(گزشتہ سے پیوستہ)
اے اہلِ وطن!سن لو!یہ وقت مصلحت کانہیں ،یہ وقت سچ کاہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب قوموں کے مقدرلکھے جاتے ہیں یاہمیشہ کے لئے مٹادیے جاتے ہیں۔یہ وقت سرگوشیوں کانہیں،یہ وقت للکارکا ہے۔یہ وقت سلامتی کانہیں،یہ وقت سوال کاہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب قومیں آئینے کے سامنے کھڑی ہوکرخودسے سچ بولتی ہیں۔اوراگرسچ بولنے کی ہمت نہ رہے توتاریخ ان کی خاموشی کواعترافِ جرم بنادیتی ہے۔یہ لمحہ تاریخ کے اس موڑپرکھڑاہے جہاں قومیں یاتواپنے مقدرکوتھام لیتی ہیں یاپھرصدیوں کی غلامی میں دھکیل دی جاتی ہیں۔
آج یہ دھرتی،جس کے ذروں میں شہداء کا لہو، ماں کی دعااوربچے کاخواب دفن ہے جس کے سینے میں شہداکالہوامانت ہے،ہمارے سامنے ایک ایسے مریض کی مانندپڑی ہے جس کی سانسیں اکھڑرہی ہیں،نبض ڈوب رہی ہے،آنکھیں امیدڈھونڈرہی ہیں اورآنکھیں سوال بن کرہمیں گھوررہی ہیں۔ہونٹ لرزتے ہیں مگرآوازنہیں نکلتی۔یہ مریض کوئی فردنہیں، کوئی جماعت نہیںیہ ہمارااجتماعی وجودہے،یہ پاکستان ہے۔
یہ کوئی اتفاق نہیں،یہ کوئی حادثہ نہیں،یہ تاریخ کا اندھاکھیل بھی نہیں اورنہ ہی یہ کیفیت کسی اچانک حادثے کانتیجہ ہے۔ یہ برسوں کی بداعمالی، ناانصافی، خوف،اوراس خاموشی کا حاصل ہے جوہم نے ظلم کے مقابلے میں اختیارکی۔تاریخ گواہ ہے کہ جب عدل تخت سے اتر جائے اور ضمیر اقتدار کے ایوانوں سے نکل جائے توریاستیں اندرسے مرجاتی ہیں،زندہ لاش بن جاتی ہیں۔آج ہم اسی داخلی موت کے کنارے کھڑے ہیں۔ آج یہی لاش ہمارے کندھوں پرہے،بازاروں میں مہنگائی چیخ رہی ہے،عدالتوں میں انصاف سسک رہاہے ، تعلیمی اداروں میں مستقبل اندھیرے میں ٹٹول رہاہے،اورعوام ایک دوسرے سے مل کربس یہی پوچھتے ہیں، اب کیا ہو گا؟
اے لوگو!صدیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں بیمارہوتی ہیں توان کے زخم صرف معیشت پرنہیں ہوتے،روح پرہوتے ہیں۔جب قومیں سوال پوچھنا چھوڑ دیتی ہیں توان کے جواب مٹی میں دفن ہوجاتے ہیں۔یہ سوال نیانہیں۔یہ وہ سوال ہے جوتاریخ کے ہرنازک موڑپر گونجاہے۔یہی سوال بغدادکے جلنے سے پہلے ہوامیں معلق تھا،بغدادجلنے سے پہلے بھی لوگ یہی کہتے تھے:’’کچھ نہیں ہوگا‘‘۔غرناطہ کے سقوط سے پہلے، غرناطہ کے زوال سے پہلے گونجا،ڈھاکہ کے بچھڑنے سے پہلے ہرباریہی سوال فضا میں معلق رہا۔ غرناطہ ہاتھ سے جانے سے پہلے بھی یہی سوچا گیا تھا کہ ’’یہ اندھیراٹل جائے گا‘‘۔اورجب اندھیرامکمل ہوا تو پھرچراغ جلانے والاکوئی نہ رہا۔آج پاکستان اسی دہانے پرکھڑاہے ایک قدم ادھر،توبقا؛ایک قدم ادھر،تو تباہی۔مگرسوال سے زیادہ اہم جواب ہوتاہے اورجواب وہی قومیں دیتی ہیں جن میں حوصلہ، کردار اورایمان زندہ ہو۔آج پاکستان اس معالج کے درپر کھڑا ہے جہاں صرف مرہم نہیں،جراحی درکار ہے۔ جہاں تسلی نہیں،فیصلہ چاہیے۔ جہاں وقتی سیاست نہیں،دائمی انصاف مانگ رہاہے۔ اوریہی سوال ہماری اپنی تاریخ کے المناک موڑوں پرسنائی دیا۔فرق صرف اتناہے کہ تاریخ ہربارجواب مانگتی ہے۔اورجواب خاموشی نہیں ہوتا۔خاموشی ہمیشہ ظالم کے حق میں جاتی ہے۔
