Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

انگریز نے ہمیں ’’تہذیب‘‘ کیسے سکھائی؟

(گزشتہ سےپیوستہ)
طبی امداد پہنچانا میرا فرض نہ تھا، یہ ایک طبی مسئلہ تھا۔ جونہی فائر بند ہوئے، میں واپس چلا گیا۔ وقتاً فوقتاً میں سپاہیوں کو فائر کرنے سے روک لیتا اور وہاں فائر کرنے کی ہدایت کرتا جہاں ہجوم بہت زیادہ ہوتا اور یہ میں نے اس لیے نہیں کیا کہ وہ تیزی سے بھاگ نہیں رہے تھے، بلکہ اس لیے کہ میں نے انہیں جلسہ منعقد کرنے کی سزا دینے کا مصمم ارادہ کر رکھا تھا۔جنرل ایڈوائر کے حکم سے ایک تنگ گلی کو جو بہت سی گلیوں کو ملاتی تھی مخصوص کر کے حکم دیا اس گلی میں سے گزرنے والے پیٹ کے بل زمین پر رینگ کر گزریں۔ بعض گلیوں تک جانے کے لیے یہ واحد راستہ تھا، اس لیے بہت سے لوگوں کو وہاں سے رینگ کر گزرنا پڑتا۔ وہاں ایک طرف ٹکٹکی لگا دی گئی تھی اور خلاف ورزی کرنے والوں کو کوڑے لگائے جاتے تھے۔ وہاں سے گزرنے کی کیفیت یہ تھی کہ چلنے والے پیٹ کے بل جاتے تھے اور بالکل رینگنے والے جانوروں کی طرح رینگا کرتے تھے۔ جہاں کسی نے گھٹنے کو ذرا اونچا کیا یا ذرا جھکایا وہیں بندوق کا کنڈھا رینگتے شخص کی پیٹھ پر پڑتا۔ لہٰذا یہ ساری حرکت پیٹ اور بانہوں کو ہلا ہلا کر کرنا پڑتی تھی۔ یہ حکم آٹھ روز تک جاری رہا۔
میاں فیروز دین آنریری مجسٹریٹ نے بیان کیا کہ جرنیل صاحب اور مسٹر پلومر کو کھڑے ہو کر سلام نہ کرنے کے جرم میں لوگوں کو بید لگائے جاتے تھے۔ جو سلام نہیں کرتے تھے ان کو بعض اوقات گرفتار کر لیا جاتا تھا۔ میں نے بچشم خود دیکھا کہ اس وجہ سے لوگوں کو بید لگائے گئے۔ لوگ ایسے خوفزدہ ہو گئے تھے کہ بہت سے تو تقریباً تمام دن کھڑے رہتے تاکہ ان سے کوئی غلطی نہ ہو اور وہ سزا سے بچے رہیں۔ میں نے ’’تقریباً تمام دن‘‘ کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ لوگوں کو موٹر کی آواز سنتے ہی کھڑا ہونا پڑتا تھا، میں خود یہی کرتا تھا۔وکلاء کو اسپیشل کانسٹیبل کے طور پر بھرتی کیا گیا اور ان سے کس طرز کی خدمت لی جاتی تھی، اس کے بارے میں امرتسر کے ایک عمر رسیدہ وکیل گھنسیا لال کا کہنا ہے کہ مقامی وکلاء کے ساتھ مجھ کو بھی اسپیشل کانسٹیبل کا کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔ یہ تقرر ۲۲ اپریل کو کیا گیا، جبکہ شہر میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے اس تقرر کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی۔ مجھے اس بڑھاپے میں قلیوں کی طرح کام کرنے، ایک جگہ سے دوسری جگہ کرسیاں لے جانے، میزیں اٹھانے اور جلتی دھوپ میں شہر کے اندر گشت کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ہم پر جو گالیاں برسائی گئیں اور جو ذلتیں ہم کو اٹھانا پڑیں انہوں نے ہماری تکالیف میں بہت کچھ اضافہ کر دیا۔لالہ مکند لال بھائیا وکیل ہائی کورٹ میونسپل کمشنر کا کہنا ہے کہ وکلاء کو بلا کر زمین پر بٹھایا گیا اور یہ وہ وقت تھا جب ان کو دو شہر والوں کو ٹکٹکی سے بندھے بید لگتے دیکھنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ ہمیں اس نظارہ کے لیے خاص طور پر حکم دیا گیا تھا۔ شام کے وقت تمام وکلاء کو ایک قطار میں کھڑا کیا گیا۔ لیفٹیننٹ نیومن کو ہمارا انچارج مقرر کیا گیا۔ اس لیفٹیننٹ نے ایک وکیل کو ٹھوکروں سے مارنے کی دھمکی دی۔ دن میں تین دفعہ حاضری دینے اور باقی دن شہر میں گشت کرنے کا حکم دیا گیا۔
