دراڑ
دنیا اس وقت ایک نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ بظاہر ہر طرف امن کی باتیں ہو رہی ہیں، عالمی فورمز پر استحکام کے دعوے کیے جا رہے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
دنیا اس وقت ایک نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ بظاہر ہر طرف امن کی باتیں ہو رہی ہیں، عالمی فورمز پر استحکام کے دعوے کیے جا رہے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
موجودہ دور میں مشرقِ وسطیٰ اورجنوبی ایشیاء کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال نے پاکستان کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اس کا کردار نہ صرف اہم بلکہ فیصلہ کن بن چکا ہے۔ اگر
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ پیچیدہ رہی ہے، مگر حالیہ حالات نے اس پیچیدگی کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کو دباؤ میں لانے کی کوشش
حالیہ واقعات نے اس سوال کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اصل فیصلہ کن طاقت آخر کس کے ہاتھ میں ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں ایران اور عرب
کیا واقعی ایران اور عرب ریاستوں کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے تھے؟ اگر ایسا تھا تو پھر وہ کون سا توازن تھا جس کے ہوتے ہوئے اسرائیل ایران پر حملے کرتا ہے اور عرب دنیا خاموش تماشائی بنی رہتی
آپ نے شاعری میں یہ جملہ ضرور سنا ہوگا، یہ کہاں آگئےہم، مگر آج جو سوال ہمارے سامنے ہے وہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے: یہ کہاں جا رہے ہیں ہم؟ اب معاملہ کسی ایک غلط فیصلے یا وقتی
کافی عرصے سے لوگ شاید یہ سمجھنے لگے تھے کہ ان کے گھر کی چھت واقعی ان کی اپنی ہےاور وہ اسے اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کر سکتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں اور غیر یقینی فراہمی سے