Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

مصنوعی ذہانت سے وادی فنا اور حقیقت تک

انسانیت آج ایک غیر معمولی دوراہے پرکھڑی ہے۔ ہم ایسی مشینیں تخلیق کر رہے ہیں جو انسانی ذہن سےزیادہ تیزی سےحساب لگاتی ہیں، ایسے نمونے پہچانتی ہیں جو ہماری بصیرت سے آگےہیں اورایسی زبان پیداکرتی ہیں جوانسانی فکر سےمشابہ دکھائی دیتی ہے۔ مصنوعی ذہانت نے علم، تحقیق، طب، معیشت، تعلیم اور ابلاغ کے میدان میں حیران کن انقلاب برپا کر دیا ہےمگر اس تیزرفتارترقی کے بیچ ایک بنیادی سوال خاموشی سے ہمارے سامنے کھڑا ہے:اگر ذہانت بڑھ جائے تو کیا حکمت بھی بڑھتی ہے؟اگر معلومات بڑھ جائیں تو کیا انسان بھی بہتر ہوجاتاہے؟یہ سوال نیانہیں۔ آٹھ صدیوں پہلے، اپنی شہر آفاق تصنیف The Conference of the Birds (منطق الطیر) میں عطار نیشاپوری نے اسی انسانی کشمکش کا جواب ایک تمثیلی مگر عمیق انداز میں پیش کیا،ایسا جواب جو آج کے ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے دور میں پہلے سے زیادہ بامعنی محسوس ہوتا ہے۔مرغان کی مجلس انسان کا آئینہ عطار کے قصےمیں دنیا کے تمام پرندے جمع ہوتے ہیں۔ وہ پریشان ہیں، منتشر ہیں، بےسمت ہیں۔ انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کا کوئی حقیقی بادشاہ نہیں۔ وہ رہنمائی چاہتےہیں، وحدت چاہتے ہیں، ایک ایسی قیادت چاہتے ہیں جو انہیں معنی اور مقصد عطا کرے۔یہ منظر آج کے انسان کا آئینہ ہے۔ہمارے پاس انفارمیشن ہےمگر سمت نہیں۔ہمارے پاس کنیکٹیویٹی ہےمگر قلبی وحدت نہیں۔ ہمارے پاس ڈیٹا ہے مگر روحانی پیاس باقی ہے۔پرندوں کی مجلس میں دانا ہدہد کھڑا ہوتا ہے۔ وہ انہیں سیمرغ کی خبر دیتا ہےایک عظیم بادشاہ جو کوہِ قاف کے پار ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر تمہیں اپنی بےسمتی کا علاج چاہیے تو تمہیں سفرکرنا ہوگا۔یہی پیغام آج کی دنیا کے لیے ہے: ٹیکنالوجی منزل نہیں، صرف وسیلہ ہے۔اصل سفر اندر کا ہے۔سات وادیاں انسان کی روحانی ارتقا کی سیڑھیاں سیمرغ تک پہنچنے کے لیے پرندوں کو سات وادیوں سے گزرنا پڑتا ہے:
1وادی طلب 2 وادی عشق3وادی معرفت 4 وادی استغنا5وادی توحید 6وادی حیرت7وادی فنایہ سات مراحل دراصل انسانی نفس کی تطہیرکے مراحل ہیں۔آج کی تہذیب شاید وادی معرفت میں کھڑی ہے۔ ہمارے پاس معلومات کا سمندر ہے۔ سرچ انجن، الگورتھمز، ڈیٹا بیس، نیورل نیٹ ورکس سب کچھ دستیاب ہےلیکن وادی عشق کےسامنے ہم رک جاتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت حساب کر سکتی ہے مگر محبت نہیں کر سکتی۔وہ الفاظ بنا سکتی ہے مگر آنسو نہیں بہا سکتی۔وہ ہمدردی کی نقل کر سکتی ہے مگر دل کی دھڑکن محسوس نہیں کر سکتی۔عطار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ صرف عقل سے منزل نہیں ملتی۔وادی عشق علم کے غرور کو جلا دیتی ہے۔شاید آج ٹیکنالوجی کا غرور سب سے بڑا حجاب ہے یہ خیال کہ ہم سب کچھ جان سکتے ہیں، سب کچھ کنٹرول کرسکتےہیں، سب کچھ پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ جدید بحران طاقت کاعدم توازن انسان آج پہلے سے زیادہ طاقتور ہے۔ہم جینیاتی ترمیم کر سکتےہیں، سیٹلائٹ سے دنیادیکھ سکتے ہیں، مصنوعی ذہانت سےفیصلے کرسکتےہیں مگر سوال یہ ہے:کیا ہم اتنے ہی اخلاقی بھی ہوئے ہیں؟اگر بیرونی طاقت بڑھےاوراندر کی اصلاح نہ ہو، تو عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔یہی عدم توازن تہذیبوں کے زوال کا سبب بنتا ہے۔مصنوعی ذہانت خود خطرہ نہیں؛خطرہ وہ نفس ہےجو اس طاقت کو استعمال کرےگا۔جدائی کا فریب سیمرغ کا رازجب ہزاروں پرندوں میں سے صرف تیس منزل تک پہنچتے ہیں، تو وہ ایک آئینہ دیکھتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ سیمرغ کوئی الگ وجود نہیں تھا سی مرغ یعنی وہ خود تھے مگر پاک، متحد اور بدلے ہوئے۔یہی اصل راز ہے۔طالب اور مطلوب جدا نہیں۔انسان جس حقیقت کوباہر تلاش کرتا ہے، وہ اس کےاندر پوشیدہ ہے۔آج انسان طاقت کو مشین میں ڈھونڈ رہا ہے، الگورتھم میں تلاش کررہا ہے،ڈیٹا میں دیکھ رہا ہےمگر اصل انقلاب اندر ہوتا ہےشعور کی تبدیلی میں،نیت کی تطہیر میں۔مصنوعی ذہانت کا اصل بحران ٹیکنالوجی نہیں روحانیت کی کمی ہے۔ذہانت اور نفس اصل معرکہ مصنوعی ذہانت کے پاس نفس نہیں؛ وہ ایک آلہ ہےمگر انسان کےپاس نفس ہے خواہش، غرور،حرص، خوف، خود پرستی۔خطرہ یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت انسان سے آگے نکل جائے،خطرہ یہ ہے کہ انسان کا نفس اس طاقت سے اور زیادہ مضبوط ہوجائے۔عطارکی وادی فنا تباہی نہیں، بلکہ انا کا خاتمہ ہے۔جب میں کمزور ہوتا ہے، تو ہم مضبوط ہوتا ہے۔جب خود پرستی مٹتی ہے، تو وحدت ظاہر ہوتی ہے۔اگر ہماری تہذیب اس وادی سے نہ گزری تو ٹیکنالوجی شفا کےبجائے تقسیم کو بڑھا دے گی معاشی خلیج، فکری انتشار،اخلاقی بحران۔پیش گوئی سے حضورتک نئے دور کی سمت ہم پیش گوئی کے دورسےحضور کےدور کی طرف بڑھ رہے ہیں۔الگورتھم مستقبل کا اندازہ لگاتےہیں مگر حضور یعنی شعوری بیداری دل کو بدل دیتی ہے۔مستقبل محفوظ تب ہوگا جب ٹیکنالوجی کے ساتھ اخلاق بھی بڑھے،جب ڈیٹاکے ساتھ دل بھی روشن ہو،جب رفتار کے ساتھ وقار بھی ہو۔عطار کا پیغام آج بھی گونج رہا ہے:
تزکیہ کے بغیر طاقت فتنہ بنتی ہے۔
عشق کے بغیر علم تکبر بن جاتا ہے۔
خودی کے بغیر وحدت ممکن نہیں۔یہ صرف صوفیانہ اشعار نہیں یہ تہذیبی بقاء کا اصول ہے۔اہم پیغام جدید انسان کے لیے سبق پرندوں نے جان لیا کہ بادشاہ باہر نہیں تھا؛وہ ان کی اپنی پاکیزہ اور متحد حقیقت تھی۔یہی سبق آج کے انسان کے لیے ہے،انسان کو اپنی تخلیقات سے نہیں ڈرنا چاہیےبلکہ اپنی نیتوں کو پاک کرنا چاہیے۔ٹیکنالوجی ذہن کی مددگار ہے مگر الہی محبت روح کی رہنما ہے۔اگر ہم غرور، حرص، خود پرستی اور طاقت کے نشے کی وادی سے گزرجائیں،تو مصنوعی ذہانت وہی بن جائےگی جو اسےہونا چاہیے،انسانی حکمت کی خدمتگار نہ کہ اس کا متبادل۔ شاید آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ نہیں کہ ہم مزید ذہین مشینیں بنائیں بلکہ یہ ہے کہ ہم زیادہ بیدار انسان بنیں۔عطار کا پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تہذیب کی بقا کا راز بیرونی ترقی میں نہیں، اندرونی ارتقا میں ہے۔اگر انسان اپنے نفس کو پہچان لے،اگر وہ وادی فنا سے گزر جائے،اگر وہ حقیقت کی جھلک دیکھ لے تو پھر نہ ٹیکنالوجی خطرہ ہوگی، نہ طاقت فتنہ۔تب مصنوعی ذہانت ایک نعمت ہوگی اور انسان، اپنی اصل شان میں، حکمت کا امین ہے۔

یہ بھی پڑھیں