جنوبی ایشیا میں سونا(gold) صرف ایک قیمتی دھات یا زیور نہیں بلکہ خاندانوں کی میراث اور جذباتی وابستگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ نسل در نسل منتقل ہونے والا یہ سرمایہ بظاہر تو دیرپا ہوتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق ایک معمولی سی لاپرواہی بھی اسے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
سائنسی ماہرین کے مطابق سونے کا سب سے بڑا دشمن پارہ (مرکری) ہے۔ عام طور پر سونا ایک غیر فعال دھات ہے جو ہوا یا نمی سے متاثر نہیں ہوتا، لیکن اگر اس کا رابطہ پارے سے ہو جائے—even ایک چھوٹا سا قطرہ بھی—تو یہ اس کی ساخت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اس عمل کو کیمیائی طور پر “املگمیشن” کہا جاتا ہے، جس میں پارہ سونے کے اندر داخل ہو کر اس کے سالماتی ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے۔ نتیجتاً سونا اپنی چمک کھو دیتا ہے، اس پر سفید یا سرمئی دھبے پڑ جاتے ہیں اور وہ کمزور ہو کر ٹوٹنے لگتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹوٹے ہوئے تھرمامیٹر، پرانی بیٹریاں، کچھ ادویات اور کاسمیٹکس میں موجود پارہ بھی اس نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر یہ کسی بھی صورت زیورات پر آ جائے تو نقصان فوری اور مستقل ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے سختی سے خبردار کیا ہے کہ ایسی صورت میں زیور کو آگ پر گرم کرنے کی کوشش ہرگز نہ کی جائے، کیونکہ پارے کے بخارات انتہائی زہریلے ہوتے ہیں اور سانس کے ذریعے جسم کے اہم اعضاء کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پاکستان میں ذوالقعد کا چاند کب نظر آئے گا؟ سپارکو کی پیش گوئی سامنے آگئی
احتیاطی تدابیر میں یہ بھی شامل ہے کہ مشتبہ زیورات کی صفائی خود کرنے کے بجائے فوری طور پر تجربہ کار سنار سے رجوع کیا جائے، گھر میں پارے والے پرانے آلات کے بجائے ڈیجیٹل آلات استعمال کیے جائیں، اور زیورات کو کیمیکل یا ادویات سے دور محفوظ رکھا جائے۔
ماہرین کے مطابق خالص سونا اگرچہ دیرپا ہوتا ہے، مگر زیورات میں شامل دیگر دھاتیں وقت کے ساتھ سیاہ پڑ سکتی ہیں، تاہم اگر سونا سفید ہو کر ٹوٹنے لگے تو یہ پارے کی آلودگی کی واضح علامت ہوتی ہے۔
احتیاط اور آگاہی کے ذریعے نہ صرف قیمتی زیورات کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے بلکہ بڑے مالی اور جذباتی نقصان سے بھی بچا جا سکتا ہے۔
