپھراللہ کی نصرت بھی رک جاتی ہے۔ عدل،انصاف اورحکمرانی کی ذمہ داری نہیں نبھائی،توقیامت میں جواب دیناپڑے گا ۔اے فیصلہ کرنے والویہ قوم تمہاری رعیت ہے۔اس کے آنسوتمہارے گریبان سے لپٹیں گے۔ یادرکھو،عدل کے بغیرریاستیں زندہ نہیں رہتیں۔ اللہ تعالی کا اعلان ہے کہ ِبے شک اللہ عدل اوراحسان کاحکم دیتا ہے (النحل:90)اوررسولﷺنے خبردارفرمایا:ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کاسبب ہو گا۔ (مسلم)
مایوسی کفرکے قریب لے جاتی ہے،آج قوم کوجان بوجھ کرمایوسی میں دھکیلا جا رہا ہے۔ خبرداریہ سب سے خطرناک ہتھیارہے۔اللہ فرماتا ہے (الذمر:53) آج ایک منظم منصوبے کے تحت پاکستانی قوم کومایوسی کی جھاڑیوں میں اس طرح پھنسایااور دھکیلاجارہاہے کہ پھر خون آشام درندے چھوڑدیے جائیں۔یادرکھیے،مایوسی ایٹمی تابکاری سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ دنیانے دیکھاہےکہ قومیں ایٹمی تباہی کے بعدبھی امید کے سہارے دوبارہ کھڑی ہو گئیں، مگر مایوسی نے وہ جانیں لی ہیں جوجنگیں بھی نہ لے سکیں ۔ امیدکاچراغ بجھادینا دراصل زندگی کی جنگ ہاردینے کے مترادف اور منزل سے دستبرداری ہے۔ درد زندگی کی علامت ہے، خون بہے تو انسان علاج کی فکرکرتا ہے، بچاؤکی تدبیر کرتا ہے۔مریض وہی بچتاہے جوجینے کی آرزو رکھتاہو۔مایوسی شیطانی ہتھیارہے۔ابلیس کی پہچان ہی ناامیدی ہے۔ابلیس صرف شیطان کانام نہیں، عربی لغت میں مایوس روح کوبھی ابلیس کہا گیا ہے۔ رسولِ رحمت ﷺکافرمان ہے،زندگی پر سوارہو جائو،ورنہ زندگی تم پرسوارہوجائے گی۔ رسول ﷺ نے فرمایا،طاقتورمومن کمزورمومن سے بہتراوراللہ کوزیادہ محبوب ہے(مسلم) طاقت صرف بازوئوں کی نہیں، حوصلے، یقین اورکردارکی بھی ہوتی ہے۔
میں نےاپنے وجدان کے بوجھ تلے،پوری دیانت اوردردکے ساتھ یہ صدابلندکی ہے۔اب یہ صداجن ایوانوں تک پہنچنی چاہیے۔اقتداروالو سے آخری صداہے،اب بھی وقت ہے۔عدل اور انصاف کو زندہ کریں،مایوسی کی بیخ کنی کریں، اقتدارکوامانت سمجھیں،حق داروں کوامانت لوٹائیں ، قوم کوامیداور راستہ دیں،اوراللہ کے حضورجھک جاؤ۔ اے صاحبانِ اختیار،ظلم سزا کی نوید ہے۔ یاد رکھیں،اقتدارغنیمت نہیں،امانت ہے۔ ذرا ٹھہرئیے،اپنے عہدوں،اپنے اختیارات،اپنی طاقت اوراپنی منصوبہ بندی سے ایک لمحہ نظریں ہٹاکراپنے انجام کی طرف دیکھئے۔ قرآن اعلان کرتا ہے، انہیں روک لیاجائےگا،بے شک ان سے سوال کیاجائے گا (الصافات:24)
وہ دن آرہاہےجب نہ پروٹوکول کام آئےگا،نہ دستاویزات،نہ بیانیے،نہ ادارے،صرف اعمال بولیں گے۔وہاں یہ سوال گونجے کیاہمیں اللہ کے حضورجواب دہ نہیں ہونا؟ کیا اقتدارامانت نہیں؟ کیااس قوم کے آنسوعرش کونہیں ہلاتے؟اقتدارعیش نہیں ،امانت ہے۔یہ آنسو،یہ آہیں،یہ سسکیاں عرش تک پہنچتی ہیں۔اب بھی وقت ہےاگرخوفِ آخرت جاگ جائے،اگرعدل کوزندہ کردیاجائے، اگررحم اوردیانت کااعلان ہوجائےتویہ مریض سانس لے سکتا ہے ، اورایک بار پھر اسلامی معاشرے کی ایمانی خوشبواس دھرتی پرلوٹ سکتی ہے۔عوامی امیدکوزندہ رکھو۔
