Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

جب تاریخ سانس روکے کھڑی تھی

(گزشتہ سےپیوستہ)
یہی عصرِحاضر کی سفارتکاری کاپیراڈکس ہے یہ دوہرامنظر عصرِحاضر کی عالمی سیاست کاخاصہ ہے ،امن کی گفتگواور جنگ کی تیاری ساتھ ساتھ ۔یوں ایک ہاتھ میں تلواراور دوسرے میں سفارتی دستاویزیہی عصرِحاضر کی مکار سیاست کادوہراچہرہ ہے۔امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹک اراکین اوربعض رپبلکن رہنمابغیرمنظوری فوجی کارروائی کی مخالفت کررہے ہیں۔امریکی قانون سازوں کی مخالفت اس امرکی یاددہانی ہے کہ امریکا میں جنگ کافیصلہ یکطرفہ نہیں۔یہ داخلی اختلاف امریکی پالیسی سازی کوپیچیدہ بنا سکتاہے۔اگرکانگریس کی منظوری کے بغیراقدام کیاگیا تو داخلی سیاسی بحران بھی جنم لے سکتا ہے۔یہ پہلوٹرمپ کی حکمتِ عملی پراثر اندازہوسکتاہے اوریہ داخلی سیاسی کشمکش امریکی پالیسی سازی کے توازن کومتاثرکرسکتی ہے۔
ٹرمپ نے اپنےخصوصی ایلچی ستیووِٹکوف اور اپنےدامادجیرالڈکشنزکی ایران کے ساتھ اچھی ملاقاتوں کاذکرکیامگرساتھ ہی یہ اعتراف بھی کیاکہ ایران کے ساتھ بامعنی معاہدہ آسان نہیں۔ تاہم بیک ڈورچینل کی ملاقاتیں اس بات کااشارہ ہیں کہ پسِ پردہ سفارتکاری جاری ہے یہ پسِ پردہ سفارت کاری بعض اوقات رسمی مذاکرات سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اس میں لچک اور رازداری زیادہ ہوتی ہے۔
وائٹ ہائوس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ کابیان اس امرکی علامت ہے کہ واشنگٹن تاحال سفارتی حل کوترجیح دیتاہے،اگرچہ عسکری آپشن کومیزسے ہٹایانہیں گیا۔انہوں نے مزید کہاایران کے لئے معاہدہ کرنا دانشمندانہ ہوگا،اورصدراب بھی سفارتی حل کے خواہاں ہیں۔ یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن عسکری آپشن کومیز پررکھتے ہوئے بھی سفارت کوترک نہیں کرناچاہتا۔یہ بیان سفارت کی آخری کھڑکی کوکھلارکھنے کی سعی معلوم ہوتاہےلیکن بعض سیاسی مبصرین ٹرمپ کی سابقہ پالیسیوں کودیکھتے ہوئے اس بات کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ٹرمپ کبھی بھی عالمی سیاست میں دھماکہ کرسکتے ہیں۔
ابتدامیں بورڈآف پیس کامقصد اسرائیل اورحماس کے درمیان غزہ کی جنگ کاخاتمہ سمجھاجاتا تھا،اسی لئے ابتدامیں بورڈآف پیس کامقصد غزہ میں جنگ کےخاتمے کی نگرانی بتایا گیاتھامگراب اس کادائرہ وسیع ہوچکاہےاوریہ اس تاثرکوتقویت دیتاہےکہ امریکابعض معاملات میں اقوام متحدہ سے ہٹ کرمتوازی سفارتی پلیٹ فارم قائم کرناچاہتاہے۔یہ عالمی طاقت کےتوازن میں تبدیلی کااشارہ ہوسکتاہے۔ بعض مبصرین کے نزدیک یہ اقدام عالمی سیاست میں اقوام متحدہ کوپسِ پشت ڈالنےکی کوشش بھی ہوسکتاہے۔اگرایساہے تویہ عالمی نظم میں ایک بڑی تبدیلی کااشارہ ہوگا ۔ نئےاختیارات پرغوراس تسلسل کی کڑی ہے، جوکسی بھی وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے۔
گزشتہ برس ایرانی جوہری تنصیبات پرحملہ اس حقیقت کاثبوت ہے کہ عسکری کارروائی محض نظری مفروضہ نہیں بلکہ عملی تجربہ بھی ہے۔گزشتہ برس امریکی میزائلوں اورطیاروں نے ایرانی جوہری تنصیبات کونشانہ بنایاتھا۔اطلاعات ہیں کہ وائٹ ہائوس اس ہفتے نئے حملےکے اختیارات پرغورکررہاتھا۔یہ تسلسل ظاہرکرتاہے کہ عسکری آپشن محض نظریاتی بحث نہیں بلکہ عملی امکان ہے۔ایران اورامریکاکےدرمیان جاری کشمکش دراصل طاقت اورقانون،خودمختاری اورعالمی دبائو،سفارت اور عسکریت کے درمیان ایک پیچیدہ مکالمہ ہے۔ ایران اورامریکاکے مابین یہ کشمکش محض دوریاستوں کانزاع نہیں،بلکہ عالمی طاقت کے توازن،خودمختاری کے مفہوم اورسفارت وعسکریت کے باہمی تعلق کاامتحان ہے۔ تہران کالہجہ دفاعی خوداعتمادی کا مظہر ہے اوروہ اپنے وقاراوردفاعی حق پر اصرارکررہاہے،جبکہ واشنگٹن کی حکمتِ عملی دبائواورمذاکرات کے امتزاج پرمبنی دکھائی دیتی ہے۔اسرائیل کا عنصر،علاقائی اتحادیوں کی موجودگی ، اورعالمی طاقتوں کی خاموش نظریں اس بحران کومزید پیچیدہ بناتی ہیں۔
