(گزشتہ سےپیوستہ)
عالمی سیاست کے تجربات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ جب بڑی طاقتیں کسی ملک میں تبدیلیِ حکومت کاارادہ کرتی ہیں تووہ براہِ راست مداخلت سے پہلے داخلی انتشارپیداکرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
گزشتہ دہائیوں میں امریکاکے زیرِاثردنیاکے مختلف خطوں میں ایسے درجنوں واقعات رونماہو چکے ہیں جہاں مقامی یاغیرریاستی گروہوں کو استعمال کر کے سیاسی نظام کوعدم استحکام سے دوچار کیاگیا۔اسی طرزِعمل کی مثالیں لیبیا،شام اورعراق میں دیکھی گئیں جہاں شدت پسندگروہوں نے اسی نوعیت کاپیچیدہ کردار ادا کیا تھا۔ ایران کے معاملے میں مسئلہ یہ تھا کہ داخلی سطح پر ایسی کوئی طاقت موجود نہ تھی جوپاسدارانِ انقلاب کامقابلہ کر سکے۔ ماضی میں مریم رجوی اوررضا پہلوی جیسے ناموں کے ذریعے سیاسی دباؤبڑھانے کی کوششیں بھی خاطر خواہ نتائج نہ دے سکیں۔اسی وجہ سے بیرونی عناصرنے ایسے بیرونی جنگجوں عناصرکو استعمال کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی جوبیرونی میدانوں میں لڑائی کاتجربہ رکھتے تھے۔
اسی تناظرمیں یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ شام اورعراق کے میدانوں سے بچے کھچے سرگرم شدت پسند گروہوں کے ہزاروں جنگجوں کوافغانستان منتقل کیاگیا۔ان کے بارے میں کہاگیا کہ انہیں ہرات اورمشہدکے راستوں سے ایران میں داخل ہونے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔منصوبہ یہ تھاکہ ایران کے متعدد صوبوں میں بیک وقت شورش پیداکی جائے تاکہ ایرانی فوج اورسیکورٹی ادارے داخلی بحران میں الجھ جائیں۔ اس سیاسی افراتفری کے دوران بیرونی طاقتوں کوایران کی سیاسی سمت پراثراندازہونے کاموقع مل سکتاتھا اور بعد ازاں سیاسی مداخلت کادروازہ کھل سکتاتھا۔ جب ایک ریاست اندرونی انتشارمیں گرفتارہوجاتی ہے توبیرونی طاقتوں کے لئے اس کے معاملات میں مداخلت کرنا آسان ہوجاتاہے۔ جدید مواصلاتی آلات اورخفیہ راستوں کے استعمال کی اطلاعات بھی اسی منصوبے کاحصہ بتائی گئیں اورگوریلاطرزکی کارروائیوں کامنصوبہ بھی شامل بتایا گیا ۔
بعض مبصرین کے نزدیک ان تمام خطرات کے بیچ پاکستان کاکردار ایک فیصلہ کن عنصرکے طور پر سامنے آیاکہ اگرسرحدی علاقوں میں سرگرم شدت پسند گروہوں کے خلاف سخت کارروائیاں نہ ہوتیں توصورتِ حال کہیں زیادہ بھیانک ہوسکتی تھی۔ ایسے نازک مرحلے پرپاکستان کاکردارنہایت اہمیت اختیارکرگیا۔افغانستان کے ساتھ پاکستان کی سرحد ہزاروں کلومیٹر پرپھیلی ہوئی ہے اوراس کے بیشتر علاقے دشوارگزار پہاڑی سلسلوں پرمشتمل ہیں۔ جہاں سے دراندازی کے امکانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔پاکستانی سکیورٹی اداروں نے ان اطلاعات کے بعد سرحدی علاقوں میں سخت کارروائیاں کیں اورشدت پسندعناصرکے ٹھکانوں کونشانہ بنایااوران کے نقل وحرکت کے راستوں کومحدود کردیاگیا۔
اس تناظر میں پاکستان کی مسلح افواج کوایک ایسی رکاوٹ کے طورپرپیش کیاجاتاہے جس نے ممکنہ دراندازی کے راستوں کومحدودکر دیا۔دوسری جانب امریکی سیاست میں اسبحران کے حوالے سے بیانات بھی سامنے آئے جن میں ٹرمپ کی سخت زبان اورایران میں عوامی احتجاج کی اپیلیں شامل تھیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اگریہ کارروائیاں نہ ہوتیں توافغانستان میں موجودہزاروں جنگجو ایران اورپاکستان دونوں کی سرزمین میں داخل ہوکروسیع پیمانے پرخونریزی کاباعث بن سکتے تھے۔اس طرح پاکستان ایک ایسی رکاوٹ بن کرابھرا جس نے اس ممکنہ بحران کوپھیلنے سے روک دیا۔
سرحدی علاقوں میں سرگرم عسکری گروہوں کی فہرست بھی کم ہولناک نہیں بتائی جاتی۔ مبصرین کے مطابق ان میں افغانستان کے مختلف صوبوں میں سرگرم عسکری گروہوں میں اسلامک اسٹیٹ صوبہ خراسان کے علاوہ دیگرشدت پسند تنظیموں کے دھڑے بھی شامل بتائے جاتے ہیں جوجوزجان، ننگرہار،کنڑ اورخوست کے علاقوں میں موجودتھے۔ بعض رپورٹس یہ دعویٰ بھی کرتی ہیں کہ ایران کے صوبہ سیستان وبلوچستان میں کارروائیوں سے منسلک گروہوں کوافغانستان کے بعض علاقوں میں پناہ گاہیں فراہم کی گئیں۔ان گروہوں کا ہدف نہ صرف ایران بلکہ پاکستان کے حساس علاقوں میں بھی عدم استحکام پیداکرنابتایاجاتاہے۔اطلاعات کے مطابق ان عناصر کو نہ صرف ایران بلکہ پاکستان کے حساس علاقوں میں بھی دہشت گردی پھیلانے کاٹاسک دیاگیاتھا۔
اس صورتِ حال میں پاکستان کے لئے یہ محض ہمسایہ ملک کی مددکامعاملہ نہیں بلکہ اپنی داخلی سلامتی کابھی سوال تھا۔یہی وجہ ہے کہ سرحدی نگرانی،انٹیلی جنس تعاون اورعسکری کارروائیوں کے ذریعے اس ممکنہ خطرے کومحدود کرنے کی کوشش کی گئی۔اسی دوران ایک اورمحاذبھی زیربحث آیا:کرد مسلح گروہوں کی ممکنہ نقل وحرکت۔ بعض اطلاعات کے مطابق ترکی اورعراق کے سرحدی خطوں سے ایسے جنگجوں کوایران میں داخل کرانے کی کوششوں کو روکنے میں علاقائی تعاون نے اہم کرداراداکیا۔ اس صورتِ حال میں پاکستان اورترکی دونوں کے اقدامات کوبعض تجزیہ نگارخطے میں استحکام کی کوشش قراردیتے ہیں۔بعض اطلاعات کے مطابق علاقائی تعاون اورخفیہ معلومات کے تبادلے کے باعث ان منصوبوں ک ناکام بنایا گیا۔اس سلسلے میں پاکستان اورترکی کے اقدامات کو خطے میں استحکام کے لئے اہم قراردیاگیا۔اس پورے منظرنامے میں ایک حقیقت نمایاں ہوکرسامنے آتی ہے کہ افغانستان میں موجود غیر ریاستی عناصرایک ایسابارو دی ذخیرہ بن چکے ہیں جوکسی بھی لمحے پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے سکتاہے۔
(جاری ہے)