Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء
No upcoming prayer found.

طاقت کی بساط اور حکمت کا امتحان

(گزشتہ سے پیوستہ)
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرکے کمانڈرکابیان ایک کھلااعلان ہے کہ جنگ کی صورت میں دائرہ تصادم محدودنہیں رہے گا۔یہ وہ نقطہ ہے جہاں دفاع،پیش بندی میں بدل جاتاہے۔یہ اعلان دراصل جنگ کوخطے کی دہلیزتک کھینچ لانے کی دھمکی ہے جہاں ہرامریکی مفاد ایک ممکنہ ہدف ہے۔گویاعراق، اور خلیج میں تمام امریکی اڈے اب ایرانی حملوں کے خطرے سے ازاد نہیں جس کے لئے یقینا امریکا اورمغرب کوان اڈوں کے تحفظ کے لئے ایک غیرمعمولی فورس کی ضرورت ہوگی اوراس صورتحال میں امریکا اور مغرب پرجنگ کابے پناہ مالی ئو ؤان ملکوں کی جاری معیشت کوبے شمارمشکلات میں مبتلاکردے گا۔
ایرانی حکام کی وارننگزخطے کے اتحادیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہیں۔خلیج کے عرب ممالک کی جانب سے واشنگٹن دبائواس حقیقت کواجاگرکرتا ہے کہ جنگ کاایندھن اکثراتحادیوں کی سرزمین سے لیاجاتاہے، اتحادی اکثرطاقتوردوستوں کی جنگ میں سب سے پہلے جلتے ہیں مگربعدازاں آگ سب کولپیٹ میں لے لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی عدم استحکام کے بڑھتے ہوئے اس خطرہ کے تدارک کے لئے خلیجی ریاستیں اس ممکنہ امریکی حملے کوروکنے کے لئے شب وروز لابنگ میں مصروف ہیں تاکہ خطے سے اس ممکنہ خوفناک جنگ کے شعلوں کوبھڑکنے سے پہلے خاموش کردیا جائے۔
علاقائی پراکسیوں کاجال ایران کی اسٹریٹجک گہرائی کاحصہ ہے۔یہ ایران کاخاموش لشکرہے جوبظاہر غیرریاستی ہے مگرریاستی مقاصدکاامین ہے۔
اگرچہ بعض کمزورہوچکے، مگردیگر اب بھی بھاری ہتھیاروں اورنظریاتی وابستگی سے لیس ہیںاوریہی غیر یقینی عنصرسب سے زیادہ خطرناک ہوتاہے ۔ خطے میں حزب اللہ کوکافی کمزورکیاجاچکاہے مگروہ باقی اوربرقرار ہے اور خطے میں ملٹی خطرات میں پراکسی نیٹ ورک کے جال ک ابھی تک مکمل طور پرختم نہیں کیاجاسکاجس کی بناپرمعمولی چنگاری بھی آگ کے بڑے گوداموں میں دھماکے کے لئے کافی ہوتی ہے۔
کتائب حزب اللہ کے کمانڈرکابیان محض للکار نہیں،بلکہ ایک نظریاتی بسیج کااعلان ہے۔یہ جنگ پارک میں چہل قدمی نہیں ہوگی ،یہ جملہ مزاحمت کی نفسیات کوایک فقرے میں سمو دیتاہے جو ان تمام گروپوں کومتحرک کردینے کے لئے کافی ہے جواپنی جانیں ہتھیلی پر لئے میدان جنگ میں کودنے کے لئے ایک حکم کے منتظرہیں جس کے بعددنیابھر میں امریکی مفادات کے لئے خطرے کی گھنٹی بج سکتی ہے۔
ہرریاست اس آگ سے دوررہناچاہتی ہے ، مگر شعلے ہمسایہ ہونے کالحاظ نہیں رکھتے۔خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کونشانہ بنانے کی دھمکی،اورسعودی قیادت سے رابطہ،سفارت کاری اورجنگ کے بیچ جھولتی ہوئی صورتحال کی عکاسی ہے۔سعودی عرب کی پیشگی علیحدگی ایک محتاط خودحفاظتی حکمتِ عملی ہے،جبکہ دیگرریاستوں کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔اس حوالے سے سعودی کی غیر جانبداری،قطر،یو اے ای کی مبہم پالیسی اورپاکستان پرشدیددبائو نے خطے کوعجیب صورتحال سے دوچارکر رکھا ہے۔