یہ مسئلہ ہمیں شروع سے درپیش ہے۔ اسلام آباد کا لفظ اور پاکستان کا دستور عالمی قوتوں کے لیے ناقابلِ قبول تھا جو اب ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ میں آپ کو یاد دلانا چاہوں گا کہ اسلام آباد جب بنا تھا، اس کا نام اسلام آباد ہم نے عقیدت کے طور پر رکھا تھا۔ یہ نیا شہر ہے، ہمارے سامنے بنا ہے۔ مگر اُسی دور میں ملک کے دستور میں ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ حذف کر دیا گیا تھا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان مرحوم کے عبوری آئین میں ’’جمہوریہ پاکستان‘‘ کر دیا گیا تھا۔ اس پر پورے ملک میں حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں ایک کمپین چلی تھی۔ جب ایوب خان مرحوم نے ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ سے ’’اسلامی‘‘ حذف کر کے ’’جمہوریہ پاکستان‘‘ کر دیا، اور دارالحکومت بنا کر اس کا نام رکھا ’’اسلام آباد‘‘ رکھا، تو اس وقت سیاسی پارٹیوں پر پابندی تھی۔ جمعیت علماء اسلام بھی باقی پارٹیوں کی طرح خلافِ قانون تھی۔ جمعیت علماء اسلام کی جگہ ’’نظام العلماء پاکستان‘‘ کے نام سے علماء کرام نے اپنی دینی جدوجہد جاری رکھی ہوئی تھی۔ اس کے امیر شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ اور سیکرٹری جنرل مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔
اس وقت دستخطوں کی ایک مہم پورے ملک میں چلی تھی کہ ہمیں جمہوریہ پاکستان منظور نہیں، ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی ہو گا۔ میں بچہ تھا چودہ سال کا، تو یہ میری جماعتی جدوجہد کا آغاز تھا، میں گکھڑ میں اس فارم پر دستخط کرانے کی مہم میں شریک تھا۔ تو ہم نے ملک بھر میں تحریک چلائی تھی کہ نہیں بھئی! ہم اس ملک کے نام سے اسلام کا لفظ حذف نہیں ہونے دیں گے، اسلام کے لیے بنا تھا، اسلامی جمہوریہ ہی رہے گا۔ الحمد للہ ہمیں کامیابی ہوئی۔ پھر مستقل آئین آیا ۱۹۶۲ء کا، اس میں اسلامی جمہوریہ پاکستان واپس آیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس زمانے میں ہمارے جلسوں میں ایک عوامی شاعر تھے، سعید علی ضیاء مرحوم، بڑے اچھے شاعر تھے، ان کی ایک نظم بڑی مشہور ہوئی تھی، اس کا عنوان تھا:
ملک سے نام سے اسلام کا غائب، مرکز ہے اسلام آباد
پاک حکمران زندہ باد، پاک حکمران زندہ باد
ہم بہت پڑھا کرتے تھے، بہت سنا کرتے تھے، اس زمانے میں یہ ہمارا تحریکی ترانہ بن گیا تھا۔ تو میں نے یہ عرض کیا ہے کہ اسلام آباد کا لفظ، پاکستان کے ساتھ اسلام کا لفظ، پاکستان کے دستور میں اسلام کی بات، یہ عالمی استعماری قوتوں کے لیے ناقابلِ قبول تھی، ناقابلِ قبول ہے، اور اب ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی اسلام آباد میں مساجد کا ماحول بھی ایک مستقل مسئلہ ہے۔ اسلام آباد میں مساجد کا ماحول جو نظر آ رہا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت مولانا عبد اللہ شہید رحمۃ اللہ علیہ کے درجات بلند سے بلند تر فرمائیں، یہ ان کا ذوق تھا اور علماء کی محنت تھی۔ اسلام آباد میں مساجد کا یہ ماحول بھی عالمی استعماری قوتوں کے لیے ناقابلِ برداشت چلا آ رہا ہے۔ لیکن میں اسلام آباد کے علماء کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ اس صورتحال کو سمجھتے ہیں، اسلام آباد کے تشخص کو، اپنے تشخص کو، اور ملک کے دستور کے امتیاز کو آپ باقی رکھنے میں شعوری کردار ادا کر رہے ہیں۔ آپ اکٹھے ہیں، متحد ہیں، میں مبارکباد دیتے ہوئے اس خطرے کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اب بھی پروگرام یہی لگتا ہے۔ آپ کو قدم قدم پر مزاحمت پیش آ رہی ہے، اب مسائل دوبارہ چھیڑے جا رہے ہیں اور مجھے ۱۹۶۲ء کا ماحول واپس آتا دکھائی دے رہا ہے۔ آپ کو پہلے سے زیادہ ہوشمندی کے ساتھ، حوصلے کے ساتھ، اور پوری جرأت کے ساتھ سامنا کرنا ہو گا۔
اسلام آباد کے علماء سے میں ہمیشہ سے یہ عرض کرتا آ رہا ہوں کہ آپ صرف علماء کرام ہی نہیں، اسلام آباد کے علماء کرام ہیں۔ ملک کی قیادت آپ نے کرنی ہے۔ جو فکر آپ دیں گے، جو طریق کار آپ طے کریں گے، ملک آپ کے پیچھے چلے گا۔ اس لیے اسلام آباد کے علماء سے میں گزارش کرتا ہوں کہ آپ کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی بڑی کوششیں ہوں گی۔ آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کہاں کہاں سے ہوں گی۔ جس طرح آپ اس وقت تک اسلام آباد کے ماحول، مساجد و مدارس کے تحفظ، اور ملک کے اسلامی نظریاتی تشخص کی بقا کے لیے محنت کر رہے ہیں، اب آپ کو پہلے سے زیادہ ہوشمندی کے ساتھ کرنا ہو گا۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں ان شاء اللہ العزیز۔ پہلی بات میں نے یہ عرض کی ہے کہ اللہ پاک آپ کو مبارک کرے اور اس جدوجہد کو اسی طرح اسی ماحول میں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اس کے ساتھ اس وقت ہمیں پاکستان اور عالمی سطح پر کچھ مسائل ’’کرنٹ ایشوز‘‘ کے طور پر درپیش ہیں، ان پر ہلکا ہلکا تبصرہ کرنا چاہوں گا۔ ایک مسئلہ یہ کم سنی کی شادی کا ہے جس پر ملک میں بڑی بحث ہو رہی ہے۔ یہ بحث کیا ہے، مسئلہ کیا ہے؟ یہ آج کا نہیں ہے، یہ بھی ۱۹۶۲ء میں ہوا تھا۔ اسلام آباد کب بنا تھا؟ سن ۶۰ء، ۶۱ء، ۶۲ء میں۔ اور یہ کم سنی کی شادی کا مسئلہ بھی ۱۹۶۲ء میں شروع ہوا تھا، آپ کو یاد ہو گا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کا چارٹر، اور عالمی استعماری ماحول، یہ لوگ زبانی تو کہتے ہیں کہ ہر مذہب کو اپنے خاندانی قوانین کے تحفظ کا حق حاصل ہے، لیکن وہ انسانی حقوق کے چارٹر کے ساتھ ہمارے خاندانی نظام کو بکھیرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں کہتے ہیں کہ مغربی خاندانی قوانین کی پیروی کرو، اور زبان سے کہتے ہیں کہ ہر ایک کو تحفظ دیتے ہیں۔ خاندانی قوانین کیا ہیں؟ نکاح، طلاق، وراثت، اس کو پرسنل لاء کہتے ہیں۔ پرسنل لاء کا یہ جھگڑا ہمیں یہاں بھی درپیش ہے، انڈیا میں بھی درپیش ہے، برطانیہ میں بھی درپیش ہے، امریکہ میں بھی ہے، بڑی لمبی تفصیل ہے، کبھی موقع ملا تو تفصیل آپ سے عرض کروں گا کہ یہ مسئلہ ہمیں کہاں کہاں درپیش ہے۔ مسلم پرسنل لاء، مسلمانوں کے خاندانی قوانین پوری دنیا میں زیربحث ہیں۔
(جاری ہے)