Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

پاکستان میں نیا خطرناک وائرس؛ سپر فلو وبا بن گیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں “سپر فلو” کے خطرناک وائرس کے پھیلنے کی تصدیق ہو گئی۔ یہ وائرس وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے اور ابھی سردی کے موسم کی ابتدا ہے۔ سردی بڑھنے کے ساتھ وبا کے پھیلاؤ میں اضافہ کا خطرہ ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کے حکام نےاکستان میں سپر فلو وائرس کی تصدیق کی ہے۔ یہ خطرناک وائرس اس واقت کئی ملکوں میں پھیل رہا ہے۔ اب یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ پاکستان بھی اس خطرناک فلو وائرس کا نشانہ بنا ہوا ہے۔اس وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں انفلوئنزا کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب تایا جا رہا ہے کہ یہ والا وائرس پہلے فلو پھیلانے والے وائرس سے مختلف ہے، اس کے زیادہ تیز رفتار پھیلاؤ کی وجہ سے اسے سپر فلو وائرس کہا جا رہا ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH)، اسلام آباد کے حکام کے مطابق، پاکستان میں انفلوئنزا A (H3N2) کی تیزی سے پھیلنے والی تبدیل شدہ ذیلی قسم کی شناخت کی گئی ہے، جسے سبکلیڈ-K کہا جا رہا ہے۔

وائرس کے پھیلاؤ کی تصدیق کرنے کے ساتھ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے حکام نے کہا ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ موسمی فلو کی ویکسین شدید بیماری اور ہسپتال میں داخل ہونے سے تحفظ فراہم کرتی رہتی ہے۔

سپر فلو وبا بن چکا ہے

NIH حکام نے تصدیق کی کہ حالیہ ہفتوں میں تجزیہ کیے گئے انفلوئنزا کے 10 سے 20 فیصد نمونے H3N2 کے نکلے، ملک میں فلو کے وائرس کی متعدد ذیلی قسمیں گردش کر رہی ہیں، بشمول ایک تبدیل شدہ ذیلی کلیڈ-K۔ حکام کے مطابق یہ صورتحال عالمی رجحانات کی عکاسی کرتی ہے۔

انفلوئنزا جس کو عام زبان میں فلو کہا جاتا ہے اس کی ویکسین کے ضمن مین مسئلہ یہ ہے کہ فلو کا وائرس نت نئی شکلیں اختیار کرتا رہتا ہے اور جس وائرس کو روکنے کی ویکسین بنائی جاتی ہے وہ تمام ویرئینٹس پر یکساں مؤثر نہیں ہوتا، یہ ہی مسئلہ اب سپر فلو کے ساتھ بھی پیش آ رہا ہے۔

متعدی امراض کے ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت فلو کی وبا کے مرحلے میں ہے اور موسم بدلنے کے ساتھ ٹمپریچر میں کمی سے فلو کی وبا زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، فلو کے نئے سٹرین A(H3N2)، کے ذیلی کلیڈ ‘K’ نے انگلینڈ اور کئی یورپی ممالک میں فلو کے کیسز میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔

برطانوی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ روزانہ 2,600 سے زائد مریض ہسپتالوں میں داخل ہو رہے ہیں، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا کہ نیا وائرس زیادہ خطرناک نہیں ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ یہ معمول سے پہلے پھیل گیا ہے۔ بچے اور بوڑھے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، یورپی ملکوں میں اس وائرس کی وجہ سے کچھ سکول عارضی طور پر بند ہیں یا کم اوقات میں کام کر رہے ہیں۔

سپر فلو کی احتیاطی تدبیریں

عام تصور یہ ہے کہ پرہجوم جگہوں پر ماسک پہننا، بار بار ہاتھ دھونا، اور فلو جیسی علامات والے لوگوں سے قریبی رابطے سے گریز کرنا فلو کے وائرس سے بچاتا ہے، خاص طور سے جن لوگوں کو ہر سال فلو ہو جاتا ہے، ان کو زیادہ احتیاط کرنا چاہئے۔

“سپر فلو” کی علامات میں سر درد، ناک بہنا اور بخار شامل ہیں۔

اس کی احتیاطی تدابیر وہی ہیں جو عام فلو سے بچنے کے لئے ہوئی ہیں۔ بچوں اور بوڑھوں کو دستیاب ویکسین لگائیں، بیمار افراد کو اسکول یا دفاتر میں بھیجنے سے گریز کریں، جسمانی رابطہ کم کریں، اور سماجی اجتماعات کو محدود کریں۔

مغربی ممالک اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بچوں اور بوڑھوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو بھی ویکسین دے رہے ہیں۔ پاکستان مین فلو کی ویکسین لینے کا رجحان انتہائی کم ہے۔

مزیدپڑھیں:بنگلہ دیش پولیس نے انتخابی امیدوار پر حملہ آور شخص کی تصویر جاری کر دی

یہ بھی پڑھیں