تحریک انصاف کی سیاست کس راہ پہ گامزن ہے ۔یہ سوال اس جماعت کےنظریاتی اراکین اور سادہ لوح ہمدردوں کےاذہان میں کلبلا رہا ہے۔ اندھے مقلدین کا معاملہ ذرا مختلف ہےکہ انکی فکرشخصیت پرستی کی زنجیروں میں جکڑی رہتی ہے۔’’کپتان نہیں تو پاکستان نہیں‘‘جیسے نعرے شخصیت پرستانہ فکرکی پیداوارہیں،تحریک انصاف کی بطور قومی جماعت کےسیاسی منظرنامے پراٹھان ، ایوان اقتدار میں داخلہ اور پھر تحریک عدم اعتماد میں ناکامی کےبعد اقتدارگنوانے کے نشیب و فراز کی داستان دل خوش کن بھی ہے اور قابل افسوس بھی۔ تحریک انصاف آج بھی خودکو نوجوانوں کی نمائندہ اورملک کی مقبول ترین جماعت قراردیتی ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ایسے دعووں کو جانچنا یا پرکھنا آسان نہیں، تاہم یہ پہلو توجہ طلب ہے کہ آج یہ جماعت کن وجوہات کی بنا پر مقبول ہے؟ کیا مقبولیت کے عناصر مثبت ہیں یا منفی؟ ان میں تعمیر کا پہلو نمایاں ہے یا تخریب کا ؟عوامی حمایت بہتر کارکردگی کی رسید ہےیا پرکشش لیکن کھوکھلے جذباتی نعروں کی پیداوار ہے؟ ان پہلوئوں پر غورکیاجائے تو جواب کچھ اچھا نہیں ملتا ۔کیا وجہ ہے کہ وفاق اور صوبوں میں حکمرانی کرنےوالی جماعت کےنام لیوا بیرون ملک آج ہرملک دشمن کےپہلو میں براجمان دکھائی دیتے ہیں؟جیل میں قیدبانی چیئرمین عمران خان کےایکس اکائونٹ کا معاملہ ہو یا بیرون ملک احتجاجوں کی آڑ میں ریاست دشمن ایجنڈے کی ترویج ہو؛ ان معاملات میں تحریک انصاف کا طرزعمل مشکوک، مبہم اورنہایت قابل اعتراض ہے۔حال ہی میں سابق وزیراعظم کے صاحبزادے کی تصاویر اور سرگرمیاں تنقید کی زد میں آئی ہیں۔ عارف آجاکیا جیسے ہندوستان پرست شخص اورنسیم بلوچ جیسے دہشت گردوں کے وکیل صفائی کے پہلو میں بیٹھ کر اپنے والد کے انسانی حقوق کی دہائی دینا قاسم خان کو زیب نہیں دیتا۔
عارف آجاکیا کوئی غیر جانبدار مبصر نہیں بلکہ کراچی سے ابھرنے والا ایک سابق مقامی سیاسی کردار ہے،جو 2005 کے بعد کراچی کی لوکل گورنمنٹ سیاست میں MQM کے پلیٹ فارم سے سامنے آیااوربعد ازاں جمشید ٹائون ناظم کے طور پر ایم کیو ایم لندن گروپ کے عسکری ونگ سے منسلک رہ کر ان گنت تخریبی اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہا۔ بعد کے برسوں میں فرار ہو کر اس نےخود کو بیرونِ ملک ایک ایسے ڈائسپورا ایکٹیوسٹ اور یوٹیوبرکے طور پرمتعارف کیاجو پاکستان کےاندرونی معاملات کو بین الاقوامی فورمز پر اچھالتا ہے۔اصل سوال اسکی نیت اورسمت کا ہے۔ آجاکیا کی حالیہ شناخت ایک ایسے شخص کی بنتی ہےجو بھارتی ایما پر،پاکستان کے خلاف بیانیاتی محاذ پر سرگرم دکھائی دیتا ہے، اور اقلیتی و نسلی حقوق کے نام پر ریاستی اداروں کو عالمی سطح پر متنازع بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ محض انسانی حقوق کی زبان نہیں بلکہ پاکستان مخالف بیانیے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی مسلسل مشق محسوس ہوتی ہے۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم کے بیٹوں کی ایسے کرداروں کے ساتھ وابستگی کے سیاسی اثرات واضح ہیں۔ اس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہےکہ پاکستان کےداخلی قانونی و سیاسی معاملات کو مقامی آئینی راستوں کے بجائے بیرونی میڈیا،ڈائسپورا ایکٹیوسٹس اور بین الاقوامی دبائو کےذریعے متاثرکرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ تاثراس وسیع ترحکمت عملی سےجڑتا ہےجس میں بیرونی پلیٹ فارمز پر پاکستان کے اداروں کو کٹہرے میں کھڑا کیاجاتا ہے۔ دونوں برخورداران کے ننھیال کےخاندانی نیٹ ورک کی شمولیت نے بھی اس معاملے کو بین الاقوامی رنگ دیا ہے۔ برطانوی پارلیمان ، میڈیا،خصوصاً بی بی سی نیوز، Sky News اور Yalda Hakim، نے بھی اس بیانیے کو تقویت دی۔ اسکائی نیوزاور بی بی سی نے عمران خان کے بیٹوں کے انٹرویوز اور ان کے دعوئوں کو انسانی حقوق اور قید کے حالات کے زاویے سے نمایاں طور پر پیش کیا، جس سے پاکستان کی عدالتوں، جیل نظام اور ریاستی اداروں کے خلاف ایک مخصوص بین الاقوامی تاثر بنانے میں مدد ملی۔
مسئلہ صرف ایک انٹرویو یا ایک ملاقات نہیں، بلکہ ایک مربوط بیانیاتی ماحول ہے۔ جب ایک طرف بیرونِ ملک مقیم سابق سیاست دان،دوسری طرف خاندانی سفارتی رسائی، اور تیسری طرف بین الاقوامی میڈیا ایک ہی رخ سے پاکستان کے خلاف مواد کو اچھالتا رہےتو اس سے ایک باقاعدہ دبائو ڈالنےکی مہم کا تاثرپیدا ہوتا ہے۔ یہ کہناقبل ازوقت ہوگا کہ یہ کوئی ثابت شدہ خفیہ سازش ہےلیکن سیاسی و ابلاغی سطح پر اس کے اثرات واضح ہیں۔ عارف آجاکیاجیسےکردار کی شمولیت بھی اسی سلسلے کی نئی کڑی دکھائی دیتی ہے۔ ایک ایسا شخص جو خودکو پاکستانی شناخت سےزیادہ ہندوستانی ظاہرکرے اور پھر پاکستان کے داخلی معاملات پر بیرونِ ملک سے مسلسل حملہ آورہو، اس کی غیرجانب داری پر سوال اٹھنافطری ہے۔ ریاست مخالف پروپیگنڈا جب حقوق کی زبان اوڑھ لے تو اس کی نوعیت بدل نہیں جاتی۔پاکستان کو اسکاجواب جذبات سے نہیں ، اعتمادسے دینا چاہیے، حقائق سے، قانونی شفافیت سےاور ادارہ جاتی مضبوطی سے۔ مگر ساتھ ہی یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ پاکستان کے عدالتی اور سیاسی معاملات کا فیصلہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں ہوگا، لندن کے اسٹوڈیوز، ہائوس آف لارڈز یاپروپیگنڈا نیٹ ورکس میں نہیں۔
عارف آجاکیا کوئی معصوم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نہیں بلکہ کراچی کی مقامی سیاست سے نکل کر بیرونِ ملک بیٹھا ایک پاکستان مخالف آواز بن چکا ہے۔ عمران خان کے بیٹوں کی اس سے قربت اس تاثر کو مضبوط کرتی ہے کہ پاکستان کے اندرونی مقدمات کو بیرونی لابیز، میڈیا اور ڈائسپورانیٹ ورکس کے ذریعے عالمی دبائو میں بدلاجارہا ہے۔ جب عارف آجاکیا جیسے متنازع اورپاکستان پر مسلسل تنقید کرنے والے شخص کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنا مقدمہ پیش کیا جائے،تو یہ محض ایک ملاقات نہیں رہتی بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام بن جاتی ہے۔ سوال یہ ہےکہ کیا پی ٹی آئی کےپاس پاکستان کےاندرکوئی ایسی اخلاقی، سیاسی اور قومی بنیاد باقی نہیں رہی کہ وہ اپنے بانی کا موقف اپنے ہی لوگوں، اپنے ہی پلیٹ فارم اور اپنے ہی قومی دائرےمیں رکھ سکے؟ حقیقت یہ ہےکہ پی ٹی آئی نے بارہا ایسا تاثردیاہے کہ اسے پاکستانی عوام سے زیادہ ان آوازوں کی فکر ہےجو پاکستان، اس کے اداروں اور اس کی ساکھ پر حملہ آور رہتی ہیں۔ عمران خان کی جماعت آج ایک سیاسی پارٹی کم اور ایک ایسا گروہ زیادہ محسوس ہوتی ہےجو اقتدار سےمحرومی کا بدلہ ریاست کو متنازع بنا کر، قومی موقف کو کمزور کر کے، اور بیرونی دبائو کو سیاسی ہتھیار بنا کرلیناچاہتا ہے۔ اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے تحریک انصاف کے حقیقی خیرخواہوں کے بہت سے چبھتے سوالات کے جواب ان عناصر سے لینا ہوں گے جو سابق وزیراعظم کے بیٹوں کو آجاکیا اور نسیم جیسے متنازعہ کرداروں کے پہلو میں بٹھا کر جماعت کی سیاسی ساکھ داغدار کر رہے ہیں۔