Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ایرک لوئیس کی بے بنیاد قصیدہ گوئی

آج کل انسانی حقوق کا نقاب بھی بہت زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ صاف ظاہر یے کہ نقاب اصل صورت کو چھپانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ریاست پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے گروہ اور ان کے وکیل صفائی انسانی حقوق کی نقاب اوڑھ کر پروپیگنڈے کا طوفان بپا کئے ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف کی صفوں میں بیرون ملک مقیم بعض نقاب پوش ان وارداتوں میں پیش پیش ہیں۔یہ دوست نما دشمن ایک قومی سیاسی جماعت کی مٹی پلید کرنے پر تلے ہیں۔حال ہی میں پے در پے ہونے والی میڈیائی وارداتوں کا معاملہ توجہ طلب ہے ۔لندن میں پلنے بڑھنے والے نوجوان قاسم خان کو پاکستان دشمن عناصر کی پہلو میں براجمان کرانے والے نہ تو تحریک انصاف کے ہمدرد ہیں اور نہ ہی انہیں قید کاٹنے والے سابق وزیراعظم عمران خان کی خیریت مطلوب ہے۔ پاکستان کو پارہ پارہ کرنے والے نسل پرست ڈاکٹر نسیم کے منہ میں بھارت کی زبان ہے ۔سابق وزیراعظم کے صاحبزادے کا ایک پاکستان مخالف شخص کے ساتھ کسی فورم پہ نمودار ہونا تحریک انصاف کے خیر خواہوں کے لئے بھی ایک شدید دھچکا تھا ۔ایم کیو ایم لندن گروپ کے بدنام زمانہ عارف آجاکیا کی وجہ شہرت ہی پاکستان کے خلاف زہر افشانی ہے۔
موصوف ایک موقع پر ماتھے پہ قشقہ لگا کے ہندو مذہب قبول کرنے کا ڈرامہ بھی رچا چکے ہیں۔ برخوردار قاسم کی ایسے مشکوک افراد کے ساتھ تصاویر نے کیا پیغام دیا ہے؟ اپنے بانی چیئرمین کے سیاسی اور انسانی حقوق کا مقدمہ لڑنے کے لئے تحریک انصاف کے حامیوں کو ایسے مشکوک ریاست دشمن عناصر ہی دستیاب کیوں ہو رہے ہیں؟ ابھی عارف آجاکیا اور ڈاکٹر نسیم جیسے بدنام حضرات کی رفاقت کا معاملہ ٹھنڈا نہیں پڑا تھا کہ برطانوی جریدے انڈیپینڈنٹ میں ایرک لوئس نامی ایک موصوف نے سابق وزیراعظم کے حق میں ایک مضمون لکھا مارا۔ غور طلب پہلو یہ ہے کہ لوئس صاحب نے بھی ریاست پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لئے انسانی حقوق کا نقاب اوڑھ لیا ہے۔ ان کا حق ہے جس کی چاہے تعریف کریں ۔ اس پر کوئی قدغن نہیں لگی جا سکتی تاہم ان کے ناقص طرز استدلال کا رد کرنا بھی کوئی جرم نہیں۔ موصوف نے سابق وزیراعظم کے حق میں یہ دلیل تراشی ہے کہ ایک عوامی مقبولیت کے حامل فرد کو رہا کر کے پاکستان کے اندرونی اور دیگر عالمی بحرانوں کو سلجھایا جانا چاہیے۔ تاہم لوئس صاحب یہ بتانے سے گریز کر گئے کہ عدالت سے سزا یافتہ فرد کو جیل سے رہا کرنے کے لئے کون سی قانونی شق استعمال کی جا سکتی ہے۔ یہ پہلو قابل توجہ ہے کہ موصوف سابق وزیراعظم کے سسرالی خاندان گولڈ سمتھ کی انسانی حقوق سے وابستہ تنظیم کے شریک کار بھی ہیں اور سوشل میڈیا پر دستیاب معلومات کے مطابق قانون کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ یہ معاملہ حیرت ناک ہے کہ سات سمندر پار بیٹھے ایک وکیل کو یکا یک پاکستان کے مسائل اور اس کے سزا یافتہ سابق وزیر اعظم کے انسانی حقوق سے ایسی دلچسپی کیوں پیدا ہو گئی کہ موصوف قلم کو شمشیر بنا کر ایک ریاست کے عدالتی نظام پر ٹوٹ پڑے؟ مضمون کو بغور پڑھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ انگریزی میں بے بنیاد قصیدہ گوئی کا نمونہ ہے ۔
سابق وزیراعظم کو بین الاقوامی سطح پر مسلمہ لیڈرز کی صف میں شمار کرنا بہت بڑی فکری بددیانتی ہے۔ ان کی طرز سیاست کو تنازعات سے پاک قرار نہیں دیا جا سکتا۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی ان کے دور حکومت میں بہت سے معاملات شدید تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے سنجیدہ مزاج حلقوں کو عامیانہ پروپیگنڈے اور بیرون ملک واویلا مچانے کی روش کا سد باب کرنا چاہیے۔ تحریک انصاف آج بھی ایک صوبے میں تیسرا دور اقتدار مکمل کر رہی ہے۔ اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کے لئے جماعت کے پاس پارلیمان ،میڈیا اور عدالتیں دستیاب ہیں۔ گولڈ سمتھ خاندان کی کمپنیوں سے وابستہ اوسط درجے کے غیر ملکی لکھاریوں سے مغربی جریدوں میں قصیدے لکھوانے سے بہتر ہے کہ آئین کے مطابق حکمت عملی اپنائی۔ں یہ وہی عدالتیں ہیں جن سے سیاسی مخالفین کو سزائیں دلوا کر اپنے دور اقتدار میں ’’اصحاب انصاف‘‘پھولے نہیں سماتے تھے۔ کیا قومی سیاست جماعت کے قائدین یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ریاست کے آئینی اور قانونی معاملات طے کرنے کے لئے غیر ملکی لکھاریوں کے مضامین ہی کافی نہیں ہوتے بلکہ پارلیمان اور عدلیہ کے محاذ پر دلائل کی قوت سے جدوجہد کرنی پڑتی ہے ۔تحریک انصاف کے مخلص خیر خواہ اب لوئس، آجاکیا آور ڈاکٹر نسیم جیسے مشکوک کرداروں سے تنگ آ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں