Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

کتابیں اور خواب

امی امی! آج بازار چلیں ناں، مجھے بہت سی کتابیں خریدنی ہیں کیوں کہ کافی عرصے سے میرے پاس کوئی نئی کتاب نہیں ہے۔ سماویہ کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی اور خوشی کے مارے وہ ادھر اُدھر ٹہل رہی تھی۔ امی نے مسکرا کر اسے دیکھا اور نرمی سے کہا، میری پیاری بیٹی، ابھی تو گھر کا کچھ ضروری سامان لینا ہے اور میرے پاس پیسے بھی بہت کم ہیں۔ کتابیں پھر کبھی لے لیں گے۔ یہ سن کر سماویہ کی آنکھوں کی چمک ذرا مدھم پڑ گئی مگر اس نے اپنی امی سے کوئی بحث نہیں کی۔ کوئی بات نہیں امی، میں پرانی کتابیں ہی پڑھ لوں گی۔ جب آپ کے پاس زیادہ پیسے ہوں گے تو ہم بازار سے نئی کتابیں خرید لائیں گے۔ وہ اپنے کمرے میں گئی اور الماری سے ایک پرانی کتاب نکال لی۔ اس کے صفحات زرد ہو چکے تھے لیکن اس کے لیے وہ کسی خزانے سے کم نہ تھی۔ وہ اسے کھول کر پڑھنے لگی اور وہی سو گئی۔ شام کو جب امی کمرے میں آئیں تو دیکھا کہ سماویہ کتاب سینے سے لگائے سو گئی ہے۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی جیسے وہ خواب میں بھی کہانیوں کی دنیا میں گم ہو۔ ماں کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر آہستہ سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دیر تک کچھ سوچتی رہی۔ اگلے دن امی نے کہا، چلو، آج بازار چلتے ہیں۔ سماویہ حیران ہو گئی۔
امی، کیا واقعی ہم بازار جا رہے ہیں؟ امی نے اس کا ہاتھ تھاما اور کہا، ہاں بیٹا میں نہیں چاہتی کہ میری بیٹی کبھی اداس ہو یا اس کی آنکھوں میں آنسو آئیں۔ سماویہ یہ سن کر بہت خوش ہوئی وہ جلدی جلدی تیار ہوئی پھر امی کے ساتھ بازار چلی گئی۔ جب وہ کتابوں کی دکان پر پہنچی تو اس کی خوشی دیدنی تھی۔ وہ ہر کتاب کو ایسے چھو رہی تھی جیسے کوئی ننھا بچہ ماں سے لپٹ جاتا ہے۔ کبھی کسی کتاب کو الٹتی، کبھی اس کے صفحے دیکھتی اور کبھی اسے سینے سے لگا لیتی۔ 
ماں کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں کیوں کہ ایک بہت بڑا بوجھ دل سے اتر گیا تھا۔ اس دن اس کی امی نے صرف کتابیں ہی خرید کر نہیں دیں بلکہ انھوں نے اپنی بیٹی کے خواب کو پورا کیا تھا۔
تحریر:سماویہ اعظم

یہ بھی پڑھیں