ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ نے نجی اسکولوں کی جانب سے ڈائریکٹوریٹ میں رجسٹریشن اور تجدید کے لیے جمع کرائی گئی درخواستوں پر کارروائی کرتے ہوئے جنوری سے اپریل کے دوران 55 نئے اسکولوں کو رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں۔
انسپکشن کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں 84 سکولوں کی رجسٹریشن کی تجدید کی گئی ہے اور 74 سکولوں کو دستاویزات اور دیگر معاملات کی عدم دستیابی کے باعث لیٹر جاری کر دیئے گئے ہیں۔
اس کے ساتھ معیار پر پورا نہ اترنے پر 10 نئے سکولوں کی رجسٹریشن کی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں اور ان سکولوں کے مالکان کو اپنے سکولوں کو محکمہ تعلیم کی جاری کردہ عمارتوں میں شفٹ کرنے کے لیے مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں بے روزگاری کی شرح کتنی؟ آئی ایم ایف رپورٹ سامنے آ گئی
اسی طرح 2 ہائر سیکنڈری سکولوں کی رجسٹریشن کی درخواستیں بطور سیکنڈری سکولوں کو مسترد کر دی گئیں اور 3 سیکنڈری سکولوں کی رجسٹریشن کی درخواستیں ایلیمنٹری سکولوں کے طور پر رجسٹر کی گئیں کیونکہ یہ سکول ہائر سیکنڈری اور سیکنڈری کے معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔
ڈائریکٹوریٹ نے گزشتہ چار ماہ میں والدین، طلباء، اساتذہ اور دیگر ذرائع کی جانب سے درج کردہ شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے 318 میں سے 288 درخواستوں کو قواعد کے مطابق حل کیا ہے، جبکہ باقی درخواستوں پر کارروائی جاری ہے۔
اسی طرح والدین اور طلبہ کی جانب سے اپنے نام، والد کے نام، تاریخ پیدائش کی تصحیح کے لیے جمع کرائی گئی 71 درخواستوں پر کارروائی کی گئی اور ان کے احکامات جاری کیے گئے۔
