Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

ایک فرنیچر فروش کا وصیت نامہ

سویڈن کے ایک سرد اور خاموش گائوں میں جہاں سال کے بیشتر مہینوں میں برف زمین کو سفید چادر اوڑھا دیتی ہے اور زندگی کی سختیاں انسان کو وقت سے پہلے سنجیدہ بنا دیتی ہیں ایک بچہ پیدا ہوا۔ اس بچے کا نام انگوار کمپراد تھا۔ یہ سنہ انیس سو چھبیس کی بات ہے۔ گائوں کا نام سمالینڈ تھا۔ یہاں کے لوگ فطرت سے کفایت شعار تھے۔ کہا جاتا تھا کہ یہاں پانی بھی سوچ کر استعمال کیا جاتا ہے۔ زمین سخت تھی موسم بے رحم تھا اور وسائل محدود تھے۔ مگر انہی سختیوں نے ایک ایسی شخصیت کو جنم دیا جس نے بعد میں دنیا کی کاروباری تاریخ بدل دی۔انگوار کمپراد کا بچپن آسائشوں میں نہیں گزرا۔ وہ کسی بڑے محل یا سرمایہ دار خاندان میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔ غربت ان کے گھر کی مستقل مہمان تھی۔ مگر غربت نے ان کے اندر احساس محرومی نہیں بلکہ جدوجہد کا جذبہ پیدا کیا۔ پانچ برس کی عمر میں وہ مچھلیاں بیچنے لگے۔ سات برس کے ہوئے تو سائیکل پر پنسلیں اور چھوٹی موٹی چیزیں رکھ کر آس پاس کے دیہات میں بیچنے نکل جاتے۔ ان کی آنکھوں میں ایک خواب تھا۔ ایسا خواب جو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ عام آدمی کو بھی معیاری چیز مناسب قیمت پر ملے۔سترہ برس کی عمر میں انہوں نے اپنے والد سے سکول میں اچھی کارکردگی پر ملنے والی تھوڑی سی رقم سے ایک کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اس کمپنی کا نام انہوں نے IKEA رکھا۔ یہ نام ان کے اپنے نام Ingvar Kamprad اور ان کے خاندانی فارم Elmtaryd اور گائوں Agunnaryd کے ابتدائی حروف سے بنا۔
ابتدا میں یہ ایک سادہ سا میل آرڈر کاروبار تھا۔ گھڑیاں، پنسلیں، چھوٹی موٹی اشیا فروخت کی جاتی تھیں۔ مگر جلد ہی انگوار نے فرنیچر کی دنیا میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا۔یہاں سے ایک انقلاب شروع ہوا۔ ایک دن ایک میز کو ٹرک میں لے جاتے ہوئیمیز کی کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔ اس معمولی سے حادثے نے ایک غیر معمولی خیال کو جنم دیا۔ کیوں نہ فرنیچر کو اس طرح بنایا جائے کہ اس کے حصے الگ الگ ہوں اور گاہک خود انہیں جوڑ لے۔ یوں فلیٹ پیک فرنیچر کا تصور سامنے آیا۔ اس خیال نے لاگت کم کر دی۔ نقل و حمل آسان بنا دی اور قیمت عام آدمی کی پہنچ میں لے آئی۔ IKEAکا فلسفہ یہی تھا کہ کم قیمت میں بہتر معیار۔ یہ صرف کاروبار نہیں تھا بلکہ ایک سماجی نظریہ تھا۔انگوار کمپراد کی ذاتی زندگی بھی اسی فلسفے کی آئینہ دار تھی۔ وہ دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے لگے۔ ان کی دولت اربوں ڈالر تک جا پہنچی۔ مگر ان کی زندگی میں نمود و نمائش کا شائبہ تک نہ تھا۔ وہ پرانے بازاروں سے کپڑے خریدتے۔ ہوٹل میں کھانا کھاتے تو نمک مرچ کے پیکٹ سنبھال کر رکھ لیتے تاکہ ضائع نہ ہوں۔ چائے کے ساشے دوبارہ استعمال کرتے۔ بیس سال پرانی والوو گاڑی چلاتے رہے۔ ہوائی سفر میں ہمیشہ اکانومی کلاس میں بیٹھتے۔ وہ کہتے تھے کہ میں فضول خرچی سے نفرت کرتا ہوں اور اس پر فخر کرتا ہوں۔سنہ انیس سو چھیتر میں انہوں نے ایک دستاویز تحریر کی جسے انہوں نے فرنیچر فروش کا وصیت نامہ کہا۔ اس میں سادگی، کفایت شعاری اور کم لاگت پر زور دیا گیا۔ یہی وصیت نامہ آج بھی انکے سٹور ایکیا میں ملازمت اختیار کرنے والے ہر کمپنی ملازم کو دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی کمپنی کو اس انداز میں ترتیب دیا کہ وہ طویل عرصے تک آزاد اور مستحکم رہے۔ ان کی وفات سنہ دو ہزار اٹھارہ میں ہوئی مگر ان کا مشن زندہ ہے۔ آج دنیا بھر میں IKEA کے سینکڑوں اسٹور موجود ہیں۔ امریکہ کے مختلف شہروں میں نئی شاخیں کھل رہی ہیں۔ آن لائن فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک غریب گائوں کا بچہ آج بھی کروڑوں گھروں میں موجود ہے۔ اس کی سادگی کاروباری دنیا میں ایک مثال بن چکی ہے۔اب ذرا منظر بدلتے ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی سیاست کی طرف آتے ہیں۔ یہاں ایک اور کہانی ہے۔ مریم نواز شریف کی کہانی۔ وہ ایک طاقتور سیاسی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد نواز شریف تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہے۔ مریم نواز خود پنجاب کی خاتون وزیر اعلیٰ بنیں۔ پنجاب بارہ کروڑ سے زائد آبادی کا صوبہ ہے مگر یہ صوبہ قرضوں اور معاشی دبا کا شکار ہے۔ انکے صوبہ پنجاب کا بیرونی قرضہ سترہ سو ارب سے تجاوز کر چکا ہے۔ مہنگائی عام آدمی کی کمر توڑ چکی ہے۔
