مودی سرکار پر یہ خبر بجلی بن کر گری ہے کہ دھوم دھام سے خلا میں بھیجے گئے مصنوعی سیارے کا تجربہ ناکام ہوگیا۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ خلائی مشن ایک بار پھر ناکام ہوگیا ہے۔ 2021ء کے بعد یہ پانچویں مسلسل ناکامی ہے ۔ بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو – ISRO) کا 2026ء کا پہلا بڑا مشن (پی ایس ایل وی-سی 62)تکنیکی خرابی کے باعث ناکام ہو گیا ہے، جس میں 16 سیٹلائٹس (بشمول EOS-N1)مدار میں پہنچانے میں ناکام رہے یہ PSLVراکٹ کی مسلسل دوسری ناکامی ہے یہ تاثر مزید گہرا ہوا ہے کہ خلائی ادارہ آئی ایس آر او ٹیکس دہندگان پر اربوں کا بوجھ ڈالنے کے باوجود ناکام تجربات کے ذریعے عا لمی سطح پر شرمندگی کا باعث بنتا جارہا ہے ۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق 11-12 جنوری 2026ء کو، بھارت کی پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی-سی62)سری ہریکوٹا، آندھرا پردیش میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز سے اڑان کے دوران مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں مرکزی ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ(ای او ایس-این1 یا ’’انوِیشا‘‘) اور 15 کو-پسینجر خلائی جہاز مکمل طور پر ضائع ہو گئے۔ یہ آٹھ ماہ میں پی ایس ایل وی کی دوسری ناکام اور شرمناک کوشش ہے اور 2021 ء سے اب تک کی پانچویں بڑی ناکامی ہے، جس نے پچھلے5سالوں میں سپلائی چینز اور ٹیسٹنگ میں شدید خلل ڈال کر آئی ایس آر او کے فلیگ شپ پروگرام میں گہری نظاماتی کمزوریاں اور نااہلیاں بے نقاب کر دی ہیں۔ یہ سب مودی حکومت کی جارحانہ اور لاپرواہ کمرشلائزیشن اور نجکاری کی پالیسیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے، جو رفتہ رفتہ قومی وسائل کو ضائع کر رہی ہیں ۔
2021 ء سے اب تک، انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (آئی ایس آر او)نے کل پانچ مشن میں ناکامیاں ریکارڈ کی ہیں، جو کہ اس ادارے کی بری کارکردگی کا انتہائی شرمناک ثبوت اور قومی سطح پر سبکی کا باعث ہے۔ 2021ء سے 2026 ء کے درمیان، آئی ایس آر او کے اعتبار اور پیشہ ورانہ قابلیت پر شدید سوالات اٹھے ہیں کیونکہ جنوری 2025 ء سے جنوری 2026ء کے ایک سال کے عرصے میں تین ناکامیاں ہوئیں، جو ادارے کی شدید نااہلی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ذیل میں 2021ء سے اب تک آئی ایس آر او کی ہر ناکام یا جزوی ناکام مشن کی تفصیلات دراصل بھارت کی خلائی طاقت کے دعووں کی پول کھول دیتی ہیں۔پی ایس ایل وی-سی62 (12جنوری 2026ء ) کے مشن میں زمین سے فضا میں بلند ہونے کے آٹھ منٹ بعد تیسرے مرحلے (پی ایس3) میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ پرفارمنس ڈسٹربنس،اور چیمبر پریشر میں اچانک کمی کی وجہ سے یہ اپنے راستے سے بھٹک گیا، جس کے نتیجے میں 16 سیٹلائٹس ضائع ہوئے، جن میں ڈی آر ڈی او کا اسٹریٹجک ای او ایس-این1 (’’انوِیشا‘‘)بھی شامل ہے۔ یہ ناکامی قومی سلامتی کے لئے ایک بڑا نقصان سمجھی جا رہی ہے۔آئی ایس آر او کی پی ایس ایل وی نے جنوری 2026 ء میں آٹھ ماہ میں مسلسل دوسری ناکامی کا سامنا کیا، جو 2017ء سے پانچ اسٹریٹجک مشن میں ناکامیوں کی داستان کا تسلسل بن کر ابھری ہے۔ ان ناکامیوں نے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا اور تقریباً 250ملین ڈالر کا مالی نقصان بھی کیا ہے، جو کہ مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ پی ایس ایل وی-سی61 (18مئی 2025) : مشن تیسرے مرحلے میں ناکام ہوا، جس سے ای او ایس-09 ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ اپنے مطلوبہ مدار تک نہیں پہنچ سکا۔ آئی ایس آر او نے سالڈ موٹر میں کمبسشن چیمبر پریشر میں کمی کو بنیادی وجہ قرار دیا، جو کہ دراصل ادارے کی تکنیکی نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ جی ایس ایل وی-ایف(15جنوری 2025) جیو سنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل (جی ایس ایل وی)نے نیویگیشن سیٹلائٹ این وی ایس-02 کو ٹرانسفر آربیٹ میں کامیابی سے رکھا، لیکن سیٹلائٹ خود والو ایشو کی وجہ سے انجن فائر نہیں کر سکا اور فائنل آربیٹ تک نہیں پہنچ سکا، جس سے یہ ناقابل استعمال ہو گیا ۔
(جاری ہے)