پاکستان کی فضائی حدود اور بلوچستان کے استعمال سے متعلق افواہیں محض عسکری نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست کا حساس باب ہیں۔ پاکستان کے لئے یہ فیصلہ محض ایک’’ ہاں یاناں‘‘ نہیں،بلکہ قومی سلامتی،علاقائی توازن اور داخلی استحکام کا سوال ہے۔ پاکستان کے لئے یہ فیصلہ تاریخ، جغرافیہ اورقوم تینوں کے سامنے جواب دہ ہے۔ انکار کی صورت میں بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے حوالے سے خدشات تاریخ کے ان سائے دارابواب کی یاد دلاتے ہیں جہاں بالواسطہ دبابراہِ راست جنگ سے زیادہ کارگرسمجھا جاتا ہے۔ جب بندوق سامنے سے نہ چلے توسازش پیچھے سے چلتی ہے۔ امریکی وزیرِخارجہ کے ذومعنی اشارے اسی روایت کاتسلسل دکھائی دیتے ہیں۔ بلوچستان کارڈ کھیلنے کی پشت پرشورش کافائدہ اٹھاتے ہوئے ہائبرڈجنگ کااژدھا ایک خطرہ بن کر ڈسنے کے لئے تیاربیٹھاہے۔
ایران پرحملے کی صورت میں پاک سعودی دفاعی معاہدہ ایک نازک امتحان سے دوچارہوگا۔یہ معاہدہ جنگ میں نہیں،جنگ سے بچنے میں آزمائش کاشکار ہوگا۔یہاں توازن، خاموش سفارت کاری اور پس پردہ مشاورت فیصلہ کن کرداراداکرے گی۔براہ راست فوجی مداخلت کا امکان نہیں لیکن اس کے لئے بھرپورمشاورت کی اہم ضرورت ہوگی ۔ترکی جیسا مضبوط علاقائی کھلاڑی عموما خاموش تماشائی نہیں رہے گامگرتلوار کی بجائے ترازوہاتھ میں رکھے گا۔اس کاردِعمل غالبا سفارتی دبا،علاقائی ثالثی اوراپنے مفادات کے تحفظ کے گرد گھومے گااوروہ نیٹوکے اہم اتحادی ہونے کے ناطے ایک متوازن کردارادا کرنے کے لئے ابھی سے سرگرم ہے۔
ادھردوسری طرف روس کی خاموشی چیخ سے زیادہ معنی خیزہوسکتی ہے۔روس کی خاموشی اگر برقراررہتی ہے تویہ یوکرین کے بدلے سودے بازی کی ایک اورمثال ہوسکتی ہے۔تاریخ میں طاقتور ریاستیں اکثر ایک محاذپرخاموشی کودوسرے محاذپرفائدے سے جوڑتی رہی ہیں۔روس یقینا خطے میں اس بڑھتی ہوئی کشیدگی میں سٹریٹجک ابہام سے کام لیتے ہوئے یوکرین میں اپنے مفادکی شطرنج میں فتح کی امیدلگائے بیٹھاہے۔
افغانستان کے بٹگرام ہوائی اڈے اورمبینہ سائبروارکی کہانی جدیددورکی غیرمرئی جنگ کا استعارہ ہے۔یہ جنگ بغیربارودکے تھی مگر نتائج آتشیں ہوسکتے تھے۔ایران کی جانب سے بروقت ردِعمل اس بات کی علامت ہے کہ آج کی جنگ صرف میدانوں میں نہیں، نیٹ ورکس میں بھی لڑی جاتی ہے۔حالیہ سائبروارمیں اسٹارلنک کی سازشوں کوناکام بنانے میں پاک ایران، چین ، روس کوآرڈینیشن نے ایک اہم کرداراداکیاہے جس کے بعدایران میں ہونے والے ہنگاموں سے حاصل ہونے والی منزل کو شدید ترین پسپائی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔
امریکاکی ناکامی کے بعدبراہِ راست حملے اور ہمسایہ ممالک پردباؤکاامکان ایک خطرناک کھیل کی طرف اشارہ کرتاہے۔خطے کے ممالک بظاہر خاموش ہیں، مگرپرد ہ سیمیں کے پیچھے سفارتی شطرنج جاری ہے، مقصدایک ہی ہے،اس آگ کوبھڑکنے سے پہلے بجھا دیاجائے،کیونکہ اس کے شعلے سرحدیں نہیں پہچانتے۔یہ خطہ ایک بارپھرتاریخ کے دہانے پرکھڑاہے جہاں ایک غلط قدم صدیوں کا بوجھ بن سکتاہے۔اس لئے محفوظ اورپرامن مستقبل کے کے لئے علاقائی کشیدگی،جنگ کی روک تھام کے لئے اجتماعی سفارت کاری کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں