زمانہ جب اپنے قدم روک لیتاہے اورتاریخ سانس تھام کرکسی موڑپرٹھہرجاتی ہے،تو وہاں صرف واقعات نہیں جنم لیتے بلکہ تقدیروں کے فیصلے لکھے جاتے ہیں۔دنیاکے نقشے پرچند خطے ایسے بھی ہیں جہاں سکوت بھی چیخ بن کرگونجتاہے اورحرکت کاہرلمحہ اپنے اندر ایک پوشیدہ ہنگامہ رکھتاہے۔ مغربی ایشیااسی کیفیت کا مظہرہے ایک ایساخطہ جہاں صدیوں کی تہذیبی روایت،عقائد کی شدت، طاقت کی سیاست اورمفادات کی پیچیدگیاں ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہیں کہ حال ماضی کاتسلسل اورمستقبل کاپیش خیمہ دکھائی دیتاہے۔
یہ وہ سرزمین ہے جہاں کبھی قافلے علم وحکمت کے سفرپرنکلتے تھے،اورآج وہی زمین طاقت کے تصادم کامیدان بنی ہوئی ہے۔یہاں بارودکی مہک اور مذاکرات کی سرگوشیاں ایک ساتھ چلتی ہیں، یہاں امن کاہراعلان اندیشوں کی دبیزچادرمیں لپٹا ہوامحسوس ہوتاہے۔ایسے ہی ماحول میں ایران اورامریکاکے درمیان پیداہونے والاعارضی سکون دراصل ایک گہرے اضطراب کی سطحی جھلک ہے ایک ایسا لمحہ جس کے پس پردہ بے یقینی کی طویل داستان چھپی ہوئی ہے۔
یہ وقفہ نہ مکمل اطمینان ہے،نہ کھلا تصادم؛بلکہ ایک ایسی درمیانی کیفیت ہے جس میں تحمل اوربے اعتمادی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ بظاہرخاموشی ہے مگراس خاموشی کے نیچے شعلے سلگ رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ حالات کب بدلیں گے،بلکہ یہ ہے کہ کب یہ دبی ہوئی حرارت بھڑک کرایک نئے مرحلے کوجنم دے گی۔یہی وہ پس منظرہے جس میں اس پوری بحث کوسمجھناناگزیرہوجاتاہے کیونکہ یہاں ہرلمحہ تاریخ کاحصہ بننے کی صلاحیت رکھتاہے۔
عالمی سیاست کے افق پربعض خطے ایسے ہوتے ہیں جہاں وقت گویاٹھہرجاتاہے،مگرکشیدگی کی لہریں کبھی ساکن نہیں ہوتیں۔تاریخ کے اوراق جب اپنے سینے میں چھپے ہوئے رازوں کوزبان دیتے ہیں تومعلوم ہوتا ہے کہ اقوام کی تقدیرصرف تلوارکی دھارسے نہیں بلکہ حکمت کی ترازومیں تولی جاتی ہے۔دنیاکے سیاسی منظرنامے میں بعض خطے ایسے ہوتے ہیں جہاں خاموشی بھی شورمچاتی ہے اورہر جنبش اپنے اندرایک طوفان چھپائے ہوتی ہے۔مغربی ایشیاء انہی خطوں میں شامل ہے،جہاں قوت، عقیدہ،مفاداورتاریخ ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہیں کہ ہرنیاواقعہ پرانے تنازعات کی بازگشت معلوم ہوتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ،جوصدیوں سے تہذیبوں کا گہوارہ اورطاقتوں کامیدانِ کشمکش رہاہے،آج پھرایک ایسے موڑپرکھڑاہے جہاں بارودکی بواور سفارتکاری کی خوشبو باہم دست وگریباں نظرآتی ہیں۔مشرقِ وسطیٰ بھی ایک ایساہی خطہ ہے جہاں طاقت، عقیدہ،مفاداورتاریخ ایک دوسرے سے اس طرح گتھے ہوئے ہیں کہ ہرواقعہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک عہدکی باز گشت محسوس ہوتا ہے۔ ایران اورامریکا کے مابین حالیہ جنگ بندی اسی کشاکش اورتسلسل کی ایک نازک کڑی ہے ایک ایسی کڑی جوبظاہرامن کی علامت ہے مگرباطن میں اضطراب کا استعارہ۔جس کے ہرسرے پرمفادات، خدشات اور عزائم کی گرہیں بندھی ہوئی ہیں۔ ایران اورامریکاکے درمیان حالیہ مفاہمتی وقفہ اسی پیچیدہ داستان کاایک باب ہے ایساباب جس میں سکون کی سطح کے نیچے بے چینی کی موجیں تھرتھرارہی ہیں۔
جنگ بندی اگرچہ وقتی سکون کاپیام لاتی ہے، مگرجب اس کی بنیادانصاف کے بجائے مصلحت پررکھی جائے تووہ ریت کی دیوارثابت ہوتی ہے۔جنگ بندی محض گولیوں کی خاموشی کانام نہیں،بلکہ وہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس کے پیچھے اعتماد،توازن اورباہمی مفادکی روح کارفرماہوتی ہے۔جب کسی معاہدے کی بنیادباہمی اعتمادکی بجائے وقتی ضرورت پررکھی جائے تووہ دیرپا ثابت نہیں ہوتا۔جب یہ روح مفقودہوجائے تو جنگ بندی ایک کمزورشاخ کی مانندہوجاتی ہے،جوکسی بھی لمحے ٹوٹ سکتی ہے۔
ایران اورامریکاکے مابین جوعارضی ٹھہراپیدا ہوا ہے،وہ دراصل ایک ایسی کیفیت ہے جس میں دونوں فریق ایک دوسرے کووقتی طور پرسہہ تورہے ہیں،مگردلوں میں بدگمانی کی آگ سلگ رہی ہے۔ایران اورامریکا کے درمیان موجودہ جنگ بندی بھی اسی اصول کی مظہر ہے۔یہی کیفیت اسے کمزوراورغیرمستحکم بناتی ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے کووقتی طورپربرداشت توکر رہے ہیں،مگریہ برداشت ایک بوجھ بن چکی ہے ایسابوجھ جسے زیادہ دیرتک اٹھاناممکن نہیں۔ایران اورامریکاکے درمیان موجودہ جنگ بندی اسی داخلی کمزوری کا شکار دکھائی دیتی ہے،جہاں ہرفریق دوسرے کی نیت پرشک کی دبیزتہیں چڑھائے بیٹھاہے۔
ایران اورامریکاکے مابین جوعارضی ٹھہراپیدا ہوا ہے،وہ دراصل ایک ایسی کیفیت ہے جس میں دونوں فریق ایک دوسرے کووقتی طور پرسہہ تورہے ہیں،مگردلوں میں بدگمانی کی آگ سلگ رہی ہے۔ یہی کیفیت اسے کمزوراورغیرمستحکم بناتی ہے۔اس لیے یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ ابھرتاہے کہ آخریہ جنگ بندی کب تک قائم رہ سکتی ہے؟اپریل اوائل میں طے پانے والی جنگ بندی ابھی سفارتی کاغذوں سے نکل کرزمینی حقیقت میں ڈھل بھی نہ پائی تھی کہ خلیج کے اُفق پر دھواں اٹھنے لگا۔ جنگ بندی ابھی پوری طرح سانس بھی نہ لے سکی تھی کہ خلیج کے نیلگوں پانیوں میں آگ برسنے لگی۔امریکی ہیلی کاپٹر کاگرایاجاناگویا ایک چنگاری تھی جس نے سفارتی پردے کے پیچھے چھپی ہوئی آگ کونمایاں کردیا ۔ یہ واقعہ محض ایک عسکری واقعہ نہیں بلکہ اعتمادکے انہدام کی علامت تھا۔گویا سمندری حدودمیں اس فضائی حادثہ نے قائم ہونے والاسکون کی دھجیاں اڑادیں جس نے حالات کو یکسربدل دیا۔
اس واقعے کے بعدطاقت کے مظاہرے کا سلسلہ شروع ہوا،جس میں ایک طرف حملے اوردوسری جانب ردعمل نے صورتحال کومزید الجھادیا۔اس سے واضح ہواکہ امن کایہ وقفہ محض ایک پردہ تھاجس کے پیچھے کشیدگی زندہ تھی۔امریکاکے جوابی حملے اورایران کے ردعمل نے یہ واضح کردیاکہ یہ خاموشی عارضی ہے،اوراس کے نیچے لاوے کی طرح ابلتی ہوئی کشیدگی موجود ہے۔ امریکاکی جانب سے ایرانی اہداف پرحملے اورایران کی طرف سے بحرین،اردن اوردیگر مقامات پرجوابی کارروائیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ جنگ بندی کے پردے کے پیچھے بداعتمادی کی ایک پوری داستان چھپی ہوئی ہے۔
اس کشمکش کاایک اہم پہلووہ تصادم ہے جو ایران اوراسرائیل کے درمیان رونماہوا۔ایران کی جانب سے اسرائیل پرمیزائل حملہ اوراس کے جواب میں اسرائیلی فضائی کارروائی نے اس تنازع کوایک نئے زاوئیے سے پیش کیا۔ایک جانب سے میزائل داغے گئے اوردوسری طرف سے فضائی کارروائیوں کاسلسلہ شروع ہوا۔ایران اوراسرائیل کے درمیان حالیہ جھڑپ نے اس تنازع کومزیدپیچیدہ بنادیاہے۔ایران کا میزائل حملہ اوراسرائیل کافضائی ردعمل دراصل ایک طویل عرصے سے جاری مخاصمت کانیاباب ہے۔یہ صورتحال اس امرکی غمازی کرتی ہے کہ یہ تنازع صرف دوممالک تک محدودنہیں بلکہ پورے خطے کی سیاست کواپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔یہ محض دو ریاستوں کاتصادم نہیں بلکہ ایک وسیع تر جغرافیائی سیاست کااظہارہے،جہاں ہرحملہ ایک پیغام ہوتاہے اورہرجواب ایک اعلان۔یہ تصادم صرف دو ریاستوں کے درمیان نہیں بلکہ دونظریاتی دھاروں کے درمیان بھی ہے ،ایک طرف مزاحمت کابیانیہ،اوردوسری طرف سکیورٹی کا تصور۔
(جاری ہے)