Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

جنگ، ظلم اور انجام اسرائیل اور ایران ایک ہی صف میں

تاریخ کے بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جب واقعات محض سیاسی نہیں رہتے بلکہ ایک بڑے الٰہی قانون کا اظہار بن جاتے ہیں۔ موجودہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے، جہاں طاقت، غرور، ظلم اور انجام ایک ساتھ نمایاں ہو رہے ہیں۔ یہ حقیقت بھی واضح ہو رہی ہے کہ تاریخ صرف طاقت کے توازن سے نہیں بلکہ ایک گہرے الٰہی قانون کے تحت چلتی ہے۔ جنگیں، اتحاد اور فیصلے بظاہر انسانی اختیار میں ہوتے ہیں، مگر ان کے نتائج ایک بڑی الہی ترتیب کے مطابق ظاہر ہوتے ہیں۔ جنگ کا آغاز طاقت کا غرور اور حکمت کی کمی اس جنگ کا آغاز اسرائیل نے کیا۔ بلاجواز حملے، طاقت کے نشے میں فیصلے، اور ایک ایسے تصادم کی ابتدا جس نے پورے خطے کو آگ میں جھونک دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی ریاست طاقت کے غرور میں آ کر جنگ چھیڑتی ہے تو درحقیقت وہ اپنے لئے تباہی کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ قرآن اور تاریخ دونوں اس اصول کی گواہی دیتے ہیں کہ ظلم پر قائم طاقت وقتی طور پر غالب آ سکتی ہے، مگر ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتی۔قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:
دن بدلتے ہیں، طاقتیں بدلتی ہیں، اور حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔اسرائیل ظلم کی انتہا اور اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا آغازفلسطین، خصوصاً غزہ میں جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک جنگ نہیں بلکہ غیر انسانی، غیر قانونی ظلم اور نسل کشی کی انتہا ہے۔ نہتے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کا قتل، گھروں سمیت پوری آبادی کی تباہی، ہسپتالوں، سکولوں، مسجدوں اور گرجا گھروں کا غیر محفوظ ہو جانا اور کھانے، پانی اور علاج تک کو روک دیا جانا یہ سب انسانیت کے خلاف کھلے جرائم ہیں۔یہاں ایک حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ اسرائیل نے اپنی طاقت کے غرور میں خود اپنی تباہی کا راستہ کھول دیا ہے۔ کاش نیتن یاہو فرعون اور ہلاکو کا انجام یاد رکھتا۔ قرآن کا اصول واضح ہے، ظلم قائم نہیں رہتا۔ایران مظلوم سے ظالم تک کا سفرجنگ کے آغاز پر ایران ایک مظلوم فریق کے طور پر سامنے آیا۔ مسلم دنیا، خصوصاً خلیجی ممالک میں اس کے لئے ہمدردی پیدا ہوئی اور ایک وحدت کی فضا بنی۔ مگر پھر ایران نے ایسے اقدامات کئے جنہوں نے اس کی حیثیت کو بدل دیا۔ایران نے خلیجی عرب ممالک پر بلاجواز حملے شروع کر دئیے۔ یہ حملے نہ صرف غیر ضروری تھے بلکہ حکمت اور تدبر سے بھی خالی تھے۔ نتیجتاً ایران اپنی سیاسی اور عالمی حمایت سے محروم ہو گیا، اس نے اپنی اخلاقی برتری کھو دی ۔مظلوم اور ظالم کردار کی تبدیلی جنگوں میں ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ کردار بدل سکتے ہیں۔ ایک فریق مظلوم ہوتا ہے، مگر جب وہی فریق حد سے بڑھ جائے اور بے گناہ جانوں کو نشانہ بنائے تو وہ اپنی اخلاقی حیثیت کھو دیتا ہے۔یہ ایک اٹل اصول ہے،ظلم کسی بھی طرف سے ہو، اس کا انجام زوال ہے۔
