Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

کشیدگی سےتدبرتک

(گزشتہ سےپیوستہ)
رجیم چینج کاتصور کاغذ پر جتنا آسان دکھائی دیتاہے،زمینی حقائق میں اتناہی پر خطر ناک ثابت ہوتاہے۔عراق،لیبیااورخود افغانستان کی تاریخ اس کی مثال ہے۔تاہم فوجی کارروائی مسئلے کاحل نہیں، بیک چینل ڈپلومیسی ہی کشیدگی کم کرسکتی ہے جس کے لئے ایسے افرادکی ضرورت ہے جوامت مسلمہ کادرداوران دونوں فریقوں کے درمیان قابل احترام اوراثرونفوذ رکھنے والے سمجھے جاتے ہوں۔
پاک افغان تعلقات کے ماہرین کے مطابق یقیناافغانستان میں غیرملکی جنگجوموجودہیں،مگر فوجی کارروائی مسئلے کامستقل حل نہیں۔وہ بیک چینل ڈپلومیسی کو ناگزیرقراردیتے ہیں کیونکہ توپ کی گھن گرج سے زیادہ دیرپا اثرکبھی کبھی خاموش مکالمہ ڈال جاتاہے۔لیکن یہاں بھارت کے مکارانہ سازشی زاویہ اورعلاقائی شطرنج کوسمجھنا بھی اہم ہے کہ اب یہ شواہد کے ساتھ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بھارت افغان سرزمین سے پاکستان مخالف عناصرکی مددکرتاہے،جس کی بھارت تردیدتوکرتا ہے لیکن پاکستان کی طرف سے دئیے گئے ٹھوس شواہد کے خلاف کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام ہے۔ بھارت کی یہ مکارانہ سازش خطے کوپراکسی سیاست کی طرف دھکیل رہی ہے،جہاں براہِ راست جنگ کی بجائے بالواسطہ محاذ آرائی کے امکانات بڑھ رہے ہیں جودوایٹمی قوتوں کے ردعمل میں ساری دنیاکے لئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
پاکستان کی برداشت اب آخری حدوں کو چھو رہی ہے،کیونکہ شدت پسندی سرحدی علاقوں سے نکل کردارالحکومت تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان استحکام چاہتا ہے اوراس سلسلے میں چین کی جانب دیکھ رہاہے گویا مشرق کی سفارت کاری سے مغرب کی بے چینی کا تدارک چاہتاہوجبکہ دوسری طرف افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہدنے داعش قیدیوں اورشدت پسند قیدیوں کی حوالگی کامطالبہ کیا،جسے پاکستان نے مستردکردیا۔اس معاملے نے دونوں ملکوں کے مابین اعتمادکی فضااورسفارتی تناؤکو مزید متاثرکیاہے۔پاکستان کامؤقف ہے کہ ایساکوئی معاہدہ موجودنہیں۔قیدیوں کاتبادلہ بین الاقوامی قانون اوردوطرفہ معاہدات کاتقاضاکرتاہے،محض بیانات کا نہیں۔
فی الوقت سفارتی اورتجارتی تعلقات منجمد ہیں۔ پاکستان کامؤقف ہے کہ مذاکرات میں ثبوت پیش کیے گئے،مگر کابل مسئلے کے وجود ہی کوتسلیم کرنے پرآمادہ نہیںاورجب مرض کااقرارنہ ہوتوعلاج کی راہ کیسے نکلے؟یادرہے کہ سفارتی وتجارتی روابط کی معطلی نے عوامی سطح پربھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔طویل جموددونوں معاشروں میں بداعتمادی کوگہراکرسکتاہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق عسکری راستہ دیرپااستحکام فراہم نہیں کرتا۔ان کے مطابق پسِ پردہ مذاکرات اورعلاقائی تعاون ہی کشیدگی کم کرنے کامؤثرذریعہ ہو سکتے ہیں۔بنیادی سوال یہ ہے کہ کیادونوں ریاستیں طاقت کیاستعمال سے آگے بڑھ کراعتمادسازی اورمکالمے کی راہ اختیار کر سکتی ہیں؟ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ پائیدارامن توپ کے دہانے سے نہیں بلکہ تدبر،صبراورسیاسی بصیرت سے جنم لیتاہے۔
اسی تناظر میںحکومت کی تبدیلی کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔وزیر دفاع کے بیان اوردیگر سرکاری مؤقف سے یہ تاثرضرور ابھراکہ پاکستان افغانستان میں حکومت کی تبدیلی چاہتاہے اوراس تاثرکو تقویت ملی کہ اگرکابل میں موجودانتظامیہ عالمی ذمہ داریوں کو پورانہ کرے تومتبادل راستے تلاش کئے جاسکتے ہیں۔ مگر مبصرین خبردارکرتے ہیں کہ رجیم چینج کانسخہ اکثرزخم کوگہرا کر دیتاہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ طالبان کے اندر کسی معتدل دھڑے کی تقویت زیادہ قابلِ عمل راستہ ہوتاکہ تبدیلی اندرسے آئے،باہرسے مسلط نہ کی جائے۔
تاہم سفارتی حلقوں سے وابستہ شخصیات کا خیال ہے کہ عسکری راستہ مزیدانتشارکوجنم دےسکتا ہے،اس لئے پسِ پردہ مذاکرات اور علاقائی ہم آہنگی کو فوقیت دی جانی چاہیے۔تاہم چندممکنہ راستے یہ ہوسکتے ہیں کہ بیک چینل مذاکرات کی بحالی، مشترکہ سرحدی نگرانی کانظام،علاقائی کانفرنس جس میں چین،ایران اوروسطیٰ ایشیائی ریاستیں شامل ہوں، طالبان کےاندرمعتدل عناصرکی حوصلہ افزائی کی جائے۔یہ راستےمشکل ضرورہیں، مگر بند گلی سے بہترہیں۔
پاکستان کادعویٰ ہےکہ بھارت اسرائیل سمیت ایک اورملک بھی افغان سرزمین سے پاکستان مخالف عناصرکی پشت پناہی کررہے ہیں، اگرچہ متعلقہ ممالک ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔یہ پہلوعلاقائی سیاست کومزیدپیچیدہ بنادیتاہے۔وسطیٰ ایشیائی ریاستیں بھی افغانستان میں غیرملکی جنگجوئوں کی موجودگی پرتشویش رکھتی ہیں۔اس لئےایک مشترکہ علاقائی حکمتِ عملی اورہم آہنگی کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کاخیال ہے کہ بیرونی دباؤکے بجائے افغان قیادت کے اندرمعتدل عناصرکی تقویت زیادہ مؤثرہوسکتی ہے،تاکہ تبدیلی داخلی سطح پرابھرے نہ کہ مسلط کی جائےجبکہ پاکستانی حکام کےمطابق شدت پسندی کےخلاف جدوجہدناگزیر ہے اوراس میں پسپائی ممکن نہیں۔ان کاکہناہے کہ قومی سلامتی اورشہریوں کاتحفظ ہرقیمت پریقینی بنایاجائے گا۔پاکستان کاکہنا ہے کہ وہ صرف یہ چاہتاہےکہ افغانستان ایک ذمہ دارریاست کے طور پراپنے وعدے پورے کرے۔ عسکری کارروائی عوامی غم وغصہ بڑھاسکتی ہےاوربھارت، اسرائیل اور دیگر دشمن قوتیں ان جذبات سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔لہٰذاضروری ہے کہ بیک چینل رابطے بحال ہوں،تاکہ بداعتمادی کی برف پگھل سکے۔
اس جنگی مرحلے کاسب سے اہم پہلویہ ہےکہ کیادونوں ممالک مکمل جنگ کی طرف مزید بڑھیں گےیامحدود تصادم کےبعدسفارتی راستہ تلاش کریں گے؟ جنگ کےابتدائی بیانات ہمیشہ جذباتی ہوتےہیں، مگر ریاستیں بالآخراپنے مفادات کی بنیادپرفیصلے کرتی ہیں۔ اگر جنگ طویل ہوئی تودونوں ممالک کی معیشت،داخلی استحکام اورعلاقائی تعلقات شدیددباؤ میں آ جائیں گے۔ کچھ سفارتی ذرائع کے مطابق پسِ پردہ رابطے اب بھی منقطع نہیں ہوئے۔چین اوربعض علاقائی ممالک ممکنہ ثالثی کے لئے سرگرم ہوسکتے ہیں۔اگرایساہواتویہ بحران ایک بڑے تصادم میں بدلنےسےقبل روکاجاسکتاہےلیکن اگرعسکری کارروائیاں بڑھتی گئیں، تو خدشہ ہےکہ غیرریاستی عناصراس افراتفری سے فائدہ اٹھاکرمزید محاذکھول دیں گے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں