مغرب اور اسلام میں تہذیبی بالادستی کی جنگ
جن حضرات کی خواہش ہے کہ مغرب اور مسلمانوں کے درمیان دن بدن بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی کی کوئی صورت پیدا ہو، اور مغربی ممالک اور مسلم ممالک کے درمیان باہمی مفادات اور ظاہری دوستی کی جو فضا اس
جن حضرات کی خواہش ہے کہ مغرب اور مسلمانوں کے درمیان دن بدن بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی کی کوئی صورت پیدا ہو، اور مغربی ممالک اور مسلم ممالک کے درمیان باہمی مفادات اور ظاہری دوستی کی جو فضا اس
(گزشتہ سے پیوستہ) آج صورتحال یہ ہےکہ مشرقِ وسطیٰ کےجن ممالک میں بادشاہتیں قائم نہ رہ سکیں، وہاں بھی شخصی آمریتیں ہیں، اور مغرب کی طرف سے ان کی پشت پناہی کےباعث جمہوریت اور انسانی حقوق ہنوز دِلی دور است
مشرقِ وسطیٰ میں بادشاہتوں کےخاتمے کاایک امریکی منصوبہ تیاری کےمراحل میں ہے اور اس کے تحت تمام اسلامی دنیا اورعرب ممالک کو مغربی تحفظ کی چھتری کےنیچے لایا جائے گا۔ یورپی سفارتی ذرائع کے مطابق اقدام برائے عظیم ترمشرقِ وسطیٰ
میں بھی آزاد میڈیا کے ناقدین میں سے ہوں کہ اس قدر آزادی، جس سے قوم کی نظریاتی شناخت اور تہذیبی قدریں خطرے میں پڑ جائیں، عقیدہ و ثقافت رکھنے والی کسی بھی قوم کے لیے سود مند نہیں ہوتی۔
(گزشتہ سےپیوستہ) طبی امداد پہنچانا میرا فرض نہ تھا، یہ ایک طبی مسئلہ تھا۔ جونہی فائر بند ہوئے، میں واپس چلا گیا۔ وقتاً فوقتاً میں سپاہیوں کو فائر کرنے سے روک لیتا اور وہاں فائر کرنے کی ہدایت کرتا جہاں
انگریز جب ہمارے ہاں ( برصغیر میں) آئے تو ان کا دعویٰ تھا کہ ہم مشرقی اقوام کو تہذیب سکھانے آئے ہیں، زندگی کا سلیقہ بتانے آئے ہیں اور متمدن معاشرہ کے آداب سے بہرہ ور کرنے کے لیے آئے
اسلام دین فطرت ہے اور نسل انسانی کے لیے ان تعلیمات و ہدایات کی نمائندگی کرتا ہے جو خالق کائنات نے حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے ذریعے نازل فرمائی ہیں۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس امر
(گزشتہ سے پیوستہ) آج کی دنیا کے معاشی فلسفہ کے ساتھ ہمارا ایک بنیادی تنازعہ یہ بھی ہے کہ ’’فری اکانومی‘‘ کے عنوان سے یہ بنیادی اصول طے کر لیا گیا ہے کہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز
قرآن کریم اور حدیث و سنت میں زندگی کے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ معاشیات پر بھی بات کی گئی ہے۔ قرآن کریم نے سینکڑوں آیات مقدسہ میں معاشیات کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کیا ہے، جناب نبی اکرم صلی
حضرت حذیفہ بن الیمانؓ اپنے والد محترم حضرت یمانؓ کے ہمراہ اس دور میں مسلمان ہو گئے تھے جب بدر کا معرکہ بپا ہونے والا تھا۔ مدینہ منورہ کی طرف آ رہے تھے کہ راستے میں قریش کے لشکر نے