Search
Close this search box.
جمعه ,12 جون ,2026ء

دانتوں کی تکلیف دہ فلنگ ماضی کا قصہ بننے کے قریب

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک)کیویٹیز دنیا بھر میں دانتوں کا انتہائی عام مسئلہ ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے ڈاکٹروں سے فلنگ کرائی جاتی ہے جو انتہائی تکلیف دہ عمل ہوتا ہے مگر اس کا علاج نہ کرانا شدید درد، دانتوں سے محرومی، انفیکشن بلکہ جان لیوا امراض کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

اس وقت کیویٹیز کے علاج کے لیے متاثرہ دانت کے ٹشوز نکال کر اس سوراخ کو میٹریل سے بھرا جاتا ہے، مگر اس عمل سے صحت مند ٹشوز کو بھی نقصان پہنچتا ہے جبکہ مریضوں کو بھی شدید تکلیف کا سامنا ہوتا ہے۔

مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بہت جلد دانتوں کی فلنگ کا عمل ماضی کا قصہ بن جائے گا۔

برطانیہ کی ناٹنگھم یونیورسٹی کے ماہرین نے ایسا جیل تیار کیا ہے جو دانتوں کو پہنچنے والے نقصان کی روک تھام کرے گا اور دانتوں کی متاثر سطح کی بحالی میں مدد فراہم کرے گا۔

یہ جیل امیلوجینن نامی ایک پروٹین پر مبنی ہے۔

یہ پروٹین ننھے بچوں کی دانتوں کی سطح کی نشوونما میں مدد فراہم کرتا ہے۔

یہ جیل دانتوں کے سوراخ اور دراڑیں بھرتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ یہ جیل دانتوں کی موجودہ سطح کو ہی ایک بار پھر نئے جیسا بنا دیتا ہے۔

واضح رہے کہ دانتوں کی ٹھوس سطح اندر کے نرم حصے کو نقصان پہنچنے سے بچاتی ہے۔

مگر جب یہ باہری سطح تنزلی کا شکار ہو جاتی ہے تو پھر دانتوں کو نقصان پہنچنے لگتا ہے۔

دانتوں کی یہ سطح قدرتی طور پر دوبارہ بحال نہیں ہوتی، کچھ خصوص ٹوتھ پیسٹ یا کیمیکلز سے عارضی تحفظ تو ملتا ہے مگر دانتوں کی فلنگ کو ہی مستقل حل قرار دیا جاتا ہے۔

یہ نیا جیل ایک پتلی مگر پائیدار تہہ تشکیل دیتا ہے جو دانتوں پر کئی ہفتوں تک موجود رہتی ہے جبکہ کیلشیئم اور فاسفورس کو استعمال کرکے سطح پر نئے کرسٹلز کی نشوونما کو متحرک کرتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ اگر اس جیل کو ایک بار دانتوں پر لگایا جائے تو یہ کئی ہفتوں تک برقرار رہتا ہے مگر اس کے دورانیے کا تعین لوگوں کی عادات پر ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دانتوں کی سطح ایک منفرد اسٹرکچر ہے جو زندگی بھر دانتوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جیل سے متحرک ہونے والا عمل اس سطح کے لیے بھی مؤثر ثابت ہوتا ہے جس کو بہت زیادہ نقصان پہنچ چکا ہو۔

محققین کے مطابق وہ اس جیل کی تیاری کے لیے 16 سال سے کام کر رہے تھے اور اس کا استعمال بہت آسان ہے جبکہ یہ لوگوں کے محفوظ بھی ہے۔

انہیں توقع ہے کہ اس جیل پر مبنی اولین پراڈکٹ 2026 میں کلینیکل ٹرائل کے بعد متعارف کرائی جاسکتی ہے۔

اس جیل پر ہونے والی تحقیق کے نتائج جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہوئی۔
مزید پڑھیں:کراچی: سندھی گلوکار کے گھر چوری کی دو وارداتیں، کنستر میں رکھے 70 لاکھ روپے غائب

یہ بھی پڑھیں