گیس کا بحران یا ریاستی ترجیحات کا امتحان؟
رمضان کے ابتدائی دنوں کی سحری کا وقت، دیوار گیر گھڑی میں ساڑھے تین کا وقت نظر آرہے تھا۔ ایک متوسط گھرانے کی ماں کچن میں کھڑی چولہا جلانے کی کوشش کر رہی تھی، ماچس کی تیلی جلتی ہے مگر
رمضان کے ابتدائی دنوں کی سحری کا وقت، دیوار گیر گھڑی میں ساڑھے تین کا وقت نظر آرہے تھا۔ ایک متوسط گھرانے کی ماں کچن میں کھڑی چولہا جلانے کی کوشش کر رہی تھی، ماچس کی تیلی جلتی ہے مگر
(گزشتہ سے پیوستہ) یہی وہ نادار طبقہ ہے جو علاج یا محفوظ مقام پر ہجرت کرنے کے وسائل نہیں رکھتا۔شدید اسموگ کے دوران تعلیمی اداروں کا بار بار بند ہونا ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ بندشیں بچوں کی
جب زندگی کا ماحول ہی سیاست کا میدان بن جائے۔انسانی تاریخ میں ہمیشہ فوجی تنازعات، معاشی ابتری اور سیاسی سازشوں کو ہی سب سے بڑا خطرہ سمجھا گیا ہے مگر آج اکیسویں صدی میں، ہمارے سر پر ایک ایسا سایہ
(گزشتہ سے پیوستہ) ستائیسویں آئینی ترمیم پر سب سے زیادہ تحفظات صوبائی حکومتوں کی طرف سے سامنے آئے ہیں، خصوصاً ان دفعات کے حوالے سے جو مرکز کے اختیارات میں توسیع کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد
پاکستان کی آئینی تاریخ میں ہر ترمیم اپنے ساتھ سیاسی مفادات، ادارہ جاتی اثرات اور قومی وحدت کے کئی سوالات ساتھ لاتی رہی ہے۔ ایسا ہی معاملہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے ساتھ بھی ہے جو نہ صرف سیاسی و پارلیمانی
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا ایک عہد ساز شخصیت کی جدائی سے ادبی اور تعلیم کے شعبہ میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ پاکستان کے فکری اور ادبی افق کا ایک درخشندہ باب نہایت خاموشی کے ساتھ اپنے اختتام
کراچی وہ شہر ہے جو کبھی روشنیوں کا مرکز، تجارت کا دل اور پاکستان کی معیشت کی شہ رگ سمجھا جاتا تھا مگر آج بد انتظامی، بے توجہی اور غفلت کا شکار ایک بے یار و مددگار اور لاوارث بستی
’’چین کی ایٹمی توانائی میں سبقت، اس کے ثمرات، نقصانات اور سیاسی اثرات‘‘ کس حد تک اقوام عالم اور امریکہ پر اثر انداز ہوں گے یہ بات عالمی طورر پر بے چینی کا سبب بنتی نظر آرہی ہے کیونکہ چین
(گزشتہ سے پیوستہ) درپیش چیلنجز کا تجزیہ : اعتماد کی کمی۔ دو طرفہ الزامات کا ایک طویل ریکارڈ ہے، پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سر زمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور افغان، پاکستان پر
پاکستان اور افغانستان کی سرحد، درّہ درّہ پہاڑی لکیر، صرف زمینی حد نہیں بلکہ دو برادر مسلم قوموں کے دلوں کی حقیقت ہے۔ یہ وہ سرحد ہے جہاں کئی دہائیوں سے خوف، بے یقینی اور کشیدگی کا سایہ بن کر