لاہور جیسے بڑے شہر میں بھی خودکشیوں اور غربت کی تصاویر روز دیکھی جا سکتی ہیں۔ایسے حالات میں حکمرانوں کی سادگی امید پیدا کرتی ہے اور ان کی عیاشی مایوسی۔ مریم نواز کی شخصیت کے گرد ہمیشہ آسائشوں کی چمک رہی ہے۔ مہنگے بیگ، قیمتی گھڑیاں، غیر ملکی جوتے، شاہانہ انداز سفر۔ مگر حالیہ تنازعہ ایک لگژری طیارے کی خریداری پر کھڑا ہوا۔ پنجاب حکومت نے تقریباً گیارہ ارب ستر کروڑ روپے مالیت کا ایک جدید طیارہ خریدا ہے جو Gulfstream G500 طرز کا ہے۔ انیس نشستوں والا جدید ترین کاروباری جہاز جو دنیا کے امیر ترین طبقے کے استعمال میں آتا ہے۔حکومت نے غلط بیانی کی اور کہا کہ یہ طیارہ ایئر پنجاب نامی منصوبے کے لیے ہے۔ جب ملک عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرامز پر انحصار کر رہا ہو۔ جب عام آدمی بجلی کے بل اور آٹے کی قیمت سے پریشان ہو۔ جب نوجوان روزگار کی تلاش میں دربدر ہوں۔ تو کیا یہ وقت لگژری طیارے خریدنے کا ہے۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی اس اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔ ملک کا بچہ بچہ یہ سوال کر رہا ہے کہ کیا حکمران طبقہ عوام کی تکلیف کو کبھی محسوس کرے گا بھی یانہیں؟یہاں دو کردار آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ ایک طرف انگوار کمپراد غربت سے اٹھا ہوا شخص جس نے دولت کو خدمت کا ذریعہ بنایا۔ جس نے اپنی زندگی میں سادگی کو شعار بنایا۔ جس کی کنجوسی دنیا کے لیے ایک کاروباری فلسفہ بن گئی۔ دوسری طرف ایک سیاسی حکمران جو ایسے صوبے کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے جہاں لوگ بنیادی سہولتوں کے لیے ترس رہے ہیں۔یہ موازنہ صرف دو افراد کا نہیں۔ یہ دو طرز فکر کا فرق ہے۔ ایک سوچتی ہے کہ وسائل محدود ہیں اس لئے انہیں بچا کر عام آدمی تک پہنچانا ہے۔ دوسری سوچ یہ ہے کہ اقتدار کا مطلب اختیار اور اختیار کا مطلب آسائش۔ انگوار کمپراد نے دکھایا کہ قیادت مثال سے قائم ہوتی ہے۔ اگر سربراہ سادہ ہو تو ادارہ بھی سادہ رہتا ہے۔ اگر اوپر کفایت شعاری ہو تو نیچے تک اس کی جھلک پہنچتی ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہر سال بجٹ خسارے اور قرضوں کا ذکر ہوتا ہے وہاں حکمرانوں کا طرز زندگی ایک علامت بن جاتا ہے۔ عوام اپنے لیڈروں میں اپنا عکس دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جو ان کے لیے فیصلے کر رہا ہے وہ ان کے دکھ کو سمجھے۔ جب حکمران سادگی اپناتے ہیں تو قوموں میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ جب وہ شاہانہ طرز زندگی اپناتے ہیں تو فاصلے بڑھتے ہیں۔انگوار کمپراد کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ اصل امارت کردار میں ہوتی ہے۔ دولت انسان کو بڑا نہیں بناتی بلکہ اس کا درست استعمال بڑا بناتا ہے۔ انہوں نے اپنی کمپنی کو اس نہج پر ڈالا جہاں منافع کے ساتھ ساتھ سماجی ذمہ داری بھی شامل تھی۔ ان کی سادگی نے اعتماد پیدا کیا۔ یہی اعتماد ان کی سب سے بڑی طاقت بنا۔ کیا ہمارے حکمران بھی ایسا کر سکتے ہیں؟ کیا وہ یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ قوم مشکل میں ہے تو ہم بھی سادگی اختیار کریں ؟ کیا وہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اقتدار خدمت ہے نہ کہ آسائش۔ تاریخ میں وہی رہنما زندہ رہتے ہیں جو اپنے دور میں مثال قائم کرتے ہیں۔ باقی صرف خبروں میں چند دن رہتے ہیں اور پھر ماضی کا حصہ بن جاتے ہیں۔دو دنیائیں ہمارے سامنے ہیں۔ ایک کی بنیاد سادگی پر ہے اور دوسری پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ ایک نے برفانی گائوں سے اٹھ کر دنیا بدل دی۔ دوسری کو موقع ملا ہے تو عوامی وسائل کو بے دردی سے جھونکا جا رہا ہے۔کیا ہم اپنے حکمرانوں سے انگوار کمپراد جیسی سادگی کی توقع کر سکتے ہیں یا ہم عیاشی کے طوفان کو ہی اپنا مقدر مان لیں گے؟

یہ بھی پڑھیں