ابلاغیات اور ہماری اخلاقی ذمہ داریاں
(گزشتہ سے پیوستہ) مسلم شریف کی روایت کے مطابق حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کا ارشاد گرامی ہے کہ جب لوگوں کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں، اگر
(گزشتہ سے پیوستہ) مسلم شریف کی روایت کے مطابق حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کا ارشاد گرامی ہے کہ جب لوگوں کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں، اگر
حضرات صوفیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی محنت انسان کی روح، قلب اور نفس پر ہوتی ہے اور وہ انسان کی اخلاقی، دینی اور روحانی تربیت کر کے اسے انسانی معاشرے کا ایک اچھا فرد بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
حالیہ آئینی ترامیم میں سودی نظام کے خاتمہ کے لیے ۳۱ دسمبر ۲۰۲۷ء آخری تاریخ طے ہونے پر ملک بھر کے دینی و عوامی حلقوں میں مسرت کا اظہار کیا گیا ہے اور گوجرانوالہ کے مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ پارلیمنٹ میں دستورِ پاکستان کی ۲۶ویں ترمیم منظور ہوئی ہے، اس پر ملک بھر میں ہر سطح پر بحث جاری ہے۔ چونکہ اس میں بعض باتیں شریعت اور نفاذِ اسلام سے متعلق ہیں اس لیے دینی حلقے
(گزشتہ سے پیوستہ) الغرض حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی کا لفظ اپنے بعد کسی بھی حوالے سے ہو، اس کو قبول اور برداشت نہیں کیا۔ خود اللہ تعالیٰ نے بھی برداشت نہیں کیا۔ اور جس کسی
(گزشتہ سے پیوستہ) اس لیے میں یہ عرض کرتا ہوں کہ جب جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور میں یہ دعویٰ تسلیم نہیں کیا اور سنتِ رسول یہی ہے کہ مدعی نبوت خواہ کیسا ہی ہو،
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ قادیانی ہر دور میں مغالطوں سے کام لیتے آئے ہیں، مغالطہ دینا ان کا خاص فن ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت میں نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی پیشگوئی فرمائی تھی کہ
بعض دوستوں نے سوال کیا ہے کہ اجتہادِ مطلق کا دروازہ بند ہونے پر دلیل کیا ہے؟ اور اب اگر کوئی اس درجہ کا کوئی مجتہد سامنے آجائے تو اسے اجتہاد مطلق سے روکنے کا کیا جواز ہوگا؟اس سلسلہ میں
اموی خلیفہ سلیمان بن عبد الملکؒ ایک دفعہ دمشق سے مکہ مکرمہ جاتے ہوئے چند روز کے لیے مدینہ منورہ رکے تو شہر کے سرکردہ لوگ ان سے ملاقات کے لیے آئے۔ خلیفہ نے اس موقع پر دریافت کیا کہ
قادیانیت کے حوالہ سے مبارک ثانی کیس پر سپریم کورٹ آف پاکستان کا تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد فضا بحمد اللہ تعالیٰ خاصی حد تک صاف ہو گئی ہے اور اس فیصلہ پر مختلف مکاتب فکر کے اکابر علماء