حمایت کا خاتمہ اخلاقی بنیاد کی اہمیت دنیا میں کسی بھی فریق کی حمایت صرف طاقت پر نہیں بلکہ اس کے اخلاقی موقف پر بھی قائم ہوتی ہے۔ جب کوئی فریق مظلوم ہوتا ہے تو اسے ہمدردی حاصل ہوتی ہے، مگر جب وہ خود ظلم اختیار کرتا ہے تو وہ حمایت سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہ قرآنی اصول ہے،اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔لہٰذا جو بھی فریق ظلم اختیار کرے گا، وہ اپنی بنیاد خود کمزور کرے گا۔علماء کی رہنمائی ایک واضح اصول محمد متولی الشعراوی ؒنے فرمایا کہ قوموں کا انجام ان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اللہ کے قانون کے تحت ہوتا ہے۔ جب کوئی قوم حد سے بڑھتی ہے تو اس کا زوال شروع ہو جاتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔
شیخ احمد یٰسین ؒنے بھی واضح کیا کہ اصل فیصلہ طاقت نہیں بلکہ حق، عدل، صبر اور استقامت کرتے ہیں۔ جب طاقت ظلم میں بدل جائے تو وہ اپنی بنیادیں خود کھو دیتی ہے۔تاریخ کا سبق فرعون سے عبرت قرآن ہمیں فرعون کی مثال دیتا ہے بے پناہ طاقت، وسیع اقتدار اور مکمل غلبہ۔ مگر جب ظلم حد سے بڑھ گیا تو انجام آیا، مکمل تباہی۔یہی قانون ہر دور میں جاری ہے۔ کوئی بھی قوم اس سے باہر نہیں۔موجودہ حالات ایک نازک مرحلہ آج دنیا ایک ایسے مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں ایک طرف بلاجواز جنگ ہے اور دوسری طرف ردعمل میں حد سے تجاوز۔ دونوں صورتیں خطرناک ہیں۔
جنگ کا غیر ضروری آغاز،ردعمل میں بے اعتدالی،بے گناہ انسانوں کا قتل یہ سب ایک بڑے اخلاقی بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔ظلم کا انجام ایک یقینی حقیقت قرآن اور تاریخ دونوں اس حقیقت پر متفق ہیں کہ ظلم کا انجام تباہی ہے۔ یہ انجام کبھی فوری نہیں آتا، مگر یقینی ہوتا ہے۔ اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ظالم خود اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ایک سنجیدہ پیغام ابھی بھی وقت ہے یہ پیغام کسی ایک فریق کے خلاف نہیں بلکہ ایک اصول کے حق میں ہے، عدل، حکمت اور انسانیت۔ اگر ایران اپنے حملے عرب مسلم ممالک پرروک دے، جنگ کو دفاع تک محدود رکھے، بے گناہوں کو نشانہ بنانا چھوڑ دے اور اخلاقی و دینی حدود کی پابندی کرے تو وہ اپنی حیثیت کسی حد تک بحال کر سکتا ہے۔ ورنہ تنہائی اس کا مقدر بنے گی۔اسی طرح اسرائیل کے لئے بھی واضح پیغام ہے کہ ظلم کی حد پار ہو چکی ہے۔ انسانیت کا صبر ختم ہو رہا ہے اور تاریخ ایسے مواقع پر سخت فیصلے کرتی ہے۔ فرعون کو یاد کرو۔ہلاکو کو یاد کرو۔ظلم ہمیشہ اپنے انجام کو خود دعوت دیتا ہے۔اختتام قرآنی رہنمائی قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے، دن بدلتے ہیں، حالات بدلتے ہیں، مگر اللہ کا قانون نہیں بدلتا۔آخری کلمات یہ جنگ ہمیں ایک عظیم سبق دے رہی ہے،مظلوم اگر حد سے بڑھ جائے تو ظالم بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں