Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

گھر گھر پرفیوم فروخت کرنیوالے ویویک کامیاب بزنس مین کیسے بنے؟

ممبئی(ویب ڈیسک)وویک اوبرائے نے نہ صرف کئی کامیاب بالی وڈ فلموں کے ذریعے اداکاری میں اپنا لوہا منوایا ہے بلکہ وہ اپنی کاروباری صلاحیتوں کے لیے بھی معروف ہیں۔سال 2002 میں فلم ساتھیا سے فلمی دنیا میں قدم رکھنے والے ویویک اوبرائے نے فلمی دنیا کے دوری کے بعد رئیل اسٹیٹ میں اپنے منصوبوں کے علاوہ کئی کمپنیاں قائم کیں اور 30 فرموں میں سرمایہ کاری کی۔حال ہی میں اداکار نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے اپنے کاروباری سفر کے بارے میں بات کی اور کاروباری سمجھ بوجھ کے لیے اپنے والد، اداکار-سیاستدان سریش اوبرائے کا شکریہ ادا کیا۔اداکار نے بتایا کہ میری عمر تقریباً 10 سال تھی جب میرے والد نے مجھ سے کہا کہ ہم ایک مہینے بعد چھٹی پر جائیں گے لیکن اس سے پہلے وہ مجھے پہلے ان چار ہفتوں میں کچھ سکھائیں گے۔

ویویک نے بتایا کہ انہوں نے مجھ سے ایک ڈائری رکھنے اور ان پرفیومز کی انوینٹری کا حساب رکھنے کرنے کو کہا جو انہوں نے میرے لیے خریدے تھا۔

اداکار کے مطابق والد نے انہیں بتایا کہ میں جو کچھ بھی اس کی مقررہ قیمت سے زیادہ فروخت کرنے میں کامیاب ہوا وہ میرا منافع ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اصل میں ان کے والد کا انہیں اکاؤنٹنگ، سیلز اور کاروباری تصورات کے بارے میں سکھانے کا طریقہ تھا۔

اداکار نے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ‘میں اپنی سائیکل پرانوینٹری اور سامان سے بھرا اپنا اسکول کا بیگ لے کر گھر گھر گیا، میں نے غلطیاں کیں لیکن بہت کچھ سیکھا اور یہ میں ہر سال کرتا تھا’۔

انہوں نے بتایا کہ جب میں 15 سال کا تھا تو میں نے اپنے آئیڈیاز بنانا شروع کردیے تھے اور اسٹاک مارکیٹ میں قدم رکھ دیا تھا،میں نے چھوٹے کاروباری منصوبوں کو آگے بڑھانا شروع کیا’۔

ویویک نے بتایا کہ انہوں نے 19 سال کی عمر میں ایک ٹیک کمپنی کی بنیاد رکھی اور 22 سال کی عمر میں اسے منافع میں فروخت کیا، یہ وہ وقت تھا جب مجھے احساس ہوا ایک کمپنی قائم کر کے اسے ملٹی نیشنل کارپوریشن کو فروخت کر کے اپنے اور سرمایہ کاروں کے لیے پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔

اداکار نے یہ بھی بتایا کہ جب ان کے فلمی کیریئر کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا تو ان کے کاروباری سفر نے ان کا ساتھ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو اس قابل اور پر اعتماد محسوس کیا کہ میں خود سے کچھ کر سکتا ہوں، یہی وہ مقام تھا جب میرا سفر دوبارہ شروع ہوا’۔اپنے کیے گئے ہر کام کے لیے اپنے بھرپور جذبے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ میری طرف سے سخت محنت میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے، ہمیں 100 فیصد دینا ہوگا۔ جب ہم ایسا کرتے ہیں تو نتیجہ زیادہ تر اچھا ہوگا: چاہے وہ فلموں میں ہو، کاروبار میں، انسان دوستی یا محبت میں’۔ان کا مزید کہنا تھا کہ’ کبھی کبھی آپ کام کے بوجھ کی وجہ سے تھک جاتے ہیں، لیکن جب ٹیم اور لوگ بہت اچھے ہوتے ہیں، تو آپ ان لوگوں میں شامل ہوتے اور اپنا حصہ ڈالتے ہیں اور وہ آپ کے وژن کو سمجھتے ہیں۔
مزیدپڑھیں‌:چیمپئنز ون ڈے کپ: ٹیم کی شکست پر کپتان خوش

یہ بھی پڑھیں