جب عدل کمزورپڑتاہے،سچ دب جاتاہے اور طاقت امانت کی بجائے غنیمت بن جائے توقومیں اندرسے کھوکھلی ہوجاتی ہیں۔آج یہی کیفیت ہمارے اجتماعی وجودپر طاری ہے۔ بازاروں میں مہنگائی کا شور ہے،گھروں میں خاموش فاقے ہیں،ایوانوں میں بلنددعوے ہیں،اورگلیوں میں ٹوٹی امیدیں بکھری پڑی ہیں۔لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں توبات سے پہلے آہ نکلتی ہے،جیسے ہرملاقات کسی جنازے کی تیاری ہو۔ہر آنکھ سوال ہے:اب کیاہوگا؟
یہ مریض بول نہیں سکتا،مگراس کے زخم چیخ رہے ہیں۔کبھی عدالتوں کی تاخیر،کبھی تعلیم کے ویران کمروں اورمدرسوں اوراسکولوں کی بربادی سے،کبھی اسپتالوں کی راہداریوں سے سنائی دینے والی سسکیوں سے،کسان کی خالی مٹھی اورہتھیلی سے،مزدورکی جھکی کمراورخالی جیب سے،ماں کی فیس نہ بھرسکنے والی آنکھ،نوجوان کی بے روزگارییہ سب زخم ہیں۔یہ چیخیں کسی ایک چہرے یا ایک حکومت کے خلاف نہیں،یہ اس پورے نظام کے خلاف ہیں جس نے طاقت کوقانون اوردولت کومعیاربنادیا، جس نے طاقت کوقانون اوردولت کوتقدیربنا دیا۔ جوطاقتورکوڈھیل اورکمزورکو دھکیل دیتاہے،جب ظلم معمول بن جائے توبیداری فرض ہوجاتی ہے،اور جب بیداری بھی جرم بن جائے توپھرتاریخ انقلاب کے باب کھول دیتی ہے۔جب ظلم معمول بن جائے توانقلاب فرض ہوجاتاہے۔
یہ تحریرالزام کی سیاست نہیں کرتی،مگرذمہ داری سے فراربھی اختیارنہیں کرتی۔یہ صاحبانِ اختیارکو یاد دلاتی ہے کہ اقتدارامانت ہے، غنیمت نہیں۔یہ عوام کوجھنجھوڑتی ہے کہ خاموشی نجات نہیں،شرکتِ جرم ہے۔ یہ مذہب،تاریخ اورسیاستتینوں کوایک ہی سوال کے کٹہرے میں کھڑاکرتی ہے:کیاہم جواب دہ نہیں؟
اے صاحبانِ اقتدار!تاریخ کہتی ہے:جب قومیں دردکومحسوس کرناچھوڑدیں توان کی موت قریب آجاتی ہے۔اورجب وہ دردکومحسوس کر کے بھی خاموش رہیں توان کی موت یقینی ہوجاتی ہے۔ذرا ٹھہرو،کان کھول کرسن لو!یہ جوتم پروٹوکول کے حصارمیں بیٹھے ہو،یہ سانسیں تمہارے فیصلوں پرلٹکی ہیں۔اس مریض کی سانس سنو۔یہ سانسیں تمہارے فیصلوں کی محتاج ہیں۔یہ آنسوتمہاری فائلوں کے حاشیے نہیں،یہ تاریخ کے اوراق اورچیختے ہوئے سوال ہیں،جوبرملا خبردارکررہے ہیں کہ اقتدارتاج نہیں،امانت ہے۔اورامانت میں خیانت جہاں قوموں کوصفح ہستی سے مٹادیتی ہے وہاں قوموں کوتاریخ کے کٹہرے میں کھڑاکردیتی ہے۔یہ تحریرمایوسی نہیں،یہ بغاوتِ شعور ہے کیونکہ جب شعورجاگ جائے توزنجیریں خود ٹوٹ جاتی ہیں۔یہ کسی مایوسی کااعلان نہیں،یہ بیداری کی صداہے کیونکہ جس قوم میں دردباقی ہو،وہ ابھی زندہ ہوتی ہے۔یہ مضمون مایوسی کااعلان نہیں،بلکہ امیدکی آخری دستک ہے کیونکہ وہ قومیں ہی بچتی ہیں جوآخری لمحے میں بھی خودسے سچ بولنے کی ہمت رکھتی ہیں۔یہ تحریراسی ہمت کاتقاضا کرتی ہے۔
اے اس دھرتی کے باسیو،اوراے وہ لوگوجن کے ہاتھوں میں اقتدار،اختیاراورفیصلوں کی باگ ڈور ہے:آج اس دھرتی پرذراسی بصیرت رکھنے والاہرشخص حیرت کے عالم میں اضطراب کی تصویر بناہواہے،چہرے سوال بن چکے ہیں،آنکھیں جواب ڈھونڈرہی ہیں اور زبان پرایک ہی فقرہ گردش کررہاہے،ایک دوسرے سے یہی سوال کرتاپھررہاہے،کیا ہونے والاہے؟اب کیابنے گا؟ہم کہاں کھڑے ہیں اورہمارا مستقبل کس اندھیرے کی طرف بڑھ رہاہے؟
لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں توگفتگوسے پہلے آہ نکلتی ہے۔ہردل کسی اچھی خبرکاپیاسا ہے،ہرآنکھ کسی امیدکی متلاشی ہے۔کیا ہونے والاہے؟ہمارا مستقبل کیاہے؟ہم کہاں کھڑے ہیں؟لوگ ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانک کرکسی اچھی خبرکی تمناکرتے ہیں، جیسے بسترِمرگ پرپڑے مریض کے لواحقین کسی معجزے کے منتظرہوں۔کسی حکیم کے نسخے،کسی حاذق ڈاکٹرکی دوایاکسی صاحبِ نظرکی دعاسے زندگی کی رمق لوٹ آنے کی آس لگائے بیٹھے ہوں۔
آج یہ جاں بلب مریض کی مانندبمشکل رینگتاہوامعالج کے درتک توپہنچ گیاہے،مگراس میں اتنی سکت باقی نہیں رہی کہ وہ اپنی بیماری کانام ہی لے سکے،سچ یہ ہے کہ اب مرض اس مرحلے میں داخل ہوچکاہے جہاں صرف مرہم کافی نہیں،جہاں صرف تسلیاں کام نہیں آتیں،جہاں جرت مندانہ فیصلہ،کڑواعلاج اورکڑااحتساب ناگزیرہوچکا ہے۔ وہاں آن پہنچاہے جہاں دعاکے ساتھ جراحی بھی ناگزیرہوچکی ہے اورجتنی تاخیرہوگی،اتناہی آپریشن طویل،اذیت ناک اورجان لیواہوتاچلا جائے گا ۔
یہ مریض یہ کوئی فردنہیں،یہ کوئی جماعت نہیں،یہ پاکستان ہے۔زخمیدہ،کمزور، کراہتاہوا، ایک جاں بلب مریض کی مانند آپ کے سامنے پڑاہے جوبڑی مشکل سے رینگتاہوامعالج کے درتک توپہنچ گیاہے،مگراس کے جسم میں اتنی طاقت باقی نہیں رہی کہ وہ اپنی بیماری کا نام بھی لے سکے،اتنی طاقت نہیں کہ اپنی تکلیف بیان کرسکے۔یہ مریض بول نہیں سکتا،مگر اس کے زخم چیخ رہے ہیں۔یہ بولتانہیں،بس آنسوبہاتاہے،اس کے آنسو،کراہتیں اورزخم واضح ہیں۔زخموں سے چورجسم کے ہرعضوکی طرف اشارہ کرتاہے۔کبھی سرپکڑتاہے، جیسے سوچ کی قوت چھن گئی ہو۔کبھی دل پرہاتھ رکھتا ہے ، جیسے انصاف مرچکاہو۔کبھی دونوں ہاتھوں سے آنکھیں ڈھانپ کرپھوٹ پھوٹ کرروتاہے اورجب معالج ذراساحوصلہ دیتاہے تووہ آنکھوں ہی آنکھوں میں رحم، امیداورزندگی کی بھیک مانگنے لگتاہے۔
برسوں کی محرومیاں،ناانصافیاں اورٹوٹے خواب اس کے چہرے پرنقش ہیں،مگرزبان گنگ ہے۔جیسے مستقبل دیکھنے کی ہمت نہ رہی ہو۔یہ آنسو صرف آنسونہیں،یہ دہائی ہیں،یہ فریادیں ہیں،یہ سوال ہیں جووہ اپنے باسیوں اوراقتدارکے ایوانوں سے جواب مانگ رہے ہیں۔ اہلِ دردکی بے قراری،یہ کیفیت کچھ اورنہیں،یہ اس مریض کے لواحقین کی کیفیت ہے جوبسترِمرگ پرپڑاہو۔جوکسی معجزے کی آس میں ہو،کسی حکیم کے نسخے،کسی ماہرڈاکٹرکی دوا،یاکسی صاحبِ دل کی دعاسے زندگی لوٹ آنے کامنتظرہو۔