(آخری قسط)
اس کی بندش نہ صرف قیمتوں کواوپر لے جائے گی بلکہ عالمی شپنگ انشورنس،مال برداری لاگت اورتوانائی کی ترسیل پربھی گہرے اثرات ڈالے گی۔ جاپان،بھارت اورچین جیسے ممالک فوری متبادل تلاش کرنے پرمجبورہوں گے۔یہاں خطرہ دوچندہوجاتاہے کہ باب المندب جوایک طرف سویزتک رسائی کا دروازہ اوردوسری طرف بحیرہ احمرکاجنوبی دہانہ ہے۔حوثی تحریک، جوپہلے ہی بحری جہازوں کونشانہ بنانے کی صلاحیت دکھا چکی ہے،اگر اس آبی گزرگاہ کوعملی طورپرغیرمحفوظ بنادے تویہ ایک’’غیر ریاستی‘‘فریق کی جانب سے عالمی تجارت پراثر اندازہونے کی مثال ہوگی۔
حوثی اس سے قبل کئی مرتبہ عالمی تجارت کے اس اہم روٹ کوبند کرنے میں کامیابی حاصل کرچکے ہیں اوراب ایرانی سربراہ کے قتل کے بعداس بات کا شدید خطرہ پیداہوگیاہے کہ وہ اپنی استطاعت کے بھرپور استعمال سے اس راستے کوبند کرسکتے ہیں یاخطرات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔یہاں خلل کامطلب ہے یورپ اور ایشیاء کے درمیان جہازرانی کارخ افریقہ کے گرد طویل سفرکی جانب مڑجانا۔ اس سے اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ اورترسیل میں تاخیریقینی ہوسکتی ہے جس سے لاگت اوروقت دونوں بڑھ جائیں گے۔ آئندہ منظر نامہ میں امکانات اور اندیشے بڑھتے جارہے ہیں جن میں ممکنہ راستے تین ہوسکتے ہیں۔پہلامحدودمدت کی عسکری کارروائی اورتدریجی سفارت،دوسراوسیع علاقائی تصادم جس میں بحری راستے اورتوانائی رسدمتاثر ہوں اورتیسرا داخلی سیاسی ہلچل جوایران یاامریکا میں پالیسی تبدیلی کاباعث بنے۔
ترکی،مصراورپاکستان جیسے ممالک براہِ راست فریق نہیں مگراثرات سے محفوظ بھی نہیں۔ان کی خارجہ پالیسی توازن اورثالثی کے امکانات کے گردگھوم سکتی ہے۔چین اورروس اس بحران کوسفارتی یااقتصادی فائدے میں بدلنے کی کوشش کرسکتے ہیں لیکن ایرانی سربراہ اوردیگراہم شخصیات کی ہلاکت کے بعدحالات انتہائی خراب اورتصفیہ کے امکانات محدودہو گئے ہیں۔ روس اورچین نے امریکا کے اس ظالمانہ عمل کی شدید مذمت اورایران کی خودمختاری پرامریکی حملہ کو دنیاکے امن کے لئے تباہی کاذمہ دارٹھہرایاہے۔
یہ بحران محض دویاتین ریاستوں کاتصادم نہیں بلکہ ایک پورے خطے کی تقدیرکاسوال ہے۔ایران کی حکمتِ عملی،امریکاکی عسکری مہم،خلیجی ریاستوں کی محتاط سفارت،اورعالمی معیشت کی لرزتی نبضسب ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔یہ بحران محض بندوق اور بیان کا نہیں، بیانیہ اورمعاشیات کابھی ہے۔ایک طرف نظریاتی استقلال ہے،دوسری طرف عالمی مفادات کاجال۔ اگرحکمت غالب نہ آئی توخطہ ایک طویل بے یقینی میں داخل ہوسکتاہے۔اوراگرعقلِ سلیم نے راہ نکالی تو شایدیہی بحران کسی نئی سفارتی ترتیب کاپیش خیمہ بھی بن جائے۔تاریخ کے اس موڑپرہرفیصلہ آنے والی دہائیوں کی سیاست ومعیشت پراثر اندازہوسکتاہے۔