یہ وعظ صرف ایوانوں اورحکمرانوں کے لئے نہیں،یہ تمہارے لیے بھی ہے۔کیاتم نے ظلم کو صرف اس لئےقبول کرلیاکہ وہ تم پربراہِ راست نہیں آرہا؟کیاتم خاموش ہوگئے ہوکہ کہیں تمہاری باری نہ آجائے؟ خاموشی اورمایوسی خوددشمن ہیں۔اے عوام!حق کہنامت چھوڑو، مایوسی کوٹھکرادو،اور اصلاح کاراستہ اپنا۔یادرکھو خاموش تماشائی بھی جرم میں شریک ہوتےہیں۔قرآن خبردارکررہا ہے: ظالموں کی طرف جھکائونہ رکھو،ورنہ آگ تمہیں بھی آلے گی(ہود:113)
صرف اپنی ذات کی سلامتی مانگنا کافی نہیں، قومیں اجتماعی دعااوراجتماعی اصلاح سے بچتی ہیں۔ رسولﷺنے فرمایا:جب لوگ ظالم کو دیکھیں اوراس کاہاتھ نہ پکڑیں توقریب ہے کہ اللہ سب کو عذاب میں مبتلاکردے(ترمذی)اگرخوفِ آخرت جاگ گیا،تویہی مریض پاکستان پھرکھڑاہوسکتا ہے۔ اوراگریہ لمحہ بھی گنوادیا تو تاریخ معاف نہیں کرے گی،اوررب کائنات توہرگز نہیں۔اے اس دھرتی کے رہنے والو:یہ تحریراگردل کوچیرگئی ہے،اگریہ الفاظ تمہارے سینے میں آگ بن کراترے ہیں توجان لوکہ دل ابھی زندہ ہے۔مردہ قومیں دردمحسوس نہیں کرتیں۔یہ وقت رونےکانہیں،اٹھ کھڑے ہونے کاہے۔اگرآنکھ نم ہوئی ہے توجان لوکہ امیدابھی مری نہیں۔ قومیں اسی نمی سے سیراب ہوکراٹھتی ہیں۔یہ وقت الزام درالزام کانہیں،یہ وقت سمت درست کرنے کاہے۔یہ وقت یہ طے کرنےکا ہے کہ ہم تاریخ کے تماشائی بنیں گے یااس کے معمار۔ اندھیراکسی ایک چراغ سے نہیں ڈرتا،وہ چراغوں کے قافلے سے بھاگتا ہے۔
اے اقتدارکے ایوانوں میں بیٹھنے والو! خبردار!تاریخ تمہاری منتظرنہیں رہتی اورنہ ہی تاریخ تاخیرکومعاف کرتی ہے۔وہ فیصلوں کے لمحے میں لکھی جاتی ہے۔وہ دن آتاہے جب نہ وردی کام آتی ہے،نہ عہدے،قلم،نہ مہر،نہ بیان۔یادرکھو، تخت وتاج عارضی ہیں،مگرعدل دائمی ہے۔وہ دن آتاہے جب نہ پروٹوکول کام آتاہے،نہ بیانیے،نہ توجیہات صرف اعمال بولتے ہیں۔قرآن کی صداآج بھی گونج رہی ہے: ’’انہیں روک لیاجائے گا،بے شک ان سے سوال کیاجائے گا۔‘‘اس سوال کی تیاری کرلوکیونکہ اس مریض کے آنسو بڑی سرعت کے ساتھ عرش تک کوہلانے کے لئے منتظرہیں۔اگرآج رحم،دیانت اورانصاف کوزندہ کردیاگیا،تویہی مریض سانس لے لے گا، اگرآج عدل زندہ ہواتو ریاست بچے گی،اگرآج بھی ظلم کودوام ملاتوفیصلہ اللہ کی عدالت میں ہوگااوراگرآج بھی تاخیر کی گئی توتاریخ کی سرجری بے رحم ہوگی،اوروہاں کوئی بچ نہیں سکتا۔ اوراے عوام،سن لو!یہ خطاب صرف ایوانوں کے لئے نہیں۔خاموشی اورمایوسی سب سےخطرناک ہتھیارہیں۔خاموش تماشائی بھی جرم میں شریک ہوتے ہیں۔ظلم کوصرف اس لیے قبول نہ کروکہ وہ ابھی تمہاری دہلیزپرنہیں آیا۔یادرکھو،جب آگ لگتی ہے تووہ گلی نہیں پوچھتی۔

یہ بھی پڑھیں