Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

باطنی دروازہ اور نفس کا امتحان

تخلیق اور شرف کا اعلان سورہ الاعراف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ہم نے تمہیں پیدا کیا، تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔(الاعراف 7:11)
یہ اعلان محض ایک واقعہ نہیں بلکہ انسانی عظمت کا پہلا الٰہی منشور ہے۔ انسان مٹی سے بنایا گیا، مگر اس میں روح پھونکی گئی:
اس کی عزت اس کے مادے میں نہیں بلکہ اس نسبت میں ہے جو اسے اپنے خالق سے ملی۔ یہی وہ لمحہ ہے جب اسے خلافت ارضی کا منصب عطا ہوا (البقرہ 2:30)
انسان تاجدار بنا، مگر امتحان کے بغیر نہیں۔ ابلیس کا انکار اور تکبر،ابلیس نے کہا:
یہ پہلا گناہ تھا تکبر۔ آگ اور مٹی کا تقابل دراصل انا اور فروتنی کا تقابل ہے۔ ابلیس عبادت گزار تھا، مگر عاجز نہ تھا۔ علم، عبادت اور مقام انسان کو نہیں بچاتے اگر دل میں برتری کا زہر آ جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا‘‘ (صحیح مسلم)۔
تکبر انسان کو اللہ سے نہیں، اپنے نفس سے جوڑ دیتا ہے۔ یہی وہ دراڑ ہے جہاں سے شیطان داخل ہوتا ہے۔شیطان کی مہلت اور وسوسہ ۔
ابلیس نے اعلان کیا:
شیطان کی طاقت جبر میں نہیں، وسوسے میں ہے۔ وہ مجبور نہیں کرتا، وہ قائل کرتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:
زندگی کا اصل میدان باطن میں ہے۔ دشمن باہر سے کم، اندر سے زیادہ حملہ کرتا ہے۔ وسوسہ خاموش ہوتا ہے، مگر اثر گہرا چھوڑتا ہے۔
جنت، درخت اور اطاعت ،آدمؑ اور حواء ؑ کو جنت میں سکون ملا، مگر ایک درخت سے روکا گیا۔ یہ ممانعت آزادی کی نفی نہیں تھی بلکہ اطاعت کی آزمائش تھی۔ بندگی کا مفہوم یہی ہے کہ انسان خواہش پر نہیں، حکم پر چلے۔
ہر انسان کی زندگی میں ایک ’’درخت‘‘ ہوتا ہے ایک حد، ایک کشش، ایک امتحان۔ سوال یہ نہیں کہ درخت کہاں ہے، سوال یہ ہے کہ دل کس کے ساتھ ہے۔
لغزش اور شعور،شیطان نے دائمی زندگی اور نہ ختم ہونے والی بادشاہی کا لالچ دیا:
آدمؑ سے لغزش ہوئی۔ پردہ اٹھا تو کمزوری ظاہر ہوئی۔ یہی انسانی حقیقت ہے ، خطا ممکن ہے، مگر شعور بھی عطا کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ہر بنی آدم خطا کار ہے، اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں‘‘ (ترمذی)
توبہ باطنی دروازے کی کنجی ،آدمؑ نے فوراً رجوع کیا:
یہ الفاظ انسانی عظمت کا اصل تاج ہیں۔ گناہ کے بعد انکار نہیں، اعتراف۔ ضد نہیں، رجوع۔ یہی وہ لمحہ ہے جب باطنی دروازہ کھلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
مولاناجلال الدین رومیؒ فرماتے ہیں:’’زخم وہ جگہ ہے جہاں سے نور داخل ہوتا ہے۔‘‘ انسان کی شکست، اگر عاجزی میں بدل جائے، تو وہی اس کی روشنی بن جاتی ہے۔
زمین پر ہبوط سزا نہیں، ذمہ داری ، زمین محض جلاوطنی نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ جنت سکون کا مقام تھا، زمین شعور کا میدان ہے۔ یہاں انسان کو عدل قائم کرنا ہے، علم کو امانت سمجھنا ہے اور نفس کو قابو میں رکھ کر روح کی آواز سننی ہے۔
لباسِ تقویٰ ، روحانی برہنگی جسمانی برہنگی سے زیادہ خطرناک ہے۔ جب تقویٰ اتر جاتا ہے تو نفس غالب آ جاتا ہے۔
شیطان کے فریب سے بچائو معوذتین کی ڈھال، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اگر وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ طلب کرو۔ یہی پناہ سورہ الفلق اور سورہ الناس میں سمٹ آتی ہے۔
صبح و شام اخلاص کے ساتھ ،قل اعوذ برب الفلق،قل اعوذ برب الناس، پڑھنا روحانی ڈھال ہے۔
رسول اللہ ﷺ ان سورتوں کو صبح و شام پڑھتے اور سوتے وقت اپنے اوپر دم فرماتے تھے (بخاری، ابو دائود)
رب الفلق اندھیرے کو چاک کرتا ہے۔رب الناس دلوں کا مالک ہے۔شیطان دل میں وسوسہ ڈالتا ہے، مگر دل کا مالک اللہ ہے۔
قرآن کہتا ہے:
شیطان کی چال کمزور ہے بشرطیکہ انسان اللہ کی طرف رجوع کرے۔روحانی خلاصہ ،قصہ آدمؑ ہر انسان کی اپنی داستان ہے۔عزت ملی۔ آزمائش آئی۔ لغزش ہوئی۔ توبہ ہوئی، ذمہ داری ملی،ہر انسان کے اندر ایک آدم ہے اور ایک وسوسہ۔ ہر دن ایک درخت ہے۔ ہر لمحہ ایک موقع ہے کہ ہم ربنا ظلمناا نفسنا کہہ کر اپنے باطن کا دروازہ کھول دیں۔
آدمؑ کی عظمت بے خطائی میں نہیں بلکہ عاجزی میں ہے۔زمین سزا نہیں، امانت ہے۔نفس امتحان ہے، مگر روح رہنما ہے۔دروازہ بند نہیں انسان خود بند کرتا ہے اور فوری توبہ و استغفار اس دروازے کی اصل دستک ہے اور معوذتین ڈھال ہیں۔ ڈھال موجود ہے۔شر کمزور ہے اور رب قریب ہے۔

یہ بھی پڑھیں