جب اعتمادٹوٹ جائے
(گزشتہ سے پیوستہ) یہ بحران کسی ایک لمحے کانتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل سلسلہ غلط فیصلوں کاحاصل ہے۔مذاکرات جاری تھے،امکانات موجودتھے، سفارتی راستے کھلے تھے، مگر طاقت کے نشے نے تدبرکی راہوں کو مسدود کر دیا۔ یہاں یہ حقیقت سامنے
(گزشتہ سے پیوستہ) یہ بحران کسی ایک لمحے کانتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل سلسلہ غلط فیصلوں کاحاصل ہے۔مذاکرات جاری تھے،امکانات موجودتھے، سفارتی راستے کھلے تھے، مگر طاقت کے نشے نے تدبرکی راہوں کو مسدود کر دیا۔ یہاں یہ حقیقت سامنے
انسانی تاریخ کے طویل وپیچیدہ سفرمیں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جومحض واقعات نہیں ہوتے بلکہ تقدیرکے دھارے کوموڑدینے والے سنگِ میل بن جاتے ہیں۔یہ وہ ساعتیں ہوتی ہیں جب زمانہ خوداپنے آپ سے سوال کرتاہے،جب تہذیب اپنے آئینے میں
(گزشتہ سے پیوستہ) غزہ اوردیگرتنازعات میں اسرائیل کی کارروائیوں نے اسے عالمی قانونی فورمزکے کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے۔عالمی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت جیسے ادارے اب اس کے اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔مگراس سب کے باوجود
عین قرینِ قیاس ہے کہ امریکا،اسرائیل اورایران کے مابین برپاحالیہ کشمکش کواس نوخیزعالمی نظام کی اولین بڑی تمہیدی جنگوں میں شمارکیاجائے جوابھی اپنی ہیئت وماہیت متعین کرتے ہوئے اپنی فکری اورعملی تشکیل کے مراحل سے گزررہاہے۔ تاریخ کاچلن یہ رہاہے
(گزشتہ سے پیوستہ) پاکستان کی جانب سے بظاہرخاموشی اختیار کرنا ایک معنی خیزحکمت عملی اوردانشمندانہ سکوت معلوم ہوتا ہے، جس میں شایدغوروفکر کی گونج پوشیدہ ہے۔ سفارتکاری میں بعض اوقات خاموشی ہی سب سے بلیغ بیان ہوتی ہے اورالفاظ سے
عالمی سیاست کے افق پرجب کشیدگی کے بادل چھٹنے لگتے ہیں توسفارت کاری کے چراغ ازخود روشن ہوجاتے ہیں۔عالمی سیاست کے پیچیدہ اور پرآشوب منظرنامے میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب کشیدگی کے بادل چھٹنے لگتے ہیں اورافق
(گزشتہ سے پیوستہ) ایران کاپراکسی نیٹ ورک،جس میں حزب اللہ،حوثی،حماس اوردیگرگروہ شامل ہیںاس کی ’’فارورڈ ڈیفنس حکمت عملی‘‘ کابنیادی جزو اورجنگی حکمت عملی کا ستون ہیں۔ یہی وہ جال ہے جس کے ذریعے ایران اپنے دشمنوں کودورسے الجھائے رکھتاہے،اوربراہِ راست
(گزشتہ سے پیوستہ) امریکاکے نزدیک یہ خطرے کی گھنٹی ہےجبکہ ایران اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسےمحض پرامن مقاصد کے لئے قرار دیتا ہے اورایران اسےاپنی خودمختاری کااستعارہ سمجھتا ہے۔ یہ اختلاف دراصل طاقت اورخوف کے درمیان ایک کشمکش
یہ داستان محض سیاست کے خشک اوربے روح ابواب میں سے ایک باب نہیں،بلکہ یہ انسانیت کے سینے پرلکھی ہوئی وہ دردناک تحریر ہے جس کے ہرلفظ سے بارودکی بو اور ہر سطرسے آہوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ یہ
(گزشتہ سے پیوستہ) بھارتی صحافیوں کی جانب سے پاکستان کی ممکنہ کامیابی کوسفارتی انقلاب قراردینا ایک غیرمعمولی تلخ اعتراف ہے۔یہ وہی پاکستان ہےجسےاکثر تنقیدکانشانہ بنایاجاتارہا،اورآج وہی ملک عالمی امن کی امید بن کرابھررہاہے۔ برسوں سے پاکستان کوناکام ریاست قراردینے والے