موت کی جانب گامزن اقوام متحدہ
مشرق وسطیٰ اس وقت اسرائیلی بربریت اور درندگی کی زد میں ہے اور آگ کے شعلے بلند ہورہے ہیں۔یہ وہ آگ ہے جو عالمی امن کے ٹھیکیداروں بالخصوص امریکہ اور برطانیہ نے 78 برس قبل سرزمین فلسطین پر ایک ناپاک
مشرق وسطیٰ اس وقت اسرائیلی بربریت اور درندگی کی زد میں ہے اور آگ کے شعلے بلند ہورہے ہیں۔یہ وہ آگ ہے جو عالمی امن کے ٹھیکیداروں بالخصوص امریکہ اور برطانیہ نے 78 برس قبل سرزمین فلسطین پر ایک ناپاک
(گزشتہ سے پیوستہ) مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت نواز سیاسی جماعتوں کا بھارتی حکومت کے تازہ اقدام یا فیصلے پر ردعمل بڑی دیر کردی مہربان آتے آتے کے مصداق ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر کی سیاسی جماعتوں کے علاوہ بھارت کی
(گزشتہ سے پیوستہ) کشمیری عوام کیساتھ جب بات چیت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ کشمیر میں 05اگست2019 کے اقدامات سے کتنا بدلائو آیا ہے ؟ تو کشمیری عوام کے جوابات سے بھارتی صحافی شدید شرمندگی
مسئلہ کشمیر جو سات دہائیوں سے حل طلب چلاآرہا ہے۔آج بھی نہ صرف اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود بلکہ ادارے کی منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد کا منتظر ہے۔کشمیری عوام کی چار نسلیں ا س تنازعے کی
بھارت میں2014 سے بر سر اقتدار مودی اور بی جے پی نے بھارتی مسلمانوں کی نسلی تطہیر کرنے کی قسم کھالی ہے اور وہ اپنے اس منصوبے کوپائیہ تکمیل تک پہنچانے کی سر دھڑ کی بازی لگانے میں مصروف عمل
(گزشتہ سے پیوستہ) پھر حد بندی کمیشن کے نام پرصوبہ جموںجو کہ چند ایک اضلاع کے علاوہ ہندو اکثریتی ہے اسمبلی سیٹوں کی تعداد 107 سے بڑھا کر 114 کردی گئی۔جموں کے حصے میں 6 جبکہ مقبوضہ وادی کشمیر کو
بھارتی الیکشن کمیشن نے بالآخر مقبوضہ جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کا اعلان کر ہی دیا ہے،جو بھارت نواز جماعتوں کیلئے خد ا خدا کرکے کفر ٹوٹا ہے کے مصداق ہے۔ مقبوضہ جموںوکشمیر میں آخری مرتبہ 2014میں ریاستی اسمبلی
(گزشتہ سے پیوستہ) جب بارشیں برستی ہیں تو ایک ساتھ برستی ہیں،جب ہوائیں چلتی ہیں تو ایک ساتھ چلتی ہیں،چاند کا مطلع ایک ساتھ کا مطلع ہوتا ہے۔ہماری ثقافت،مذہبی روایات،رہن سہن ،بود و باش ،زبان ،لباس،کھانا پینا ایک ہی ہے،ہمارے
مقبوضہ کشمیر اور پاکستان مین بابائے حریت سید علی گیلانی کو ان کی شہادت کی تیسری برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اس سلسلہ میں مظفر آباد اسلام آباد سمیت پاکستان بھر میں تقریبات ہوئیں ۔کل جماعتی حریت
ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے حال ہی میں 20 اگست کو بھارت کا سرکاری دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران ملائیشین وزیر اعظم سے کچھ ایسے بیانات منسوب ہوچکے ہیں جو ملائیشیا کی دیرینہ خارجہ پالیسی سے میل