Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

ماڈلنگ کے لئے آنے والی پنکی کوکین ڈیلر بن گئی

منشیات کا استعمال اور پھیلائو ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔یہ وبا نوجوان نسل کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔اس کی روک تھام کے لئے پاکستان میں نارکوٹکس کے نام سے ایک ادارہ بھی موجود ہے جو خصوصی طور پر انسداد منشیات کے حوالے سے کام کرتا ہے۔اگرچہ پولیس بھی اس کام پر مامور ہے۔لیکن آج تک ڈرگ مافیا پر قابو نہیں پایا جا سکا۔منشیات ایسا زہر ہے جو صرف انسانی جانوں کو ہی نہیں نگل رہا معاشرے کی اخلاقی، معاشی اور معاشرتی بنیادوں کو بھی کھوکھلا کر رہا ہے۔اس کے استعمال پر قابو پانے کے لئے آگاہی، سخت قانون سازی اور بحالی کے بہترین مراکز کے قیام کی ضرورت ہے۔منشیات کے پھیلا اور اس کے استعمال کے تناظر میں یہ مراکز بہت ناگزیر ہیں۔یہ ایسی لعنت ہے جو ذہنی، جسمانی اور روحانی صلاحیتوں کو مفلوج کر کے رکھ دیتی ہے۔یہ ایسا ناسور ہے جو دیمک کی طرح پورے معاشرے کو چاٹ رہا ہے۔پولیس اور نارکوٹکس جیسے فعال ادارے کی موجودگی کے باوجود تاحال اس کے استعمال اور پھیلائو پر قابو نہیں پایا جا سکا،اس کا سبب یہ ہے کہ ڈرگ مافیا بہت مضبوط اور طاقتور ہے۔ان کے ہاتھ شاید قانون سے بھی لمبے ہیں۔مشکل سے ہی قابو میں آتے ہیں۔قابو آتے بھی ہیں تو عدالتوں سے بالآخر ضمانتوں پر رہا ہو جاتے ہیں۔ڈرگ مافیا کے کسی کارندے یا سرغنہ کو آج تک کوئی بڑی سزا ہوتے نہیں دیکھی۔قانون کا قصور ہے یہ، یا ہمارے سسٹم کی خرابی ہے؟ ہمیں اس پر بہت زیادہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔غور و فکر نہیں کریں گے،تدارک کا نہیں سوچیں گے تو یہی ہو گا،جو ہو رہا ہے اور ہم اپنے اردگرد ہوتا دیکھ رہے ہیں۔منشیات نے کتنے گھروں کو برباد اور کتنے گھروں میں اندھیرے بھرے؟ کوئی ان سے پوچھے جو منشیات کے ہاتھوں تباہ حال ہو چکے ہیں اور زمانے کو اپنی تباہی کی داستان سناتے نظر آتے ہیں۔منشیات جو ایک زہر ہے مختلف شکلوں میں دستیاب ہے۔ ہیروئن، کوکین، چرس،افیون اور شراب وغیرہ کی صورت میں ملتا ہے۔
نشہ سے مراد وہ تمام نشہ آور،کیمیائی اور قدرتی مادے ہیں جو انسانی جسم میں داخل ہو کر دماغی اور اعصابی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ان کے استعمال سے انسان کے سوچنے،سمجھنے،فیصلہ کرنے اور ردعمل دینے کی قدرتی صلاحیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔اس کا مسلسل استعمال انسان کو نشے کا عادی بنا دیتا ہے اور وہ ایسی لت میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ پھر اس سے بچنا اور جان چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ہر نشہ عقل میں فتور پیدا کرتا ہے جس سے فہم و شعور بھی سلب ہوتا ہے اور سوچ میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔نشے کی بہت سی اقسام ہیں مثلاً ہیروئن،کوکین اور شراب کے علاوہ افیون، چرس اور بھنگ کچھ منشیات کیمیائی اجزا سے تیار ہوتی ہیں جیسے ہیروئن،کوکین،آئس اور مختلف نوعیت کی نشہ آور ادویات اور بھی مضر صحت نشے ہیں جیسے سگریٹ،تمباکو وغیرہ لیکن ان پر کوئی قانونی قدغن نہیں۔یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ منشیات کا بے جا استعمال نا صرف صحت کو خراب کرتا ہے بلکہ فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بھی ختم کر دیتا ہے۔اس سے خاندان کی تباہی وقوع پذیر ہوتی ہے جبکہ نشہ کرنے والا شخص خاندان سمیت پورے معاشرے سے بھی مکمل طور پر کٹ جاتا ہے۔اسے اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔حالیہ دنوں میں انمول عرف پنکی کا میڈیا میں بہت چرچا رہا۔پنکی سکہ بند کوکین ڈیلر ہے۔کراچی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو کر ان دنوں اپنے نیٹ ورک سے جڑے دیگر لوگوں کے نام بھی بے نقاب کر رہی ہے۔ اس کے موبائل فون سے جن افراد کے ناموں کی فہرست ملی ہے وہ قریباً سات سو افراد پر مشتمل ہے جن میں سیاست دان، شوبز ستارے،بزنس مین،کھلاڑی اور خواتین سمیت بہت سے بڑے نام شامل ہیں۔پنکی کا تعلق لاہور سے ہے۔جو ماڈل بننے آئی،پھر ڈرگ جیسے مکروہ دھندے میں ملوث ہو گئی۔اب تک کی تفتیش کے مطابق وہ دو ارب سے زیادہ کی کوکین اندرون اور بیرون ملک فروخت کر چکی ہے۔اس کے گینگ میں کچھ غیر ملکی بھی شامل ہیں۔پنکی کے بینک اکانٹ سے کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن کا بھی انکشاف ہوا ہے۔کافی عرصہ پہلے جب لاہور میں گرفتاری عمل میں آئی تو جس پولیس انسپکٹر رانا اکرم نے اسے پکڑا۔بالآخر اسی سے شادی کر لی۔ اسی آڑ میں اپنے دھندے کو مزید پھیلایا اور وسیع تر کر لیا۔جس میں رانا اکرم اور اس کے دو بھائی بھی شامل ہو گئے۔
منشیات کی اس کمائی سے اس نے کافی جائیدادیں بنائیں۔جو لوگ اس کے رائیڈر تھے وہ بھی پیسوں میں کھیلنے لگے۔نارکوٹکس کے اعلی حکام کو لاہور میں جب اس گینگ کی سرگرمیوں کا علم ہوا اور پنکی کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا تو اس نے لاہور چھوڑنے میں ہی عافیت سمجھی وہ پی آئی اے کی ایک پرواز سے کراچی آ گئی جہاں اس کے کارندے پہلے ہی سے موجود تھے۔پنکی نے تعلیمی اداروں اور پوش علاقوں میں کوکین کی سپلائی سے کروڑوں کمائے جبکہ اپنے رائیڈرز کے ذریعے جن میں خواتین بھی شامل تھیں اس دھندے کو دوسرے شہروں تک پھیلایا اور کوکین جیسا زہر رگوں میں اترنے لگا تو بہت سوں کی موت واقع ہو گئی۔کہتے ہیں سندھ کے ایک بڑے سیاستدان کا بیٹا کوکین سے مرا،بات قانون نافذ کرنے والے اداروں تک پہنچی تو وہ کھرے کی تلاش میں نکل پڑے۔بالآخر کوکین کی اس بڑی ڈیلر انمول جس کی شناخت پنکی کے نام سے ہوئی بالآخر پولیس کے ہتھے چڑھ گئی۔یہ ایک بہت ہی چنچل اور تیز طرار خاتون ہے اس کی پہلی انٹری جب عدالت کے احاطے میں ہوئی اور ان مناظر کو عکس بند کیا گیا اور جب تمام نجی ٹی وی چینلز نے یہ مناظر اپنی سکرین پر دکھائے تو ملک میں بھونچال کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ہر گھر،ہر کیفے ٹیریا، ریستوران غرضیکہ ہر مقام پر پنکی کا ذکر ہونے لگا۔ایک کوکین ڈیلر کے طور پر وہ سامنے آئی تو میڈیا پر باقی سب خبریں پیچھے چلی گئیں۔عام اطلاعات یہی ہیں کہ پنکی کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اگر یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے تو بڑے ظلم کی بات ہو گی۔نئی نسل کی رگوں میں زہر اتارنے والی پنکی بچ گئی تو پورے انتظامی اور قانونی ڈھانچے پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں