عالمی کشیدگی اگر بڑی جنگ پر منتج ہوتی ہے تو ترکیہ پاکستان ایک اہم مسلم بلاک کی طاقت بن کر ابھریں گے طاقت، احتیاط اور تزویراتی دانائی کے ساتھ عمل،ایک منفرد جغرافیائی مقام۔ ترکیہ دنیا کے ایک نہایت اہم جغرافیائی سنگم پر واقع ہے، جہاں یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیاء آپس میں ملتے ہیں۔ یہی محلِ وقوع ترکیہ کو عالمی سیاست اور معیشت میں غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ اس مقام کی وجہ سے ترکیہ توانائی کی عالمی پائپ لائنوں، بین الاقوامی تجارتی راستوں اور براعظموں کے درمیان اسٹریٹجک رسائی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو طاقتیں اس جغرافیائی سنگم پر موجود رہیں، وہ اکثرخطے کی سیاست اور استحکام میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی رہیں۔
خطے کی مضبوط ترین افواج میں سے ایک ترکیہ مشرقِ وسطیٰ اور یوریشیاء کے وسیع خطے میں ایک طاقتور اور تجربہ کار فوج رکھتا ہے۔ اس کی فوجی صلاحیتوں میں جدید ڈرون ٹیکنالوجی، مضبوط فضائی دفاعی نظام، بڑی اور تربیت یافتہ پیشہ ور فوج اور بحیرہ روم و بحیرہ اسود میں موثر بحری قوت شامل ہیں۔ گزشتہ برسوں میں ترک دفاعی صنعت خصوصا ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی نے ترکیہ کی تزویراتی خودمختاری اور دفاعی طاقت کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔
سفارتی توازن اور حکمتِ عملی ترکیہ کی خارجہ پالیسی کا اہم پہلو سفارتی توازن ہے۔ ترکیہ بیک وقت نیٹو اور مغربی ممالک، روس، خلیجی ریاستوں، ایران اور دیگر علاقائی قوتوں کے ساتھ روابط رکھتا ہے۔ یہی متوازن سفارت کاری اسے کسی تنازع میں براہِ راست فریق بننے کے بجائے مصالحت اور رابطے کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ گزشتہ کئی بحرانوں میں ترکیہ نے حریف قوتوں کے درمیان پل اور ثالث بننے کی کوشش کی ہے۔
معاشی اور تزویراتی وژن ترکیہ کی قیادت طویل عرصے سے ایک وسیع علاقائی وژن پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد معاشی ترقی کو مضبوط کرنا، بڑے انفراسٹرکچر منصوبے مکمل کرنا، علاقائی تجارت کو فروغ دینا اور انسانی و سفارتی روابط کو بڑھانا ہے۔ ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور توانائی کے بڑے منصوبے بتدریج ترکیہ کو خطے کے ایک اہم اقتصادی اور تزویراتی مرکز میں تبدیل کر رہے ہیں۔
ترکیہ خطے میں استحکام کیوں چاہتا ہے ترکیہ کے لئے خطے کا استحکام نہایت اہم ہے۔ اگر کسی بڑے ملک میں اچانک شدید عدم استحکام پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں، جیسے بڑی تعداد میں مہاجرین کی نقل مکانی، شدت پسند گروہوں کا پھیلائو اور معاشی و سیاسی افراتفری۔ اسی لئے ترکیہ کی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ خطے میں توازن، استحکام اور نظم برقرار رہے تاکہ پورا علاقہ شدید بحران سے محفوظ رہے۔
جنگ کے بعد ترکیہ کا ممکنہ کردار، اگر موجودہ تنازع بالآخر مذاکرات اور سیاسی حل کی طرف بڑھتا ہے تو ترکیہ ایک قابلِ اعتماد سفارتی ثالث، علاقائی سلامتی کو مستحکم کرنے والا کردار اور مشرق و مغرب کے درمیان معاشی و جغرافیائی پل بن سکتا ہے۔ ایسا کردار مشرقِ وسطیٰ میں ترکیہ کے اثر و رسوخ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
تاریخ کا تسلسل، تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ جب مشرقِ وسطیٰ میں بڑے بحران پیدا ہوئے تو اس کے نتیجے میں نئی علاقائی قیادت اور نئے توازن سامنے آئے۔ صدیوں پہلے یہ کردار اکثر اناطولیہ میں قائم بڑی سلطنتوں نے ادا کیا۔ آج کا ترکیہ کوئی سلطنت نہیں، مگر اس کی جغرافیائی اہمیت، معاشی قوت اور سیاسی اثر اسے ان ممالک میں شامل کرتا ہے جو خطے کے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ایک وسیع تر فکری زاویہ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی طاقت صرف فوجی قوت سے پیدا نہیں ہوتی۔ وہ قومیں جو دانائی، صبر اور سفارت کاری کو طاقت کے ساتھ جوڑتی ہیں، وہی تاریخ میں دیرپا اثر چھوڑتی ہیں۔ اسی لئے موجودہ بحران صرف جنگی نتائج تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں خطے میں نیا توازن، نئی شراکتیں اور نئی سیاسی حکمتِ عملیاں جنم لیں۔