Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

جب تاریخ سانس روکے کھڑی تھی

(گزشتہ سےپیوستہ)
جمعرات کوٹرمپ نے ایران کوجاری مذاکرات میںبامعنی معاہدے تک رسائی کے لئے زیادہ سے زیادہ 10دن کی مہلت دی،ٹرمپ کی جانب سے دس دن کی مہلت دینادراصل ایک نفسیاتی دباؤکی حکمتِ عملی معلوم ہوتی ہے۔یہ طرزِبیان مذاکرات کووقت کی قیدمیں لاکرفریقِ ثانی کوجلدفیصلہ کرنے پرمجبورکرتاہے۔یہ اعلان بظاہرایک سفارتی پیشکش تھا،مگراس کی ساخت میں دباؤ کی کیفیت نمایاں تھی۔وقت کی تحدیدمذاکرات کونفسیاتی دائرے میں قیدکردیتی ہے،جہاں فریقِ ثانی کوجلدی فیصلہ کرنے پرآمادہ کیاجاتاہے۔
ایران نے جواباً یورینیم کی افزودگی کو اپنا خودمختاری کاناقابلِ تنسیخ حق قراردے کریہ پیغام دیاکہ وہ بنیادی اصولوں پرپسپائی اختیارنہیں کرے گا۔یہ وہ نکتہ ہے جہاں خودمختاری اورعالمی دباکی رسہ کشی پوری شدت سے عیاں ہے۔یہاں اصل نزاع معاہدے کی شقوں سے زیادہ وقارِریاست کا ہے۔تہران کے نزدیک یہ معاملہ محض تکنیکی نہیں بلکہ قومی وقاراوردفاعی خودمختاری کا مسئلہ ہے۔یہاں سوال یہ نہیں کہ کتنی افزودگی ہوگی، سوال یہ ہے کہ کون فیصلہ کرے گا؟
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہوکابیان اس بحران کودو طرفہ کشمکش سے نکال کرسہ فریقی تنامیں بدل دیتا ہے۔ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لئے خطرہ تصورکرتاہے۔ چنانچہ اگر امریکااقدام کرے یانہ کرے،اسرائیل اپنی سلامتی کے تناظرمیں یکطرفہ کارروائی کوبھی خارج ازامکان نہیں سمجھتا۔اس پہلوسے بحران کی نوعیت زیادہ پیچیدہ ہوجاتی ہے ۔اس تناظرمیں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکابیان بھی نہایت اہم ہے۔انہوں نے خبردارکیاکہ اگرایران نے حملہ کیا تو اسرائیل بھرپورجواب دے گا۔اس بیان نے مشرقِ وسطیٰ کی فضاؤں میں پہلے سے موجودبارودکی بوکواور گہرا کردیا۔اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کواپنے وجود کے لئے خطرہ تصورکرتاہے۔ چنانچہ یہ بحران دوفریقوں تک محدودنہیں رہتابلکہ ایک وسیع علاقائی معادلے میں تبدیل ہوجاتاہے، جہاں ہراقدام کاردِعمل کئی سمتوں میں ظاہرہو سکتاہے۔
عمان طویل عرصے سے خلیجی سیاست میں ایک معتدل ثالث کے طورپرجاناجاتاہے۔6فروری کو عمان کی ثالثی میں امریکااورایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کاآغازہوا۔ عمان خطے میں ایک معتدل اورقابلِ اعتماد ثالث کے طورپرجاناجاتا ہے۔اس کے بعدجنیوامیں دوسرا دورمنعقدہوا،جس کے اختتام پردونوں فریقوں نے مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کااظہارکیا۔یہ مذاکرات اس امرکاثبوت ہیں کہ سفارت کا دروازہ ابھی بندنہیں ہوا۔مگریہ دروازہ نیم واہے ،اس کے ایک طرف امیدکھڑی ہے،اوردوسری طرف اندیشہ۔ تاہم شروع ہونے والی بالواسطہ بات چیت اورجنیوامیں ہونے والا دوسرادوراس امرکی علامت ہے کہ دونوں فریق دروازہ بندنہیں کرناچاہتے۔یہ مذاکرات دراصل اس نازک توازن کی علامت ہیں جس میں جنگ کی دھمکی اورامن کی خواہش بیک وقت موجودہیں۔سفارت کے اس نرم قالین کے نیچے عسکری اضطراب کی لہریں بدستوررواں ہیں۔
امریکی اخباروال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیاکہ ٹرمپ ایران کے خلافمحدودفوجی حملے کے امکان پرغورکررہے ہیں۔تاکہ اسے جوہری معاہدے پرآمادہ کیاجاسکے۔رپورٹ کے مطابق ممکنہ کارروائی مخصوص فوجی یاسرکاری اہداف تک محدودہوگی،مگراس میں توسیع کاامکان بھی موجودہے۔ٹرمپ کے اس بیان نے بحران کوایک نیارخ دے دیاہے۔ محدود فوجی حملہ کاتصور بظاہرکم شدت کی کارروائی معلوم ہوتاہے،مگرتاریخ بتاتی ہے کہ محدودکارروائیاں اکثروسیع تصادم کاپیش خیمہ بن جاتی ہیں اورمحدودحملے اکثروسیع تنازعات کاپیش خیمہ بن جاتے ہیں۔1990ء کی دہائی میں عراق پر عائد محدود پابندیاں بالآخرایک مکمل جنگ کی صورت اختیار کر گئیں۔ لہٰذا محدودکی اصطلاح خودایک فریبِ نظربھی ہو سکتی ہے۔ ایسااقدام ایران پردبائوڈالنے کاذریعہ ہو سکتا ہے،مگراس کاردِعمل بھی محدود رہے،یہ ضمانت کوئی نہیں دے سکتا۔
صدرٹرمپ کی جانب سے حتمی فیصلہ مؤخررکھنا اس بات کااشاریہ ہے کہ واشنگٹن میں عسکری اورسیاسی حلقوں میں مکمل اتفاق رائے نہیں۔ایک طرف طاقت کے مظاہرے کی خواہش ،دوسری جانب ممکنہ جنگ کے نتائج کاخوفیہ دومتضاد رجحانات فیصلہ سازی کو پیچیدہ بناتے ہیں۔امریکی انتظامیہ کوایک طرف طاقت کا مظاہرہ کرناہے،اوردوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگ کے نتائج کا اندازہ بھی لگاناہے۔افغانستان اورعراق کے تجربات ابھی تاریخ کے اوراق سے مٹے نہیں۔تاہم اخبارکے مطابق صدرنے حتمی فیصلہ نہیں کیا،بلکہ مختصرمہم سے لے کروسیع عسکری کارروائی تک مختلف آپشنززیرغور ہیں۔گویاشطرنج کی بساط بچھی ہے،مگرآخری چال ابھی پرد ہ غیب میں ہے۔
امریکی حکام خودتسلیم کرتے ہیں کہ حملہ ایران کوجوابی کارروائی پرآمادہ کرسکتاہے،جس سے مشرقِ وسطی وسیع ترتنازعے میں مبتلاہوسکتا ہے۔ ایران کے پاس میزائل صلاحیتیں اور خطے میں اتحادی گروہوں کاایسا نیٹ ورک موجودہے ج امریکی اڈوں اوراتحادی ریاستوں کونشانہ بناسکتا ہے۔یوں ایک چنگاری پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اوریہ آگ سرحدوں کی قیدمیں نہیں رہے گی۔یوں ایک محدودکارروائی پورے خطے کوجنگی دائرے میں لاسکتی ہے او محدود چنگاری بھڑک کرخطے کوآگ کی لکیرمیں بدل سکتی ہے۔۔
سینئرامریکی اورایرانی حکام کے درمیان بات چیت جاری ہے۔امریکاایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اوربیلسٹک میزائلوں پر پابندیاں عائد کرنے کاخواہاں ہے،جبکہ تہران جامع معاہدے کومسترد کرتے ہوئے محدود رعایتوں پرآمادہ ہے جو اس کے نزدیک خودداری اورمفاہمت کے درمیان ایک نازک توازن ہے۔ایران کے نزدیک جامع معاہدہ اس کی دفاعی خودمختاری کوکمزورکرسکتاہے۔یہ اختلاف دراصل اعتمادکے فقدان کامظہرہے ،دونوں فریق ایک دوسرے کی نیت پرمکمل یقین نہیں رکھتے اوریہی بے اعتمادی مذاکرات کو مشکل بناتی ہے۔
خطے میں امریکی افواج کی موجودگی میں اضافہ ہورہاہے۔جدید لڑاکاطیاروں،کمانڈاینڈ کنٹرول ایئکرافٹ اورطیارہ برداربحری جہازکی تعیناتی دراصل ایک خاموش پیغام اورا س صف بندی کا حصہ ہیں کہ سفارت کی میزپربیٹھنے والافریق عسکری طاقت سے بھی بے نیاز نہیں۔یہ دباؤ مذاکرات میں فوقیت حاصل کرنے کی کوشش کاحصہ ہے۔یہ عسکری تیاری سفارت کی میزپردباؤکاخاموش مگر مؤثراستعارہ ہے۔پیغام واضح ہے:اگرالفاظ ناکام ہوئے توطاقت موجودہے۔
ٹرمپ کاکہناکہ دنیادس دن میں جان لے گی،کہ آیاامریکاایران کے ساتھ معاہدہ کرے گایافوجی کارروائی کی راہ اپنائے گا۔ان کے الفاظ میں،ہمیں بامعنی معاہدہ کرناہوگا،ورنہ برے واقعات ہوں گے، دراصل ایک سیاسی بیانیہ ہے جوداخلی اورخارجی دونوں سامعین کو مخاطب کرتاہے۔ یہ اعلان عالمی میڈیامیں بحران کی شدت کوبڑھا دیتا ہے اورایران کو دفاعی پوزیشن میں لے آتاہے۔ علاوہ ازیں یہ اعلان داخلی سیاست کے لئے بھی اہم ہے،کیونکہ امریکی عوام اورکانگریس دونوں اس معاملے پرمنقسم ہیں۔
امریکانے حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطی میں اپنے دستے بڑھائے ہیں،جبکہ سوئٹزرلینڈمیں ہونے والی بات چیت میں پیش رفت کی اطلاعات نے امیدکی فضاء پیداکی ہے اورامن کی کرن دکھاتی ہیں،مگرفوجی دستوں کااضافہ اس امیدکو سای خوف میں بدل دیتا ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں