Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

نواز شریف کے کس خط سےخط میمز کی شروعات ہوئی؟

سوشل میڈیا پر آئے روز نت نئی قسم کی میمز اِس قدر مقبول ہونے کے باوجود اکثر یہ پتا لگانا مشکل ہوتا ہے کہ ان میمز کا آغاز کہاں سے ہوا، یہی حال اِن دنوں سوشل میڈیا پر وائرل خط میمزکا ہے۔

زمانہ طالبعلمی میں اردو کے مضمون میں خط لکھنے کی مشق جیسے خطوط کو سوشل میڈیا صارفین نے میمز کی شکل میں ڈھال دیا ہے، جن میں معاشرے کے تضادات اور سیاسی صورتحال پر مذاحیہ انداز میں تبصرہ کیا جارہا ہے۔

کہیں مرحوم دادا جان کے نام خط لکھا جارہا ہے جس میں 1947 میں یورپ والی ٹرین میں نہ بیٹھنے پر ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے۔کہیں ملکی حالات سے تنگ آکر انگریزوں کے نام خط لکھا جارہا ہے جس میں ملک پر دوبارہ قبضہ کرنے کی دعوت دے جارہی ہے۔کہیں کنوارے اپنی نامعلوم شریک حیات کے نام خط لکھ کر جلد زندگی میں آنے کی تلقین کررہے ہیں۔کہیں مرحوم دادا جان کے نام خط میں 10 ایکڑ زمین اڑھائی سو کے عوض بیچنے پر شکوہ اور ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے۔

یہ واضح نہیں کہ واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام استعمال کرنے والی نسل کو اچانک خط لکھنا کیسے یاد آگیا اور یہ میمز اس قدر مقبول کیسے ہوگئیں۔

تاہم بعض سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اِن خط میمز کا آغاز سابق وزیراعظم و رہنما مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے ایک وائرل خط سے ہوا تھا۔نواز شریف نے 29 فروری 2012 کو لکھے گئے اِس خط میں کسی شہزادہ پرویز نامی شخص کو لذیذ مرغ چنے، پائے اور مٹھائی کا تحفہ بھیجنے پر شکریہ ادا کیا تھا۔

خط کی وائرل تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نواز شریف کیجانب سے بھیجا گیا یہ خط اسے موصول کرنے والے شخص کو اِس قدر پسند آیا کہ اسے باقاعدہ فریم کروا کر دیوار پر لٹکا دیا۔

یہ واضح نہیں کہ خط میمزکا آغاز واقعی نواز شریف کے اِس خط سے ہوا تھا یا نہیں تاہم انٹرنیٹ صارفین کیجانب اِس وائرل خط کے کمنٹ سیکشن میں نواز شریف کی خوش خوراکی پر دلچسپ تبصرے کیے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں