Search
Close this search box.
جمعرات ,11 جون ,2026ء

تیشئہ عرفان صدیقی اور نشان امتیاز

تالیوں کی آواز میں ابو(عرفان صدیقی) کا نام’’ نشان امتیاز‘‘ کے لئے پکارا گیاتو دل میں مسرت کا اک جہان روشن ہوگیا ۔ یہ لمحات جہاں انتہائی باعثِ فخر تھے وہیں پرابو کی غیر موجودگی کی گہری کسک رگ جاں میں اتر تی جا رہی تھی ۔پل بھر کویوں لگا جیسے تالیوں کی گونج کی جگہ بانسری کی ایک اداس دھن مجھے اٹھا کر کسی ویرانے میں لے گئی ہو۔اک خلش سی اٹھی کہ کاش وہ آج یہاں ہوتے اور اپنی اس عزت افزائی ، خراج عقیدت اور پذیرائی کا خود مشاہدہ کرتے ۔مگر وقت سے کون جیت سکتا ہے۔بقول منیر نیازی:
محفل آرا تھے مگر پھر بھی کم نما ہوتے گئے
دیکھتے ہی دیکھتے ہم کیا سے کیا ہوتے گئے
وقت کس تیزی سے گزرا روزمرہ میں منیر
آج کل ہوتا گیا اور دن ہوا ہوتے گئے
بڑے بھائی عمران صدیقی نے آگے بڑھ کر صدر مملکت سے اعزاز وصول کیا ۔ ریاست کی طرف سے سب سے بڑا سول تمغہ’’ نشان امتیاز‘‘ ان کی علمی ، ادبی، سیاسی و صحافتی خدمات کا ایک برملا اعتراف ہے جو ہم سب اور ابو کے تمام چاہنے والوںکے لئے بھی کسی تمغہ افتخار سے کم نہیں۔ ’’نشان امتیاز‘‘ اپنے اجراء(۱۹۵۷) سے لے کر اب تک شعبہ ادب اور صحافت کی حد تک ابو سمیت محض گیارہ شخصیات کو دیا گیا، اس فہرست میں فیض احمد فیض،حبیب جالب،سعادت حسن منٹو، صوفی غلام مصطفے تبسم،عطاء الحق قاسمی ، مستنصر حسین تارڑ، اٖفتخار عارف، ناصر کاظمی،جمیل جالبی اور احمد فراز جیسے بلند مرتبت ادبی زعماء شامل ہیں۔ اس کہکشاںمیں ابو کے نام کا جھلملاتا ستارہ ایک غیر معمولی اضافہ اور اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ابو کی فکری دانش نے ایک دنیا کو راستہ دکھایا۔ والد محترم تو خود ایک ’’مینارہِ امتیاز‘‘ تھے جن کی ساری زندگی امتیازات کے دیرپا نشانات سے بھری پڑی تھی جن کی تفصیلات لکھنے کویک جامع دفتر درکار ہے مگر کچھ جھلکیاں نظر قارئین کی جا سکتی ہیں۔
زندگی کے ابتدائی نامساعد حالات کے گھنے جنگلوں سے آگے بڑھنے کا راستہ تراشنا ایک امتیازی کارنامے سے کم نہ تھا۔ زندگی کے آخری ایام تک وہ کہیں بھی نہ رکے، نہ تھمے، نہ تھکے۔ سچا جذبہ اور لگن اس قدر تھی کہ وہ جہاں جہاں قدم رکھتے گئے قدرت وہیں انہیں زینہ فراہم کرتی گئی ۔اس سفر میں ان کا قلم ایک ایسا تیشہ بن گیا جس نے راستے کے سب کوہِ گراں ڈھا دئیے اور وہ منزل بہ منزل آگے بڑھتے چلے گئے ۔ ’’تیشئہ عرفاں ‘‘ نے اونچے ایوانوں ، اقتدار کے مضبوط قلعوں، حکمرانوں کی بارگاہوں اور بین الاقوامی پالیسی سازوں کے ذہنوں میں جس طرح ارتعاش بپا کیا اس کے اثرات کاحاطہ کرنا آسان نہیں۔ ایک بار ابو کو سرکاری مہمان ( (state Guest کے طور پر جب امریکہ بلایا گیا تو انہوں نے پوچھا:’’ میں تو آج کل امریکی پالیسیوں کے خلاف لکھ رہاہوں، مجھے کس حیثیت سے مدعو کیا گیا ہے؟ جواب ملا:’’ ہمارا معیار یہ نہیں کہ کون ہمارے حق میں یا خلاف لکھ رہا ہے، ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کس کی تحریر کے اثرات اور وسعت زیادہ ہے۔ اردو کالم نگاروں میں آپ کے کالم س معیار پر سرِ فہرست ہیں ــ‘‘۔ یہ واقعہ ابو کی تحریرو فکر کی بلندی اور قوتِ ذہن سازی کو پرکھنے کے لئے کافی ہے۔
ان کے قلم نے صحافت کا رخ کیا تو تحریروں کی انفرادیت نے اہل صحافت کو بھی چونکا دیا۔ یہ ایک نیا اوردلکش اسلوب تھا جس کی جازبیت سے ارباب ذوق شستہ اردو سے محظوظ ہونے کے ساتھ ساتھ حالات حاظرہ سے باخبر بھی رہنے لگے ،اور سیاسی جائزوں کے رسیا اردو زبان و ادب سے بھی لطف لینے لگے۔ ان کے اس انداز تحریر نے لکھنے اور پڑھنے کا انداز اور معیار ہی بدل ڈالا۔ان کی شاعری، ریڈیو ڈراموں اور کالموں پر مشتمل ۱۶ کتب محض سیاسی تاریخ و واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ اردو ادب کا بھی عظیم اثاثہ ہیں۔
