مشرقِ وسطیٰ میں بادشاہتوں کےخاتمے کاایک امریکی منصوبہ تیاری کےمراحل میں ہے اور اس کے تحت تمام اسلامی دنیا اورعرب ممالک کو مغربی تحفظ کی چھتری کےنیچے لایا جائے گا۔ یورپی سفارتی ذرائع کے مطابق اقدام برائے عظیم ترمشرقِ وسطیٰ کی حکمتِ عملی پر امریکہ،یورپی یونین اورجی ایٹ ممالک میں غیررسمی طور پرزبردست بحث جاری ہے اور یہ منصوبہ برسلز میں نیٹو، یورپی یونین اور جی ایٹ کے سربراہی اجلاس میں پیش کئےجانےکاامکان ہے۔ ذرائع کے مطابق، ممکن ہے بعض یورپی ممالک اس منصوبے کی مخالفت کریں، تاہم ان کی مخالفت کے باوجود اس منصوبے پرجون کے بعد عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق برسلز میں مذکورہ قومی اخبار کے نمائندے کو یورپی سفارتی ذرائع نے نام افشا نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکہ بہت جلد اقدام برائے عظیم تر مشرقِ وسطیٰ کے منصوبے کا اعلان کر دے گا، جس کے تحت مشرقِ وسطیٰ میں بادشاہتوں کا خاتمہ کر کے جمہوریت نافذ کی جائے گی۔ اس کے علاوہ علاقے میں کھلی معیشت کا نظام نافذ کر کے تمام عرب اور اسلامی ممالک کو مغربی تحفظ کی چھتری کے نیچے لایا جائے گا۔ اس منصوبے کی حتمی تیاری کے لیے موسم گرما میں ایک بہت بڑی سربراہی کانفرنس یورپ میں منعقد کی جائے گی۔ جس میں امریکہ، یورپ اور جی ایٹ ممالک کے سربراہان اس منصوبے پر بات چیت کریں گے۔ ان سفارتی ذرائع کے مطابق اس موقع پر تمام بات چیت کا مرکزِ ثقل اسلامی دنیا کا مستقبل ہو گا۔
جہاں تک مشرقِ وسطیٰ میں بادشاہتوں کا تعلق ہے، یہ مغرب نے ہی قائم کی تھیں اور اب سے ایک صدی قبل خلافتِ عثمانیہ کےخاتمہ کے بعد عرب دنیا کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں الگ الگ بادشاہتوں کے تحت تقسیم کردیاتھا،جبکہ اس سےقبل عرب دنیا کے اکثر حصے خلافتِ عثمانیہ کے ماتحت تھےلیکن برطانوی استعمار نےجب دوسرے یورپی ممالک کے تعاون سے خلافتِ عثمانیہ کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تو جمہوریت کا دعویدار ہونے کے باوجود اس نے اس خطے میں بہت سی بادشاہتوں کو جنم دیا تھا، اور خلافتِ عثمانیہ کے خلاف تعاون کرنے والے بہت سے علاقائی گروہوں کو الگ الگ خطے کی امارت و بادشاہت دے کر ان سے معاہدے کر لئے تھے، ورنہ اس سے قبل ان بادشاہتوں کا کوئی وجود نہیں تھا۔ یہ کرشمہ بھی مسلم دنیا نے مشرقِ وسطیٰ میں ہی دیکھا تھا کہ برطانوی جمہوریت کے بطن سے عرب بادشاہتیں جنم لے رہی ہیں۔ وہ معاہدے تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں جو اس خطے کے علاقائی گروہوں کے ساتھ برطانوی استعمار نے کیے تھے، اور جن میں سیاسی اور معاشی معاملات میں برطانوی بالادستی کو تسلیم کرنے، اور اس کی وفاداری کے عہد کے عوض ان خاندانوں کا یہ حق تسلیم کیا گیا تھا کہ ان ریاستوں کا اقتدار برطانیہ کی ضمانت کے ساتھ انہی خاندانوں کےپاس رہے گا، اور ان خاندانوں کاجو فردبرطانوی معاہدوں کا وفادار رہے گااسے اقتدارمیں حصہ ملتا رہے گا، خواہ اسے اپنے ملک کے عوام کی حمایت حاصل نہ ہو۔
پھرجب برطانوی استعمار کے قویٰ مضمحل ہونے کےبعد اس کی جگہ تازہ دم امریکی استعمار نے سنبھالی تو اس نے بھی جمہوریت اور انسانی حقوق کی تمام فائلوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے ان بادشاہتوں کے ساتھ حکمرانی اور وفاداری کے رشتے استوار کیے، انہیں تحفظ فراہم کیا، اور ان سے اپنے مفادات حاصل کیے۔ امریکہ اور برطانیہ دنیا میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے سب سے بڑے علمبردار ہیں، اور دنیا کے کسی بھی خطے میں جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کو خطرہ لاحق ہو تو وہاں مداخلت کرنااپنا حق سمجھتے ہیں لیکن مشرقِ وسطیٰ کی بادشاہتیں چونکہ خود ان کی اپنی قائم کردہ تھیں، اس لیے عرب عوام کے انسانی حقوق اور ان کےجمہوری معاملات سے امریکہ اور برطانیہ کو کوئی سروکار نہ رہا، اور ان ممالک کے عوام آج بھی جمہوری، شہری اور انسانی حقوق سے محروم ہیں۔
ان بادشاہتوں کے ردعمل میں عرب قومیت کی تحریک نمودار ہوئی اور مصر کے سابق صدرجمال عبد الناصر مرحوم اور بعث پارٹی نے عرب قومیت کے نعرے پر بادشاہتوں کے خلاف مہم چلائی۔ بہت سے ملکوں میں انقلابات آئے، بادشاہتیں ختم ہوئیں اور قومی حکومتیں قائم ہوئیں، بعض ممالک میں کسی حد تک جمہوریت، ووٹ اور اسمبلی کا نظام بھی قائم ہوا، لیکن اسرائیل کے وجود، قوت اور مغرب کی طرف سے اس کی مسلسل پشت پناہی اور سرپرستی کے باعث عرب قومیت کے نام پر بپا ہونے والے انقلابات اسرائیل اوراس کے پردے میں امریکی استعمار کی قوتوں اور چالوں کا مقابلہ نہ کر سکے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوامی حقوق اور جمہوری عمل اسی جگہ رہا، اور ان ملکوں میں بھی فوج کی طاقت کے بل پر شخصی حکومتیں مستحکم ہوتی چلی گئیں۔
(جاری ہے)