Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

تدبیر کا زوال، تقدیر کا ظہور

(گزشتہ سے پیوستہ)
عینی ایئربیس کی خالی ہونے کی خبرپرکانگریس نے حکومتِ وقت کوآڑے ہاتھوں لیا۔ان کے مطابق یہ فیصلہ سٹریٹجک ناکامی اور سفارتی پسپائی ہے۔ان کے بیانات سے واضح ہوا کہ انڈیاکے اندرونی سیاسی حلقوں میں بھی یہ فیصلہ قوم کی دفاعی کمزوری سمجھاجا رہاہے۔ تجزیہ کارراہول بیدی کے مطابق یہ بیس انڈین فضائیہ اوربارڈر روڈز آرگنائزیشن کامشترکہ منصوبہ تھا،جسے حکومت نے اپنی غفلت کے باعث انجامِ بدتک پہنچادیا۔ سنجیوشری واستونے یاددلایاکہ یہ اڈہ اس وقت قائم ہواجب طالبان پہلی مرتبہ افغانستان میں برسرِ اقتدار آئے تھے۔مقصدیہ تھاکہ افغانستان میں انڈیاکے حلیفوں،خصوصاًشمالی اتحادکومددفراہم کی جائے۔
نائن الیون کے حملوں کے بعدامریکانے طالبان حکومت کاخاتمہ کیاتوخطے کی بساط بدل گئی۔ افغانستان میں طاقت کاتوازن بدلااورانڈیا نے موقع سے فائدہ اٹھاکراپنی موجودگی کو مزیدمضبوط کیالیکن جب2021ء میں طالبان دوبارہ اقتدارمیں آئے، تو انڈیاکے تمام منصوبے اپنی سیاسی بنیادوں سے محروم ہوگئے اوروہ تمام منصوبے جوطالبان مخالف حکمتِ عملی پرمبنی تھے،یکسربے معنی ہوگئے۔آج حالات اس نہج پرہیں کہ انڈیا اورطالبان کے درمیان روابط بحال ہوچکے ہیں۔وزیرِخارجہ امیرخان متقی کاحالیہ دورہ ہنداسی تغیرکی نشانی ہے۔
کانگریس رہنماوں کے مطابق عینی ایئربیس کامحلِ وقوع ایساتھاجہاں سے انڈیاپورے خطے پرنظررکھ سکتاتھا۔یہاں سے افغانستان کے راستے وسطی ایشیا تک رسائی ممکن تھی۔یہی وجہ تھی کہ دہلی نے یہاں اپنی عسکری موجودگی بڑھانے کے بڑے منصوبے رکھے۔ مگرزمانے نے ایک مرتبہ پھرکروٹ لی اوراب مودی سرکار کے وہ تمام خواب شکستہ شیشے کی مانند بکھر گئے۔یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتےہیں (العمران:140) تاریخ کے یہی گردش کرتے دن انڈیاکواپنے ہی چِتاکے منصوبے کی راکھ پربیٹھنے پرمجبورکر گئے۔اطلاعات کےمطابق چاربرس قبل تاجکستان نے انڈیاکونرم اندازمیں یہ اشارہ دےدیاتھاکہ وہ رفتہ رفتہ اپنی سرگرمیاں سمیٹ لے۔انڈیا کی کوششوں،مالی پیشکشوں اور مذاکرات کے باوجود، بالآخر اسےوہاں سے رخصت ہوناپڑا۔دفاعی ماہرین کے مطابق یہ مودی حکومت کیلئے ایک بڑا سفارتی دھچکاہے،جس نے انڈیا کی عالمی ساکھ پرسوال کھڑے کر دئیے۔
22اپریل کوپہلگام کشمیرمیں ہونے والےحملےکی طالبان حکومت نے مذمت کی۔یہ بیان اس نئی حکمتِ عملی کامظہرہے جس کے تحت طالبان انڈیاکے ساتھ نرم رویہ اختیارکررہے ہیںایک ایساتغیرجس نے خطے کے سیاسی افق پرکئی سوالات اٹھادیے۔امیرخان متقی کاہفتہ بھرکادورہ انڈیا کی پالیسی میں تبدیلی کااشارہ ہے۔جوملک کبھی طالبان کوخونی درندوں سے تشبیہ دیتاتھا،طالبان مخالف قوتوں کاحامی تھا،آج انہی سے تعلقات بڑھارہاہے۔یہی سیاست کی وہ کروٹ ہے جودوستوں کودشمن اوردشمنوں کوسفارتی حلیف بنا دیتی ہے۔ اب طالبان اورانڈیاکے درمیان تعلقات بہترہوتے جارہے ہیں۔وزیرِخارجہ امیرخان متقی کا انڈیا کادورہ اس کاثبوت ہے۔اطلاعات کےمطابق انڈیا نے طالبان کومالی وعسکری امداددے کردریائے کابل پرڈیم بنانے میں مددفراہم کرنے کی پیشکش کی ہے تاکہ پاکستان کے لئے پانی کی رسد کم کرکے آبی دباؤ بڑھایاجاسکے۔یوں عینی ایئربیس کےزوال کےساتھ ساتھ انڈیانے اپنی پالیسی کارخ بدلنے کی کوشش کی۔مگرطاقت کی بساط پرچال بدلنے سے تقدیرنہیں بدلتی۔