فن تجزیہ نگاری کو بھی انہوں نے ایک نئی جہت عطا کی ۔ ان کی عمیق نگاہ ایسے زاویے کرید کر لاتی جو سب سے الگ اور منفرد ہوتا۔ اس میں کسی خاص موضوع کی قید بھی نہ ہوتی ۔ ہر مکتبہ فکر ، سیاست اور سماجی شعبہ جات سے وابستہ افراد یکساں دلچسپی سے ان کو پڑھتے ۔اپنے فکری زاویوں اور جائزوں میں انہوں نے نظریہ پاکستان اور اپنی مٹی سے جڑی ثقافت اور اقدار کا ہمیشہ دفاع کیا۔گہرے تجزیوں، شائستہ الفاظ اور فکری پہنچ نے انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتازاور ہر قبیلے کی آنکھ کا تارا بنا دیا ۔
سیاست میں ان کی آمد سے پارلیمان میںسیاسی تنائو اور کھچائو میں کمی کے ساتھ ساتھ رواداری، بردباری اور حوصلے کی سیاست کو فروغ ملا۔ ان میں دوسروں کی بات آرام سے سننے کا جوسلیقہ تھا، اس کی جھلک پارلیمان میں بھی دکھائی دینے لگی۔ وہ اپنی بات اور نظریے کو کھل کرمدلل انداز میں اس طرح بیان کرتے کہ مخالفین بھی ہمہ تن گوش ہو جاتے ۔ اپنی شخصیت کی ان صفات کی بنا پر ان کو مذاکراتی کمیٹیوں کا حصہ بھی بنایا جاتا۔ ۲۰۱۴ میںطالبان سے امن مذاکرات کے لئے پاکستان کی طرف سے ۴ رکنی کمیٹی کی سربراہی کا اعزاز بھی ابو کے حصے میں آیا۔
اپنے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے علاوہ ان کی شخصیت بھی کچھ امتیازی محاسن سے آراستہ تھی جن میں سے ایک خوبی برداشت کی تھی ،وہ لوگوں کے دل آزار لہجوں اور منفی رویوں کو فراموش کرکے جواب میں بھی اسی متانت کا مظاہرہ کرتے جو ان کی شخصیت کا خاصہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تنائو کی کیفیت میں جائے بناہر مسئلہ کا خندہ پیشانی سے سامنا کرتے اور اس کا کوئی قابل عمل حل نکال کر دم لیتے۔ ان کی اس خوبی کی وجہ سے ہر قبیلہ سیاست اور طبقہ فکر ان کو اپنے مشاورتی حلقے میں لینے پر فخر محسوس کرتا۔
’’وفا شعاری‘‘ ان کی شخصیت میں رچی بسی تھی۔ اپنے کام سے وفا ایسی کہ ہر کام ایسے انہماک سے کرتے گویا اس میں کوئی کمی یا کجہی رہنے نہ پائے۔ اپنے عزیزوں اور دوست احباب کے ساتھ بھی بڑی وفا سے مراسم نبھاتے ۔ ان کا حلقہ احباب بہت وسیع بھی تھا اور بہت متنوع بھی، لیکن شخصیت کا کمال پہلو یہ تھا کہ ان کو معلوم تھا کہ کس شخص سے کیسے اور کس طرح سے بات کرنی اور نبھانی ہے۔ابو کی ذہنی اور فنی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت کی خوبیوں نے مل کر ان کو ایک ایسی اڑان اور اٹھان عطاکی جو ان کو نشان امتیاز سے سرفراز کر گئی ۔
ایوان صدر سے سیدھا ہم ابو کی آخری آرام گاہ پہنچ گئے۔ مغرب کا وقت ہونے والا تھا۔ سورج آہستہ آہستہ اپنی روشنی سمیٹ رہا تھا اور ماحول میں ایک ٹمٹماتے دیے جیسی ہلکی ہلکی لو باقی تھی۔وہ ہم میں جسمانی طور پر نہیں مگر ان کی خوب سیرت شخصیت اور فکرانگیز خیالات ہمارے لئے سرمایہ افتخار اور نشان امتیاز بن کر ہمیشہ زندہ وجاوید رہیں گے ۔گھر آکر ہم نے ’’نشان امتیاز‘‘ والدہ محترمہ کے سپردکر دیا کہ وہی اب اس کی امین بھی ہیں اور حقدار بھی۔ ابو کی تمام کامیابیوں کے پیچھے ان کا بھی بے لوث ساتھ اور دعائیں ہمیشہ ساتھ ساتھ رہیں۔ اللہ باری تعالی سے دعا ہے کہ ابو کو جنتوں میں بھی اعلے مقام اور امتیازی شان عطا فرمائے، آمین۔

یہ بھی پڑھیں