Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

دجال فریب کا عظیم فتنہ اور اس کے قریب ہونے کے آثار

انسانیت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں حقیقت اور فریب کے درمیان فرق دن بہ دن دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔ تیز رفتار تبدیلیاں، غیر معمولی ٹیکنالوجی، اور معلومات کے سیلاب نے ایک ایسی دنیا پیدا کر دی ہے جہاں ہر چیز نظر آتی ہے، مگر ہر چیز سچ نہیں ہوتی۔ ایسے ہی ماحول کے بارے میں اسلام نے پہلے ہی خبردار کیا تھا دجال کا فتنہ، جو تاریخِ انسانیت کا سب سے بڑا امتحان ہوگا۔بہت قریب آلگا ہے۔ دجال کا لفظ خود اپنے اندر معنی رکھتا ہے۔ یہ دجل سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے سچ کو جھوٹ سے ڈھانپ دینا، حقیقت کو مسخ کرنا، اور دھوکے کو حقیقت بنا کر پیش کرنا۔ احادیث کے مطابق دجال ایک حقیقی شخصیت ہوگا جو آخری زمانے میں ظاہر ہوگا، لیکن اس کا فتنہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ایک ایسا نظام ہوگا جو انسان کی سوچ، نظر اور شعور کو متاثر کرے گا۔آج یہ ہورہا ہے یہ فتنہ تلوار یا طاقت سے نہیں، بلکہ فریب، اثراندازی اور perception کے ذریعے غالب آئے گا۔ وہ لوگوں کو وہ دکھائے گا جو حقیقت نہیں ہوگی، اور حقیقت کو اس طرح چھپائے گا کہ لوگ خود دھوکے کو سچ سمجھنے لگیں گے۔ یہی دجال کی اصل طاقت ہے۔جب ہم آج کی دنیا کو دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ حالات کس حد تک اس فتنہ کے مطابق بنتے جا رہے ہیں۔ حقیقت اب براہِ راست نہیں بلکہ اسکرینوں، میڈیا اور الگورتھمز کے ذریعے ہم تک پہنچتی ہے۔
مصنوعی ذہانت ایسی آوازیں، تصاویر اور ویڈیوز بنا سکتی ہے جو حقیقت نہیں ہوتیں مگر حقیقت لگتی ہیں۔ معلومات کی رفتار اتنی تیز ہو چکی ہے کہ تحقیق اور تصدیق پیچھے رہ جاتی ہے۔یہ کہنا درست نہیں کہ کوئی ایک چیز دجال ہے، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ دنیا ایک ایسے ماحول میں داخل ہو رہی ہے جہاں فریب کو حقیقت بنانا ممکن ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وہ زمین ہے جہاں دجال کا فتنہ پنپ سکتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے دجال کو ایک آنکھ والا فرمایا۔ اس کی ایک گہری معنوی تعبیر یہ ہے کہ وہ صرف ایک پہلو دیکھتا ہے مادی دنیا، طاقت، ٹیکنالوجی اور ظاہری ترقی جبکہ روحانیت، اخلاق اور باطنی حقیقت کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ آج کی دنیا بھی بڑی حد تک اسی ایک آنکھ کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ ترقی ہے مگر سکون نہیں، طاقت ہے مگر اطمینان نہیں، علم ہے مگر حکمت کم ہوتی جا رہی ہے۔
دجال کے فتنے کی ایک بڑی علامت حقیقت کا الٹ جانا ہے۔ جو چیز نقصان دہ ہے وہ فائدہ مند نظر آئے گی، اور جو چیز فائدہ مند ہے وہ مشکل یا غیر ضروری محسوس ہوگی۔ سچ کو مشکوک بنا دیا جائے گا اور جھوٹ کو خوبصورت بنا کر پیش کیا جائے گا۔یہ صرف مستقبل کی بات نہیں، بلکہ ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں کہ اخلاقی الجھنیں عام ہو رہی ہیں، سچ اور جھوٹ کے درمیان حدیں مٹ رہی ہیں، اور انسان ظاہری چمک سے متاثر ہو کر اصل حقیقت کو بھولتا جا رہا ہے۔یہ سوال کہ کیا دجال کا ظہور قریب ہے، اس کا حتمی جواب کسی انسان کے پاس نہیں۔ یہ علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ لیکن جب فریب کے حالات بڑھ جائیں، جب حقیقت کو پہچاننا مشکل ہو جائے، جب طاقت اور illusion ایک ساتھ آ جائیں تو ایک حساس دل یہ محسوس کرتا ہے کہ شاید وہ وقت زیادہ دور نہیں رہا۔لیکن یہ احساس خوف پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ بیداری کے لیے ہونا چاہیے۔ دجال کا اصل میدان جنگ باہر سے زیادہ انسان کے اندر ہے۔ یہ دل اور شعور کا امتحان ہے۔اس فتنے سے بچا کے لئے نبی کریم ﷺ نے واضح رہنمائی دی ہے۔ سورہ الکہف کی تلاوت اور اس پر غور، ایمان کو مضبوط کرنا، اور باطنی بصیرت پیدا کرنا یہ سب انسان کو اس فریب سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اصل حفاظت اس میں ہے کہ انسان حقیقت کو صرف آنکھ سے نہیں بلکہ دل سے دیکھے۔آج کے دور میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ دجال کب آئے گا، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم اس قابل ہیں کہ جب وہ آئے تو ہم اسے پہچان سکیں؟ کیونکہ جب فریب اپنی انتہا پر ہوگا تو صرف وہی لوگ حقیقت کو پہچانیں گے جن کے دل بیدار ہوں گے۔یہ دنیا جتنی بھی پیچیدہ ہو جائے، ایک حقیقت ہمیشہ قائم رہے گی۔ باطل کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ مستقل نہیں رہ سکتا۔ سچ ہمیشہ باقی رہتا ہے۔قرآن ہمیں یقین دلاتا ہے۔ ’’اور کہہ دو کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے۔‘‘ (بنی اسرائیل 17:81) یہی یقین مومن کی اصل طاقت ہے اور یہی وہ نور ہے جو ہر فریب کو بے نقاب کر دیتا ہے۔استغفار ہ ہمار ڈھال ہے۔

یہ بھی پڑھیں