یہ منظرنامہ ہمیں یاددلاتاہے کہ تاریخ تو اس کی تپش سرحدوں کی قیدمیں نہیں رہے گی اوراگرسفارت غالب آئی تویہ بحران عالمی سیاست کے دفترمیں ایک کامیاب باب کہلائے گا، عالمی سیاست کے دفترمیں مشکلات اورآزمائش کے دھارے میں وہی قومیں سرخرو ہوتی ہیں جوتدبراورتوازن کے ساتھ فیصلے کرتی ہیں اوراگرعسکریت غالب آئی تومشرقِ وسطیٰ کی سرزمین ایک بارپھربارودکی بوسے معطریاشاید مکدر ہو جائے گی۔ یادرکھیں کہ اگرجنگ کی آگ بھڑک اٹھی توایک اورسیاہ اورمکروہ باب رقم ہوکررہ جائے گامگروہ باب بھی ہمیں یہ سکھائے گا کہ طاقت کی منطق کے ساتھ حکمت کی روشنی لازم ہے،ورنہ اندھیراسب کواپنی لپیٹ میں لے لیتاہے۔تاریخ کی آنکھ اس منظرکوبغوردیکھ رہی ہے کہ آیاعقل کی روشنی غالب آتی ہے یاطاقت کاغرور۔تاریخ کے افق پرابھی دھند چھائی ہوئی ہے۔مگراتناواضح ہے کہ آئندہ چنددن نہ صرف ایران اورامریکابلکہ پوری دنیا کے لئے فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔عقل اورحکمت کی روشنی اگر غالب آئی توامن کی شمع روشن رہے گی اور اگرطاقت کاغرورغالب آیاتویہ شمع آندھیوں کے نرغے میں آسکتی ہے۔
آج جب ہم اس بحران کے دہانے پرکھڑے ہیں تومحسوس ہوتاہے کہ تاریخ ایک بارپھرانسانیت کا امتحان لے رہی ہے۔ایران اورامریکاکی کشمکش محض دو ریاستوں کانزاع نہیں؛ یہ عالمی نظم،بین الاقوامی قانون اورانسانی بقاء کاسوال ہے۔اگرطاقت کے بل پرفیصلے مسلط کئے گئے،اگراقوامِ متحدہ کومحض ایک رسمی ادارہ بناکرپسِ پشت ڈال دیاگیا،توپھر دنیاایک خطرناک مثال قائم کرے گی ایسی مثال جوآنے والے برسوں میں ہرطاقتورریاست کویکطرفہ اقدام کاجوازفراہم کرسکتی ہے۔
امن پسند قوموں کی خاموشی دراصل اسی لیے تشویش ناک ہے کہ جنگ کبھی سرحدوں میں مقیدنہیں رہتی۔ایک خطے کی آگ دوسرے براعظم کی فضاکوبھی دھواں آلودکردیتی ہے۔ اگرآج مشرقِ وسطیٰ سلگ رہا ہے توکل یورپ اورایشیابھی اس کی تپش محسوس کریں گے۔ دانشوروں کی صدائیں اگرچہ بلندہورہی ہیں، مگر جب تک عوامی دباؤحکومتوں کومجبورنہ کرے،یہ صدائیں اقتدارکے ایوانوں میں گونج کررہ جاتی ہیں۔یہ وقت ہے کہ عالمی ضمیربیدارہو۔یہ وقت ہے کہ طاقت کے ایوانوں کویہ باورکرایاجائے کہ دنیاکسی ایک نظریے، کسی ایک لابی یا کسی ایک ملک کی جاگیرنہیں۔اگرعالمی سیاست کویک قطبی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی تواس کاردِعمل بھی عالمی سطح پر ظاہرہوگا۔اوراگرجنگ کی آگ بھڑک اٹھی تواس کاانجام کسی کے قابو میں نہیں رہے گا۔تاریخ کی آنکھ ہم سب کودیکھ رہی ہے۔آنے والی نسلیں یہ سوال کریں گی کہ جب دنیاایک اورتباہی کے دہانے پرکھڑی تھی توامن کے داعی کہاں تھے؟کیاوہ خاموش تماشائی تھے یاانہوں نے ظلم کے مقابلے میں آوازبلندکی؟
آج ضرورت اس امرکی ہے کہ اقوامِ عالم، اہلِ دانش،مذہبی واخلاقی رہنمااورعوام سب مل کراس آگ کوبھڑکنے سے پہلے بجھانے کی کوشش کریں۔کیونکہ اگراس بارجنگ کی چنگاری شعلہ بن گئی توشایداسے بجھانے کے لئے کوئی عالمی ادارہ،کوئی سفارتی میزاورکوئی دانشورانہ اپیل کافی نہ ہو۔امن کی شمع ابھی بجھی نہیں مگر اس کے گرد آندھیاں ضرورمنڈلارہی ہیں۔فیصلہ ہمیں کرناہے کہ ہم اس شمع کواپنے ہاتھوں سے بچاتے ہیں یااسے طاقت کی آندھیوں کے سپردکردیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں