Search
Close this search box.
جمعرات ,18 جون ,2026ء

نسلِ نو، عقیدہ ختم نبوت ؐ اور تحفظ ناموسِ رسالتؐ

(گزشتہ سے پیوستہ)
سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر نوجوان ایک داعی بھی ہے اور ایک ذمہ دار شہری بھی۔ جو کچھ ہم لکھتے، شیئر کرتے یا آگے پہنچاتے ہیں اس کا اثر دوسروں تک پہنچتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم صرف مستند معلومات کو فروغ دیں، افواہوں سے بچیں اور دین کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے اجتناب کریں۔ اگر کسی مسئلے میں علم نہ ہو تو اہلِ علم سے رجوع کرنا چاہیے۔ یہی علمی دیانت داری کا تقاضا ہے۔نسلِ نو کے لئے سب سے بڑا سرمایہ ان کا ایمان ہے۔ دولت، شہرت، عہدہ اور طاقت سب عارضی چیزیں ہیں، لیکن ایمان وہ نعمت ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔ عقیدہ ختم نبوتؐ اسی ایمان کا ایک روشن ستون ہے۔ اس عقیدے کی حفاظت دراصل اپنے ایمان کی حفاظت ہے۔ جب نوجوان اس حقیقت کو سمجھ لیں گے تو کوئی فکری طوفان انہیں اپنی جڑوں سے جدا نہیں کر سکے گا۔آج امتِ مسلمہ کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو علم و عمل کے پیکر ہوں، جو قرآن و سنت سے وابستہ ہوں، جو سیرتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا نمونہ بنائیں اور جو محبتِ رسول ﷺ کو اپنے کردار میں ظاہر کریں۔ ایسے نوجوان نہ صرف اپنے عقیدے کے محافظ ہوں گے بلکہ معاشرے میں خیر، امن اور اصلاح کے سفیر بھی بنیں گے۔وقت کا تقاضا ہے کہ گھر، مدرسہ، سکول، کالج اور یونیورسٹی سب مل کر نئی نسل کی فکری اور روحانی تربیت کریں۔ والدین اپنی اولاد کو صرف دنیاوی کامیابیوں کی دوڑ میں نہ لگائیں بلکہ انہیں دین کی بنیادی تعلیمات سے بھی روشناس کرائیں۔ اساتذہ اپنے طلبہ میں تحقیق، مطالعہ اور دینی شعور پیدا کریں۔ علما نوجوانوں کی زبان اور نفسیات کو سمجھتے ہوئے ان کے سوالات کے تشفی بخش جوابات دیں۔ جب یہ تمام ادارے اپنا کردار ادا کریں گے تو ایک ایسی نسل تیار ہوگی جو اپنے عقائد کے بارے میں پختہ یقین رکھتی ہوگی۔آج جب دنیا مختلف فکری اور تہذیبی چیلنجز سے گزر رہی ہے، مسلمان نوجوانوں کے لئے سب سے محفوظ راستہ یہی ہے کہ وہ قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام لیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو انہیں گمراہی سے بچائے گا، ان کی شخصیت کو نکھارے گا اور انہیں دنیا و آخرت کی کامیابی عطا کرے گا۔ عقیدہ ختم نبوتؐ صرف ماضی کی ایک بحث نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی ایک زندہ حقیقت ہے۔ اس کی حفاظت ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اور نوجوان اس ذمہ داری کے سب سے اہم امین ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو صحیح عقیدہ، پختہ ایمان، محبت رسول ﷺ، ادبِ مصطفی ﷺ اور عقیدہ ختم نبوت ﷺ پر کامل استقامت عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ انہیں علمِ نافع، عملِ صالح اور اخلاقِ حسنہ سے آراستہ کرے، انہیں ہر قسم کے فتنوں اور گمراہیوں سے محفوظ رکھے اور انہیں امتِ مسلمہ کے لئے باعث فخر اور ملتِ اسلامیہ کا حقیقی سرمایہ بنائے۔ آمین۔نسلِ نو کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے علمی دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے دینی اور دنیاوی علوم میں توازن پیدا کرے۔ صرف جذبات یا سطحی معلومات کسی بھی قوم کو مضبوط بنیاد فراہم نہیں کر سکتیں بلکہ اس کے لیے گہرا مطالعہ اور فکری پختگی ناگزیر ہے۔
عقیدہ ختم نبوتؐ کی حفاظت دراصل ایمان کی حفاظت ہے اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے ہر مسلمان نوجوان کو سمجھنا چاہیے۔ اگر ایمان مضبوط ہو تو فکری طوفان اور نظریاتی یلغار بھی انسان کو اس کے عقیدے سے نہیں ہٹا سکتی۔ آج کے نوجوان کو چاہیے کہ وہ اپنی صحبت اور ماحول کو بھی دینی اصولوں کے مطابق ترتیب دے۔ اچھا ماحول انسان کے خیالات اور کردار دونوں کو مثبت سمت دیتا ہے اور اسے گمراہی سے بچاتا ہے۔ اسی طرح دینی کتب کا مطالعہ اور علماء کی رہنمائی نوجوانوں کے لئے فکری مضبوطی کا ذریعہ بنتی ہے۔ جو نوجوان سوال کرنے کے ساتھ ساتھ تحقیق کا عادی ہو جاتا ہے وہ کبھی بھی اندھی تقلید کا شکار نہیں ہوتا۔ اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر دور میں حق اور باطل کی کشمکش جاری رہی ہے۔ لیکن وہی قومیں کامیاب ہوئیں جنہوں نے اپنے عقائد کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ آج بھی کامیابی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ ہم اپنے دین سے جڑے رہیں۔ اگر ہم نے اپنی نوجوان نسل کو صحیح سمت نہ دی تو معاشرہ فکری انتشار کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس لئے والدین، اساتذہ اور معاشرے کے تمام طبقات پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں۔ یہ رہنمائی صرف نصیحت سے نہیں بلکہ عملی نمونے سے بھی ہونی چاہیے تاکہ اثر زیادہ گہرا ہو۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ختم نبوتؐ کا عقیدہ ایمان کی بنیاد اور امت کی وحدت کا ضامن ہے۔ اس کی حفاظت ہر مسلمان کی اولین ذمہ داری ہے اور اسی میں ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی مضمر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے اور ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور فرمائے۔ آمین یہ پیغام ہر نوجوان کے لئے ایک دعوتِ فکر ہے کہ وہ اپنی زندگی کو مقصدی بنائے اور دین کے اصولوں کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرے۔ جب نوجوان اپنے مقصد کو پہچان لیتا ہے تو اس کی سوچ، عمل اور کردار میں واضح تبدیلی آتی ہے۔ یہی تبدیلی اسے ایک ذمہ دار شہری اور بہترین مسلمان بناتی ہے جو معاشرے میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مل کر نوجوانوں کی فکری تربیت کو اپنی ترجیح بنائیں۔ کیونکہ یہی نوجوان قوم کا مستقبل اور امت کی امید ہیں۔ اللہ ہمیں ان کی صحیح رہنمائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہمیں دین پر ثابت قدم رکھے۔ تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔ دعا قبول ہو۔

یہ بھی پڑھیں