یہ معرکہ محض میزائلوں اور بیانات کا نہیں، نظریات اورمفادات کاتصادم ہے۔ایران اپنے وعدے کی تکمیل میں سرگرم ہے،امریکااپنی طاقت آزمائی میں مصروف،اورخلیجی ریاستیں توازن کی باریک راہ پر گامزن۔ تاریخ کے اس موڑپرایک چنگاری پورے خرمن کوجلا سکتی ہے۔سوال یہ نہیں کہ آگ لگی ہے یانہیں، سوال یہ ہے کہ اسے بجھانے کاحوصلہ کس کے پاس ہے۔
جب قومیں جذبات کی موج پرسوارہوکر فیصلے کرتی ہیں توتاریخ انہیں آزمائش کے کڑے مرحلوں سے گزارتی ہے۔ایران اورامریکا کے اس تصادم میں محض دوریاستیں آمنے سامنے نہیں؛بلکہ دوتصوراتِ قوت،دو سیاسی فلسفے،اور دوتاریخی بیانیے ایک دوسرے سے برسر ِپیکار ہیں۔ اگر طاقت کے استعمال کوہی آخری دلیل سمجھ لیا جائے توانجام اکثروہی ہوتاہے جوماضی کی جنگوں نے دکھایا علاقائی عدمِ استحکام،معاشی بحران اورنئی صف بندیاں۔مگراگرحکمت غالب آجائے،تو شایدیہی بحران کسی نئے توازن کاپیش خیمہ بھی بن سکتاہے۔
خلیجی ریاستیں اس کشمکش میں توازن کی باریک راہ پرچل رہی ہیں؛عالمی معیشت لرزاں ہے؛توانائی کی منڈیاں اضطراب میں ہیں، اورعوام اپنے اپنے ملکوں میں اس سوال سے دوچارہیں کہ کیایہ قیمت واقعی ناگزیر تھی؟تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بیرونی مداخلتیں اکثر غیر متوقع نتائج پیدا کرتی ہیں، اور نظریاتی جنگیں صرف میدانِ کارزار میں نہیں بلکہ ذہنوں اور معاشروں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔اگراس تصادم نے سفارت کے دروازے بندکردیے توآنے والی نسلیں اس کی قیمت چکائیں گی؛اوراگراسی بحران سے مفاہمت کی کوئی کرن پھوٹ نکلی تویہی لمحہ ایک نئے باب کی تمہیدبھی بن سکتاہے۔
اس تحریرکومحض واقعات کامجموعہ نہ سمجھیں۔یہ ایک عہدکی کیفیت کابیان ہے۔ایک ایساعہدجوہمیں یہ یاددلاتاہے کہ طاقت عارضی ہے،مگر نتائج دائمی۔مشرقِ وسطیٰ کی فضا میں اٹھتی ہوئی یہ گردآخرکب بیٹھے گی؟یہ فیصلہ صرف میزائلوں سے نہیں، بصیرت سے ہوگا اورشاید تاریخ ایک بارپھر یہی پوچھ رہی ہے:ماضی میں امریکی جارحیت اوراس کے نتائج سے اخذکیاجاسکتاہے کہ امریکی جنگی اسلحہ فروخت کرنے والی انڈسٹری کی رگوں میں انسانیت کا تازہ خون ہروقت جنگوں کے میدان سجائے رکھتاہے۔
1955ء سے لے کر 1975ء تک مسلسل 20 سال تک ویتنام جنگ امریکاکی سب سے نمایاں اور متنازع مداخلت تھی۔طویل جنگ کے بعد امریکی افواج کی ذلت آمیزواپسی آج بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ امریکی فوجیوں نے ہیلی کاپٹرسے لٹک کرراہِ فرارحاصل کی۔نائن الیون کے بعددہشتگردی کے خلاف جنگ کے تحت مداخلت کی گئی۔طالبان حکومت ختم ہوئی مگردودہائیوں بعدامریکی افواج کے انخلاکے ساتھ طالبان دوبارہ اقتدارمیں آگئے۔یہ ایک طویل اورپیچیدہ مہم تھی جس کااختتام امریکا کے لئے سیاسی طورپرمشکل ثابت ہوا۔ امریکی فوجیوں کوبراستہ پاکستان نکلنے میں مددکی گئی۔2003ء اور2011ء میں صدام حسین کے خلاف کارروائی بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے دعوے پرکی گئی ، جو بعدمیں ثابت نہ ہوسکے۔صدام حکومت ختم ہوئی،مگر ملک طویل بدامنی اورفرقہ وارانہ کشیدگی کاشکاررہا اوراب تک سنبھل نہیں پایا۔2011میں نیٹوکی مداخلت سے قذافی حکومت ختم ہوئی،مگرملک سیاسی انتشارمیں مبتلاہوگیااوراب تک اس کی خوشحالی لوٹ کرنہیں آ سکی۔
2014ء میں داعش کے خلاف کارروائی کے تحت محدودمداخلت،مگر شامی خانہ جنگی ایک وسیع علاقائی تنازع میں بدل گئی۔1983ء میں گریناڈامیں مختصرفوجی مداخلت جسے امریکانے کامیاب قراردیا اورجلد انخلاپرمجبورہوگیا ۔ 1989ء میں پانامہ میں جنرل نوریگاکی حکومت ختم کی گئی؛امریکانے اسے کامیاب آپریشن قراردیا۔اوراب وینزویلاکی مہم جوئی بھی ساری دنیا کے سامنے ہے اور اس کے تیل پر مکمل تصرف حاصل کرلیاگیاہے۔یہ فہرست طویل ہے اوریہ بھی درست ہے کہ ہمیشہ ان خطوں میں امریکی جارحیت اورمہمات سیاسی طورپرمتنازع رہیں،اورخطے میں طویل عدم استحکام کوجنم دیا۔
کیاتاریخ خودکودہرارہی ہے؟یہ سوال اہم ہے، کیا انسان نے ماضی سے کچھ سیکھاہے؟ویتنام نے سکھایاکہ مقامی مزاحمت کوکم نہیں سمجھناچاہیے۔عراق نے سکھایاکہ ریاستی ڈھانچے کواچانک گراناآسان ہے، مگرمستحکم متبادل بنانامشکل۔افغانستان نے سکھایاکہ طویل عسکری موجودگی سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں۔ اگرموجودہ کشیدگی وسیع جنگ میں بدلتی ہے تو وہی اسباق دوبارہ سامنے آسکتے ہیں۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ مشرقِ وسطی کامستقبل اوربربادی کی گردکب بیٹھے گی؟یاد رکھیں کہ گردتب بیٹھتی ہے جب سفارت کاری عسکریت پرغالب آئے،علاقائی طاقتیں تصادم کی بجائے توازن کاراستہ اپنائیں،عالمی طاقتیں محدوداہداف کے بعدمذاکرات کادروازہ کھولیں۔ طاقت عارضی ہے ،یہ بات تاریخ نے بارہا ثابت کی ہے۔مگراس کے اثرات نسلوں تک رہتے ہیں۔ اگر بصیرت غالب آئی تویہ بحران محدودرہ سکتاہے۔ اگر جذبات غالب آئے تویہ دہائیوں پرمحیط عدم استحکام کاسبب بن سکتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی فضا میں اٹھتی ہوئی گردمیزائلوں سے نہیں،مذاکرات سے بیٹھے گی؟یہ عسکری کامیابی سے نہیں،سیاسی حکمت سے ممکن ہوگا۔ اورشاید تاریخ ایک بارپھر یہی پوچھ رہی ہے کیاامریکانے واقعی ماضی سے سبق سیکھاہے،یاوہ پھراسی دہانے پر کھڑا ہے جہاں سے کئی بارگرچکاہے؟