مصنوعی ذہانت اور تعلیم کی نئی سمت
(گزشتہ سے پیوستہ) تعلیمِ دل روحانی پہلو‘جب ہم کلاس روم میں AI لاتے ہیں،تو دل کے اندر کے کلاس روم کو بھی جگانا ضروری ہے۔اصل بصیرت دل سے جنم لیتی ہے۔قرآن یاد دلاتا ہے:یقینا آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ
(گزشتہ سے پیوستہ) تعلیمِ دل روحانی پہلو‘جب ہم کلاس روم میں AI لاتے ہیں،تو دل کے اندر کے کلاس روم کو بھی جگانا ضروری ہے۔اصل بصیرت دل سے جنم لیتی ہے۔قرآن یاد دلاتا ہے:یقینا آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ
علم و آگہی کے نئے دور کی صبح کا طلوع۔ انسانیت ایک عظیم تغیر کے دہانے پر کھڑی ہے۔مصنوعی ذہانت (AI) محض ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انسانی صلاحیت کی نئی تعریف ہے۔ صدیوں تک تعلیم کا تصور یہ رہا کہ
چالیس برس: روحانی و فکری پختگی کا سنگِ میل ‘انسانی زندگی میں چالیس سال کی عمر ایک مقدس اور با برکت حد فاصل قرار پائی ہے۔ قرآن مجید اس عمر کو انسان کی پختگی اور تکمیلِ عقل و فہم کے
قرآن مجید کی چار آیات پر مشتمل سورۃ اخلاص گویا پورے قرآن کا نچوڑ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ سورۃ قرآن کے ایک تہائی کے برابر ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، صمدیت اور اس کی بے
سائنسی راز اور خاموشی کا معجزہ‘جدید سائنسی تحقیق نے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ اگر انسان روزانہ صرف دو گھنٹے خاموشی اور خلوت اختیار کرے تو اس کے دماغ میں نئے خلیات (neurons) پیدا ہونا شروع ہو جاتے
دنیا کی رنگینی، نمود و نمائش اور تعلقات کے بے پایاں ہجوم میں اصل سوال ہمیشہ یہی رہا ہے کہ انسان کی اصل قیمت کس چیز سے ہے؟ کیا وہ دولت ہے جس پر لوگ فخر کرتے ہیں؟ کیا وہ
تعارف: حکمت الٰہی کے تحت ابھرتا کوانٹم دور۔ ہم آج ایک نئے عہد کے دہانے پر کھڑے ہیں کوانٹم دور۔ یہ دور کسی اتفاق یا محض انسانی کوشش کا نتیجہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے الٰہی منصوبے اور حکمت کا
تعارف: انسان ادراک کی مخلوق انسان پیدائش کے وقت حواس کے ساتھ دنیا میں آتا ہے جو اسے کائنات کے ساتھ جڑنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔ قرآن یاد دلاتا ہے:اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماں کے پیٹوں سے نکالا، اس
مصنوعی ذہانت حدود‘ ہم ایک غیر معمولی دور میں جی رہے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت نے انسانی زندگی کے تقریبا ً ہر شعبے میں قدم رکھ دیا ہے طب، تعلیم، قانون، حکمرانی، تجارت اور حتی کہ فنونِ لطیفہ تک۔ اب
تمہید: انسان کا تضاد‘ انسان تخلیق کا سب سے معزز مگر سب سے پیچیدہ وجود ہے۔ قرآن اسے فرشتوں سے بلند، زمین پر خلافت کے منصب کا حامل، عقل، فہم اور آزادی سے نوازا ہوا بتاتا ہے۔ لیکن یہ اپنی