راہول کےمطابق عینی بیس انڈین فضائیہ اوربارڈرروڈزآرگنائزیشن کی مشترکہ کاوش تھی۔یہ دونوں ادارے انڈیاکے دفاعی ڈھانچے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ مگرحکومت نے اس منصوبے کوسیاسی ترجیح نہیں دی،نتیجتاًایک قیمتی اثاثہ کھودیا۔اہم ذرائع کے مطابق روس اورچین دونوں نے تاجک حکومت پردباؤڈالاکہ وہ انڈیاسے ایئربیس خالی کروائے۔ انڈیا کی مالی پیشکشیں بھی ردکردی گئیں۔گویاتاجکستان نے ایشیا کی نئی طاقتوں کےزیرِاثرفیصلہ کیا۔یہ فیصلہ دراصل اس بات کااعلان ہے کہ ایشیاکی طاقت کا محور بدل چکاہے۔ اب دہلی نہیں،بلکہ ماسکواوربیجنگ کی سانسوں پرخطے کی سیاست چلتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں انڈیاکی سٹریٹجک خود مختاری کانقاب اترگیا۔
راہول بیدی نے کہاکہ یہ ایئرفورس کامسئلہ نہیں،یہ حکومت کامسئلہ ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومت نے اس موقع کواپنی قوتِ عمل دکھانے کے لئے استعمال نہیں کیا۔یہ وہی روش ہے جوقوموں کوافلاسِ تدبیر کی جانب دھکیلتی ہے۔ بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتاجب تک وہ خوداپنی حالت نہ بدلے۔ (الرعد:11)
تاجکستان کی وادیوں میں جہاں کبھی انڈین فضائیہ کے طیارے گرجاکرتے تھے،آج وہاں خاموشی بولتی ہے۔انڈیانے وسطیٰ ایشیاء میں اپنی موجودگی کو بڑھانے کاجوخواب دیکھا تھا، وہ سفارتی نزاکتوں اور سیاسی کمزوریوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔اے دیدہ وبینالوگو پس عبرت حاصل کرو(الحشر:2)
انڈیانےوسطی ایشیامیں اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کی،مگرغلط پالیسیوں اورسفارتی کمزوریوں نے اس کوشش کوناکام بنادیا۔ مودی حکومت نےجس تیزی سے معاشی تعلقات کوفوقیت دی،اسی شدت سے دفاعی سطح پرکمزوری دکھائی۔
عینی ایئربیس کاخالی ہونامحض ایک فوجی اڈےکی بندش نہیں،بلکہ ایک فکری و سٹریٹجک ناکامی کی علامت ہے۔یہ واقعہ انڈیاکے لئے وہ آئینہ ہے جس میں وہ اپنی علاقائی سیاست کی حقیقت دیکھ سکتاہے کہ طاقت صرف ہتھیارسے نہیں،بلکہ اعتماد،توازن اور بصیرت سے قائم ہوتی ہے۔یوں تاجکستان کی فضاؤں میں گونجتاہواایک سوال باقی رہ جاتاہے:کیایہ محض ایک اڈے کا خاتمہ تھا،یاایک خواب کاجنازہ؟
عینی ایئربیس کی بندش محض ایک عسکری تنسیخ نہیں،بلکہ ایک دورِاقتدارکی فکری کمزوری کی علامت ہے۔مودی حکومت کی یہ سٹریٹجک ناکامی انڈیاکے اس خواب پر لکیرکھینچتی ہے جو وسطی ایشیامیں بالادستی کے تصورپرمبنی تھا۔آج دہلی کے ایوانوں میں خاموشی ہے،مگراس خاموشی میں تاریخ کی سرگوشی سنائی دیتی ہے کہ طاقت کا غرورہمیشہ تدبیرکے زوال سے شروع ہوتاہے۔
عالمی دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ عینی ایئربیس کازوال دراصل انڈیاکی خارجہ پالیسی کے توازن کے بکھرنے کاآغازہے،اوراپوزیشن اسے مودی عہد کاسب سے بڑاشرمناک سٹریٹجک سانحہ قراردیتی ہے۔
اورعنقریب وہ ظالم جان لیں گےکہ وہ کس انجام کی طرف لوٹائےجائیں گے۔(الشعرا:227)
یوں تاجکستان کی وادیوں سے اٹھتی ہوئی خاموشی میں ایک پیغام چھپاہے کہ طاقت کارخ ہمیشہ ان ہی کی طرف ہوتاہے جوتدبرکو تدبیرپر غالب رکھتے ہیں،اورغرورکی بجائے بصیرت کا پرچم اٹھاتے ہیں۔عینی ایئربیس کی بندش ایک عسکری واقعہ نہیں بلکہ تقدیر کا اشارہ،جھوٹی انا،طاقت وتکبرکالمحہ فکریہ ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب طاقتورقوموں کویہ سمجھناچاہیے کہ: جوکچھ اللہ نے تمہیں دیاہے اس پراترانہیں(الحدید:23)
انڈیاکی یہ سٹریٹجک ناکامی دراصل ایک سبق ہے کہ دنیاکے نقشے پروہی قوم باقی رہتی ہے جودانشِ عمل کے ساتھ فکرِعمیق کو بھی لازم رکھے۔جوحکمتِ کارکے ساتھ بصیرتِ دل کوبھی ہمراہ رکھنے کے ساتھ ساتھ فراستِ عمل اوردوراندیشی کواپناشعار بنائے لیکن وائے افسوس کہ مودی اپنےاقتدارکے نشے اورلالچ میں اکھنڈبھارت کوبحرہندمیں ڈبونے کی پالیسیوں پرگامزن ہے۔

یہ بھی پڑھیں