غلام جیلانی ایک امام مسجد اور وثیقہ نویس ہے، اس پر جو تشدد کیا گیا، شائد اس سے زیادہ ہم نے کوئی تشدد نہیں سنا۔ اس کے متعلق گواہوں نے جو کچھ بیان کیا، اس کی تائید میاں فیروز دین آنریری مجسٹریٹ اور غلام یاسین بیرسٹر نے بھی کی۔ حاجی شمس الدین زمیندار کا بیان ہے کہ پولیس والوں نے مولوی غلام جیلانی کی مقعد میں ایک چھڑی داخل کر دی اور اس کی حالت نہایت قابل رحم تھی۔ میں نے اس کا پیشاب پاخانہ نکلتے دیکھا ہے۔ ہم سب سے جو باہر کھڑے تھے پولیس والوں نے کہا کہ جو لوگ (پولیس کی مرضی کے مطابق) گواہی نہ دیں گے، ان سب کا یہی حال ہو گا۔کٹڑہ شیر سنگھ کی مسماۃ بلوچن کا بیان ہے کہ مارشل لاء کے دنوں میں اوروں کے ساتھ میں بھی پکڑی گئی اور تھانے میں پہنچائی گئی۔ ہم سب کے ساتھ نہایت بے شرمی کا برتاؤ کیا گیا۔ مجھ سے کہا گیا کہ اپنا پاجامہ اتار دو۔ مجھے پولیس کے دباؤ کی وجہ سے پاجامہ اتار دینا پڑا۔ ایسا ہی برتاؤ میری بہن اقبالن کے ساتھ کیا گیا، اس سے سب پولیس والے ہنسنے لگے۔ ہمیں دس بجے گھر جانے کا حکم دیا گیا، لیکن پھر سویرے چھ بجے آنے کو کہا گیا۔ ایسا ہی پانچ دن ہوتا رہا۔ ہمارے اعضائے مخصوصہ میں چھڑیاں گھسیڑی جاتی تھیں، ہم سب کو بید لگائے جاتے تھے اور برابر گالیاں دی جاتی تھیں۔ اس کے بعد جب ہم نے روپے دیے تب ہماری خلاصی ہوئی۔
گوجرانوالہ کے سردار رگھبیر سنگھ نے بتایا کہ میری بزازی کی دکان بابا گوبند داس کے ٹھاکر دروازے کے بالمقابل ریلوے بازار میں ہے۔ میری دکان پر سلی سلائی قمیصیں اور کوٹ برائے فروخت تیار رہتے ہیں۔ مارشل لاء کے دنوں میں انگریز سپاہی میری دکان پر آئے، قمیصیں کھونٹیوں پر لٹک رہی تھیں۔ ایک نے ایک قمیص اور دوسرے نے دوسری قمیص کھینچ کر اتار لی۔ تیسرے نے بھی ایسا کیا، مگر قمیص نہ اتر سکی اور پھٹ گئی۔ وہ دو قمیصیں لے گئے اور قیمت ادا نہ کی۔ کسی آدمی نے بھی میری مدد نہ کی۔ سپاہیوں نے وردی پہن رکھی تھی اور ان کے ہاتھ میں بندوقیں تھیں۔وزیر آباد کے لالہ دیال چند میونسپل کمشنر نے بتایا کہ مارشل لاء کے دنوں میں جب ڈپٹی کمشنر وزیر آباد آیا، اس نے مجھ کو خصوصیت سے پوچھا کہ میں ۱۲ اپریل کی میٹنگ کا مکمل حال بتاؤں۔ دراصل ۱۲ اپریل کو وزیر آباد میں کوئی بھی میٹنگ نہیں ہوئی تھی، لیکن ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ہم ضرور ۱۲ اپریل کے جلسے کا حال معلوم کریں گے۔ اس پر پولیس نے تمام شہر کے حلوائیوں کو تھانہ پر بلایا۔ رات بھر ان کو وہاں رکھا گیا اور آنریبل راجہ اکرم اللہ خان نے ان کے یہ بیان لکھے کہ میرے مکان پر ۱۲ اپریل کو ایک میٹنگ ہوئی تھی، جس میں وہ تمام لوگ شامل تھے جو اس سے قبل گرفتار ہو چکے تھے۔ اس میٹنگ میں حلوائیوں پر زور ڈالا جاتا رہا کہ وہ دکانیں بند کریں۔ جب اس قسم کے بیانات لکھے گئے تو مجھے شام کو تھانہ میں بلایا گیا کہ میں سچ سچ کہہ دوں۔ مگر یہ بات کہ میرے مکان پر کوئی میٹنگ ہوئی سرتاپا سفید جھوٹ تھی، میں نے صاف انکار کر دیا۔ جس پر مجھے اور لالہ بیلی رام کو گرفتار کر کے گوجرانوالہ جیل بھیج دیا گیا۔یہ ہے وہ ’’تہذیب اور تمدن‘‘ جو ہمیں سکھانے کے لیے انگریز سات سمندر پار سے یہاں آئے تھے اور انہوں نے اس مہارت کے ساتھ یہ سب ہمیں پڑھایا کہ انگریزوں کو یہاں سے گئے نصف صدی سے زائد عرصہ گزر گیا ہے، مگر ہماری قومی اور معاشرتی زندگی میں ہر طرف ابھی تک ایسی تہذیب و تمدن کی عملداری ہے اور ہم اپنی پولیس، انتظامیہ اور سیاسی قیادت میں سرتاپا مکمل طور پر سرایت کیے ہوئے ان جراثیم سے نجات حاصل کرنے میں کامیابی کی کوئی راہ نہیں پا رہے، جو جنرل مائیکل ایڈوائر اور اس کی ٹیم نے ہمارے معاشرتی وجود میں داخل کر دیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں