پاکستان کو داخلی استحکام درکار ہے۔ دہشت گردی کے سیلاب پر بند باندھ کر امن کا قیام کوئی معمولی کام نہیں۔ قومی سلامتی کے ادارے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں یہ فریضہ پوری تندہی سے انجام دے رہے ہیں ۔ افغانستان سے ہونے والے سرحد پار دہشت گرد حملوں کے خلاف پاک فوج، پولیس اور ایف سی کے بہادر جوان سینہ سپر ہیں۔ فرزندان وطن کی قیمتی جانیں مادر ارضی کے دفاع میں قربان ہو رہی ہیں۔ پاکستان قیام امن کے لئے بہت بڑی قیمت ادا کر رہا ہے۔ یہ سمجھنا کچھ دشوار نہیں کہ سیاسی قیادت کو اس بحرانی صورتحال میں کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟ کے پی اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کے کندھوں پر بہت اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔دہشت گردی کے عفریت سے ملک کو پاک کرنے کے لئے ہمہ جہت اقدامات کی ضرورت ہے۔ بہتر طرز حکمرانی (گورننس) قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ اور زہریلے ریاست دشمن بیانیے کا توڑ کر کے ہی صوبائی حکومتیں اندرونی استحکام کے قیام کے لئے ضروری اہداف حاصل کر سکتی ہیں ۔صوبہ بلوچستان میں حالیہ پیشرفت کو مثبت قرار دیا جا سکتا ہے بے حد دشوار حالات اور محدود وسائل کے باوجود بلوچستان کی صوبائی حکومت نے معاملات کو بہتر بنانے کے لئے درست سمت میں پیشرفت شروع کر دی ہے۔ صوبے میں میرٹ کے تقاضے پورے کرنے اور طرز حکمرانی کو بہتر بنانے کے لئے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کا استعمال اس امر کا بین ثبوت ہے کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت داخلی استحکام کو اپنی اولین ترجیح بنائے ہوئے ہے۔ یہ بھی ایک باعث اطمینان پہلو ہے کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت ریاست دشمن دہشت گرد عناصر کے زہریلے بیانیے کے سد باب کے لئے بھرپور رد عمل دے رہی ہے۔
بھارت کے پروردہ علیحدگی پسند دہشت گرد گروہ ’’فتنہ ہندوستان‘‘سے وابستہ کالعدم تنظیموں اور ان کے سہولت کار پریشر گروپوں کے خلاف بلوچستان کی صوبائی حکومت نے ایک موثر محاذ قائم کر رکھا ہے۔ بدقسمتی سے صوبہ کے پی میں اس محاذ پر صورتحال حوصلہ افزا نہیں۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ’’فتنہ خوارج‘‘سے وابستہ کالعدم دہشت گرد گروہ ہے درپہ حملوں کے ذریعے داخلی استحکام برباد کرنے کے ساتھ ساتھ زہریلے بیانیے کہ پرچار سے ملک کی نظریاتی سرحدوں پر بھی وار کر رہے ہیں۔ نظریاتی محاذ پر فتنہ خوارج کی یلغار بیت سنجیدہ معاملہ ہے۔ بیانیے کی جنگ میں ریاست کے دفاع کی بنیادی ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے۔ خیبر پختون خواہ میں پی ٹی آئی کا مسلسل تیسرا دور حکومت جاری ہے۔ بدقسمتی سے خارجی نظریاتی یلغار اور افغانستان سے جاری سرحد پار دہشت گردی کے پیچیدہ مسئلے پر صوبائی حکومت یکسو دکھائی نہیں دے رہی۔ یہ کج فہمی نہ صرف کہ صوبے بلکہ مجموعی طور پر ریاستی مفاد کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ مرکزی حکومت سے اختلافات اور سیاسی کشمکش میں ضرورت سے زیادہ الجھ جانے کی وجہ سے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے پہلو تہی برت رہی ہے۔ طرز حکمرانی میں بہتری لانے کے بجائے ذمہ داریوں سے انحراف کی حکمت عملی صوبے کے عوام میں بددلی پیدا کر رہی ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد سے تحریک انصاف میں قیادت کا خلا پر نہیں ہو سکا۔ مرکز اور صوبوں کی سطح پر جماعتی نظم و نسق بے حد کمزور ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلی میں خاطر خواہ تعداد ہونے کے باوجود پی ٹی آئی بطور حزب اختلاف کوئی قابل ذکر تحریک شروع نہیں کر سکی۔ حد تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا اور زبانی بیانات کی سطح پر تو پی ٹی آئی کے سیاسی بیانیے میں بانی چیئر مین کی گرفتاری اور انتخابی دھاندھلی جیسے مسائل سر فہرست دکھائی دیتے ہیں لیکن عوامی سطح پر ان معاملات کو بنیاد بنا کر کوئی خاطر خواہ پیشرفت دکھائی نہیں دی۔
بیرون ملک مقیم بعض ابن الوقت وی لاگرز اور سوشل میڈیائی ہرکاروں کی انتشار انگیز مہم جوئی کے علاوہ تحریک انصاف کوئی موثر کارروائی کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ جماعت میں کئی دھڑے متحرک ہیں۔ خیبر پختونخوا میں دو برس سے کم مدت میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی جماعت میں دھڑے بندیوں کا شاخسانہ تھی۔ سرحد پار دہشت گردی کے معاملے پر تحریک انصاف کا بیانیہ تنقید کی زد میں رہا ہے۔ فتنہ خوارج کی مذمت اور افغان طالبان کے مشکوک کردار پر سوال اٹھانے کے بجائے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کا موقف ریاست کے بیانیے سے متصادم رہا ہے۔ اس نقص کو دہشت گردوں کے سہولت کار اور لسانی تعصب کی بنیاد پر سیاست چمکانے والے پریشر گروپس اپنے حق میں استعمال کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کی اڈیالہ جیل کی جانب پیش قدمی کے نتیجے میں راولپنڈی اسلام اباد میں پیدا ہونے والی کشیدگی کی فضا ملک دشمن عناصر کے لئے باعث اطمینان رہی ہوگی البتہ ملک کے عوام کے لیے ایسے اقدامات کسی طرح بھی مفید نہیں۔ حکومت کو بھی امن و امان قائم رکھتے ہوئے ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن سے عوامی زندگی اور روزمرہ کے معمولات مفلوج ہو جائیں۔ تحریک انصاف کی قیادت سے گزارش ہے کہ ملک کے مجموعی مفادات کو پیش نظر رکھ کر احتجاج جیسے آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے عقل و فہم کو وقتی ہیجان پر ترجیح دیں۔