Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

اسلام اور خواتین کے حقوق

انسانی نسل کی بقا اور معاشرت کی گاڑی جن دو پہیوں پر رواں دواں ہے ان میں ایک عورت ہے جس کا نسلِ انسانی کی نشوونما اور ترقی میں اتنا ہی عمل دخل ہے جتنا مرد کا ہے۔ اس لیے اسلام نے عورت کے وجود کو نہ صرف تقدس اور احترام بخشا بلکہ اس کی اہمیت و افادیت کا بھرپور اعتراف کیا ہے اور اسے ان تمام حقوق اور تحفظات سے نوازا ہے جو مرد اور عورت کے فطری فرائض کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل عورت کو انسانی معاشرہ میں ایک آزاد اور خودمختار وجود کی حیثیت حاصل نہ تھی۔ بالخصوص جاہلی معاشرہ میں عورت کو نہ وراثت میں حقدار تسلیم کیا جاتا تھا اور نہ اس کی رائے کو وقعت دی جاتی تھی، بلکہ بعض علاقوں میں تو عورت اور جانوروں میں کوئی فرق روا نہ رکھا جاتا تھا۔ مگر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے بارے میں جاہلی تصورات کی نفی کی اور اسے وہ تمام حقوق اور تحفظات بخشے جو فطری طور پر اس کے لیے ضروری تھے۔
آنحضرت ﷺ کا دور اور خلافتِ راشدہ کا زمانہ اسلام کی عملداری کے لحاظ سے ایک مثالی دور ہے اور جب ہم اس دور میں عورت کے معاشرتی مقام پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں عورت کے حوالہ سے اسلام کے خلاف مغربی میڈیا کے وہ تمام اعتراضات بے بنیاد نظر آتے ہیں جن کا ایک عرصہ سے مسلسل اور منظم پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور خواتین کو اسلامی قوانین و احکام کے نفاذ کی صورت میں بنیادی حقوق سے محرومی کا خوف دلا کر نفاذ اسلام سے متنفر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چند اہم انسانی حقوق کے حوالہ سے اسلام کے خلاف مغربی لابیوں کے اعتراضات کا جائزہ لیا جائے۔
آزادیٔ رائے کو انسانی حقوق میں بنیادی اہمیت حاصل ہے اور امرِ واقعہ یہ ہے کہ آزادیٔ رائے کا جو معیار اسلام نے قائم کیا ہے دوسرا کوئی نظام آج تک اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ خلیفۂ وقت کو سرعام ٹوک دینا اور اسے اپنی پوزیشن کی وضاحت کیے بغیر خطبۂ جمعہ میں آگے نہ بڑھنے دینا عوامی احتساب اور آزادیٔ رائے کی ایک قابل فخر مثال ہے۔ لیکن یہ واقعہ مرد کا ہے جبکہ تاریخ ایک اور منظر بھی پیش کرتی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک بوڑھی خاتون خولہ بنت حکیمؓ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سرِعام روک کر کھڑی ہے اور کہہ رہی ہے کہ ’’عمر! وہ دن یاد رکھو جب تمہیں عکاظ کے بازار میں صرف عمر کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اور آج تم امیر المؤمنین کہلاتے ہو اس لیے خدا سے ڈرتے رہو اور انصاف کا دامن مضبوطی سے پکڑے رہو۔‘‘ حضرت عمرؓ اس بڑھیا کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہیں اور اپنے عمل کے ساتھ دنیا کو بتا رہے ہیں کہ انسانی معاشرہ میں مرد کی طرح عورت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ راہ چلتے امیر المؤمنین کا راستہ روک کر کھڑی ہو جائے اور عدل و انصاف کی تلقین کرے۔
اسلام مرد کی طرح عورت کو بھی یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے جائز حق کے لیے ڈٹ جائے اور اس کے خلاف کسی بڑے سے بڑے دباؤ کی پروا نہ کرے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کی باندی بریرہؓ کو آزاد ہونے کے بعد شرعی طور پر یہ حق حاصل ہوگیا تھا کہ وہ اپنے سابقہ خاوند مغیثؓ کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو اس سے الگ ہو جائے۔ بریرہؓ نے اپنا یہ حق استعمال کیا تو مغیثؓ پریشان ہوگیا اور وہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں روتا پھرتا تھا اور کہتا تھا کہ کوئی ہے جو بریرہؓ کو دوبارہ میرے ساتھ رہنے پر آمادہ کرے؟ اس کی یہ حالت دیکھ کر خود جناب رسول اکرم ﷺنے بریرہؓ سے بات کی اور اسے اپنے فیصلہ پر نظرثانی کے لیے کہا۔ بریرہؓ نے صرف یہ پوچھا کہ یا رسول اللہ! یہ آپ کا حکم ہے یا مشورہ؟ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ مشورہ ہے۔ اس پر بریرہؓ نے دوٹوک کہہ دیا کہ یہ مشورہ قبول نہیں کر سکتی۔ چنانچہ بریرہؓ مغیثؓ سے الگ رہنے کے فیصلہ پر قائم رہی اور اپنے عمل کے ساتھ اسلام کا یہ اصول دنیا کے سامنے پیش کیا کہ عورت اپنے جائز حق سے ازخود دستبردار نہ ہونا چاہے تو اسے اس کے حق سے کسی صورت میں محروم نہیں کیا جا سکتا۔
خلافتِ راشدہ کے دور میں عورت اجتماعی معاملات میں مشاورت کے دائرہ میں شامل رہی ہے۔ بالخصوص ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہن کو تو اس دور میں امتِ مسلمہ کی اجتماعی راہنمائی کا مقام حاصل تھا، اہم امور میں ان سے مشورہ کیا جاتا تھا اور ان سے اجتماعی معاملات میں راہنمائی حاصل کی جاتی تھی، حتیٰ کہ ایک موقع پر مدینہ منورہ کے عامل امیر مروان بن حکمؒ نے یہاں تک کہہ دیا کہ جب تک ازواجِ مطہراتؓ موجود ہیں ہمیں دوسرے لوگوں سے مسائل دریافت کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ جبکہ عورتوں سے متعلقہ امور میں تو مشورہ ہی عورتوں سے کیا جاتا تھا۔ مشہور تاریخی واقعہ ہے کہ حضرت عمر بن الخطابؓ نے ام المؤمنین حضرت حفصہؓ کے ذمہ لگایا کہ وہ سمجھدار عورتوں سے مشورہ کر کے بتائیں کہ ایک عورت خاوند کے بغیر کتنا عرصہ آسانی کے ساتھ گزارا کر سکتی ہے۔ چنانچہ ان کی رائے پر حضرت عمرؓ نے حکم جاری کیا کہ ہر فوجی کو چھ ماہ کے بعد کچھ دنوں کے لیے ضرور گھر بھیجا جائے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں