نیو دہلی (اوصاف نیوز)بھارت میں کھانسی کا شربت پینے سے حالیہ مہینوں میں کئی بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں، اور اس افسوس ناک واقعے نے ملک کے دوا سازی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق تمل ناڈو کے ہیلتھ اور ڈرگ سیفٹی افسران کا خیال ہے کہ شربت میں استعمال ہونے والا پروپیلین گلیکول ممکنہ طور پر صنعتی کیمیکل ڈائی ایتھیلین گلیکول سے آلودہ تھا۔یہ وہی مادہ ہے جو فارماسیوٹیکل گریڈ کے بجائے عام طور پر صنعتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے اور غلط استعمال کی صورت میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیقات سے پتا چلا کہ سریسن فارما نے یہ کیمیکل سن رائز بایوٹیک کے ذریعے جنکشال اروما نامی سپلائر سے خریدا تھا۔ لیبارٹری تجزیوں میں شربت میں صنعتی زہر کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد حکام اس بات کی چھان بین کر رہے ہیں کہ یہ کیمیکل فعال اجزا کو حل کرنے والے محلول میں کس طرح شامل ہوا۔واقعے کے بعد سریسن فارما کا مینوفیکچرنگ لائسنس منسوخ کر دیا گیا اور کمپنی کے بانی جی رنگاناتھن کو گرفتار کر لیا گیا۔
مزید پڑھیں: سرزمین بلوچستان اور فکرِ اقبالؒ، امت کے عہد نو کی بشارت
